سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(127) زبردستی خلع

  • 14733
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-15
  • مشاہدات : 666

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے بھائیوں نے میرے خاوند سے اپنی ذاتی رنجش کی بنا پر مجھے اس سے الگ کرنے کے لئے خلع نامہ لکھ کر مجھ سے زبردستی دستخط کروالئے اور ساتھ تین مرتبہ طلاق کا لفظ بھی لکھا ۔ جسے پڑھ کر اُس نے مجھے طلاق دے دی۔ میں نے طلاق کے ایک ماہ بعد رابطہ کی کوشش کی لیکن نہ ہو سکا۔ اب تقریباً۵ ماہ بعد ہم ملے اکھٹے رہنا چاہا تو معلوم ہوا کہ طلاق ہو گئی ہے۔ اب میرے سسر ہمارے درمیان رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جبکہ میرا خاوند بھی ان کی بات مانتا ہے۔ ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا حل بتائیں کہ جس سے ہمارے سابقہ رشتے جڑ جائیں ساتھ یہ بھی وضاحت کردیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے ملتے ہیں باہر اکھٹے گھومتے پھرتے بھی ہیں کیا یہ ٹھیک ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورتِ مسئولہ میں عورت کو طلاق رجعی ہوئی ہے جس میں خاوند کو عدت گزرنے سے پہلے رجوع کرنے کا حق تھا لیکن رجوع نہ کر سکا۔ اب خاوند کو نیا نکاح کرنے کی اجازت ہے۔ اور وہ نیا نکاح کر کے اپنی مطلقہ بیوی کو اپنے گھر بسا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّـهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ... ٢٢٨﴾...البقرة

            ''اور مطلقہ عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اللہ نے جو کچھ ان کے پیٹوں میں پیدا کر رکھا ہے۔ اس کو نہ چھپا دیں اگر وہ اللہ اور قیامت کے دن ایمان رکھتی ہیں اور ان کے خاوندوں کو اس مدت کے اندر لوٹانے کا حق ہے۔''(البقرہ : ۲۲۸)

دوسری آیت کریمہ میں ہے:

﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿٢٣٢﴾... البقرة

            ''کہ جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے دو پس وہ اپنی عدت پوری کر چکی ہیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکا کرو جب وہ دستور کے مطابق آپس میں راضی ہو جائیں۔ ا س معاملہ کی تم میں سے اس کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ حکم تمہارے لئے بڑا ستھرا اور بڑا ہی پاکیزہ ہے ۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔''(البقرہ : ۲۳۲)

            اس آیت کریمہ میں عورتوں کے ولیوں کو خطاب ہے کہ ان کا اپنی عورتوں کو دوبارہ اپنے خاوندوں کے نکاح میں جانے سے نہ روکنا بہت ہی زیادہ مفید ہے۔ اگرچہ یہ خطاب عورتوں کے اولیاء کو ہے مگر اللہ تعالیٰ کا س مسئلہ میں اندازِ بیان اس چیز پر دلالت کرتا ہے کہ میاں بیوی اگر شرعی حدود کے اندر اکھٹا رہنے کے لئے دوبارہ اس سابقہ تعلق کو دوبارہ استوار کرنا چاہیں تو کوئی حرج نہیں۔ صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ معقول بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو طلاق ہو گئی۔ عدت گزرنے کے بعد دوبارہ نکاح کے پیغامات آنا شروع ہوئے تو پہلے خاوند نے پھر نکاح کا پیغام بھیج دیا۔ لیکن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کا دوبارہ نکاح اسی شخص کے ساتھ نکاح کرنے سے انکار کر دیا اور قسم اٹھائی کہ اس سے نکاح نہیں کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیات نازل فرما دی۔ انہوں نے جب یہ آیت سنی تو دوبارہ اسی کے ساتھ نکاح پر آمادہ ہو گئے اور اپنی قسم کا کفارہ دیا۔ یہ ہے اطاعت کا جذبہ اور مومن ہونے کی علامت جسے اس صحابی رسول  صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنایا۔ قطعاً اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ اس لئے طرفین کو چاہیے کہ اگر خاوند بیوی دوبارہ نکاح پر متفق ہو گئے ہیں تو اپنی انا کا مسئلہ بنانے اور دوبارہ اکھٹا ہونے میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے ان سے تعاون کیاجائے۔

            باقی عورت کا طلاق اور عدت کے بھی گزر جانے کے بعد نیا نکاح کرنے سے پہلے اپنے خاوند (مرد) کے ساتھ گھومنا پھرنا قطعاً جائز نہیں ہے۔ کیونکہ پہلے اگرچہ وہ میاں بیوی تھے، اب ان کا وہ تعلق ختم ہے اور نیا نکاح ہونے تک دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ خلوت اختیار کرنا حرام ہے۔ حدیث میں ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ''کوئی مرد کسی اجنبی عورت سے علیحدگی میں نہ ملے کیونکہ ان کے ساتھ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ