سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

مسنون طریقہ طلاق

  • 14726
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-13
  • مشاہدات : 890

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس سے قبل کہ سائل کے سوالات کا مفسل جواب تحریر کیا جائے ہم دوبارہ طلاق کا صحیح طریقہ ایک بار پھر بیان کرتے ہیں:
   اسلام کے طریقہ طلاق میں مسلم مرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ تین طلاقیں تین مرتبہ اس طریقے سے دے کہ حالتِ طہر جس میں اس نے مجامعت نہیں کی، میں ایک طلاق دے اور بیوی کو اسی حالت میں چھوڑ دے اور یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ اگر خاوند دورانِ عدت اسے رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے لیکن اگر وہ رجوع نہ کرے اور عدت ختم ہو جائے تو پھر وہ نئے نکاح کے ساتھ اس کو واپس لا سکتا ہے اور اگر شوہر ضرورت نہ سمجھے تو عورت کسی اور مرد کے ساتھ نکاح کرنے کی مجاز ہے اور اگر پہلی طلاق کے بعد شوہر نے اسے دوبارہ اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے اور صلح صفائی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو وہ بعد عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا حق ہے اور عدت گزر جانے کے بعد اگر رکھنا چاہے تو تجدید نکاح ہو گا۔ لیکن اگر تیسری طلاق بھی دے دی تو پھر یہ عورت قطعی طور پر اس خاوند کے لئے حرام ہو جائے گی۔ اب رجوع کا حق ختم ہے۔ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کر سکتی ہے اور یہ نکاح صحیح شرعی طریقے کے مطابق مستقل بسنے کی نیت سے ہو گا نہ کہ شوہر اوّل کے لئے حلال ہونے کی غرض سے۔۔۔اب اگر اس کا یہ خاوند بھی فوت ہو گیا یا اس نے گھریلو ناچاقی کی بنا پر اسے طلاق دے دی تو یہ عورت اگر دوبارہ شوہر اوّل کی طرف لوٹنا چاہے تو عدت کے بعد اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اور ایسا واقعہ ہزاروں میں سے شاید کوئی ایک آدھ ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کا ذکر سورة البقرة میں فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ... ٢٢٩﴾... البقرة
            ''طلاق (جس کے بعد خاوند رجوع کر سکتا ہے) دوبار ہے۔ پھر دو طلاقوں کے بعد یا تو دستور کے موافق اپنی بیوی کو رہنے دے یا اچھی طرح سے رخصت کر دے۔''
            سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھااور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایات کے بموجب ابتداء ہجرت میں جاہلی دستور کے مطابق مرد عورتوں کو کئی کئی بار طلاق دیتے اور عدت کے اندر رجوع کرتے رہتے تھے۔ مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہوتا تھااس صورتحال کو روکنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ رجعی طلاق (جس میں رجوع کی گنجائش ہو) زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ہے۔ اس کے بعد (امساک بمعروف)یعنی یا تو عدت کے اندر رجوع کرنا ہے اور یا (تسریح یا حسان)یعنی حسن سلوک کے ساتھ تیسری طلاق دینا ہے۔ یہ تفسیر مرفوعاً مروی ہے اور ابنِ جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے تو (او تسریح یا حسان)سے مراد لی ہے کہ دو طلاق کے بعد رجوع نہ کرے حتیٰ کہ عدت گزارنے کے بعد وہ عورت کو بخود اس سے الگ ہو جائے۔ (ابنِ جریر ، ابنِ کثیر)
            سائل مذکور لکھتا ہے کہ:
            ''یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب پہلی طلاق کے بعد تین حیض کی مدت ختم ہو جائے گی تو اب عورت آزاد ہو گی۔ وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ مرد کو رجوع کا حق اب ختم ہو گیا۔ ہاں البتہ دونوں عدت کے ختم ہونے کے بعد نئے سرے سے پھر ملنا چاہیں تو نیانکاح کر کے مل سکتے ہیں لیکن اب دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہے۔ صرف خاوند کی رضا مندی سے نیا نکاح نہ ہو سکے گا۔''
            اوپر والے پیراگراف کے حق میں آپ نے دلیل کے طور پر نہ کوئی قرآن کی آیت لکھی ہے اور نہ ہی کوئی حدیث مبارکہ اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کا کوئی واقعہ درج کیا ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اس سے قبل کہ سائل کے سوالات کا مفسل جواب تحریر کیا جائے ہم دوبارہ طلاق کا صحیح طریقہ ایک بار پھر بیان کرتے ہیں:

   اسلام کے طریقہ طلاق میں مسلم مرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ تین طلاقیں تین مرتبہ اس طریقے سے دے کہ حالتِ طہر جس میں اس نے مجامعت نہیں کی، میں ایک طلاق دے اور بیوی کو اسی حالت میں چھوڑ دے اور یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ اگر خاوند دورانِ عدت اسے رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے لیکن اگر وہ رجوع نہ کرے اور عدت ختم ہو جائے تو پھر وہ نئے نکاح کے ساتھ اس کو واپس لا سکتا ہے اور اگر شوہر ضرورت نہ سمجھے تو عورت کسی اور مرد کے ساتھ نکاح کرنے کی مجاز ہے اور اگر پہلی طلاق کے بعد شوہر نے اسے دوبارہ اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے اور صلح صفائی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو وہ بعد عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا حق ہے اور عدت گزر جانے کے بعد اگر رکھنا چاہے تو تجدید نکاح ہو گا۔ لیکن اگر تیسری طلاق بھی دے دی تو پھر یہ عورت قطعی طور پر اس خاوند کے لئے حرام ہو جائے گی۔ اب رجوع کا حق ختم ہے۔ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کر سکتی ہے اور یہ نکاح صحیح شرعی طریقے کے مطابق مستقل بسنے کی نیت سے ہو گا نہ کہ شوہر اوّل کے لئے حلال ہونے کی غرض سے۔۔۔اب اگر اس کا یہ خاوند بھی فوت ہو گیا یا اس نے گھریلو ناچاقی کی بنا پر اسے طلاق دے دی تو یہ عورت اگر دوبارہ شوہر اوّل کی طرف لوٹنا چاہے تو عدت کے بعد اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اور ایسا واقعہ ہزاروں میں سے شاید کوئی ایک آدھ ہوا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس طریقہ کا ذکر سورة البقرة میں فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ... ٢٢٩﴾... البقرة

            ''طلاق (جس کے بعد خاوند رجوع کر سکتا ہے) دوبار ہے۔ پھر دو طلاقوں کے بعد یا تو دستور کے موافق اپنی بیوی کو رہنے دے یا اچھی طرح سے رخصت کر دے۔''

            سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھااور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی روایات کے بموجب ابتداء ہجرت میں جاہلی دستور کے مطابق مرد عورتوں کو کئی کئی بار طلاق دیتے اور عدت کے اندر رجوع کرتے رہتے تھے۔ مقصد بیوی کو تنگ کرنا ہوتا تھااس صورتحال کو روکنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ رجعی طلاق (جس میں رجوع کی گنجائش ہو) زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ ہے۔ اس کے بعد (امساک بمعروف)یعنی یا تو عدت کے اندر رجوع کرنا ہے اور یا (تسریح یا حسان)یعنی حسن سلوک کے ساتھ تیسری طلاق دینا ہے۔ یہ تفسیر مرفوعاً مروی ہے اور ابنِ جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے اور بعض نے تو (او تسریح یا حسان)سے مراد لی ہے کہ دو طلاق کے بعد رجوع نہ کرے حتیٰ کہ عدت گزارنے کے بعد وہ عورت کو بخود اس سے الگ ہو جائے۔ (ابنِ جریر ، ابنِ کثیر)

            سائل مذکور لکھتا ہے کہ:

            ''یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب پہلی طلاق کے بعد تین حیض کی مدت ختم ہو جائے گی تو اب عورت آزاد ہو گی۔ وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ مرد کو رجوع کا حق اب ختم ہو گیا۔ ہاں البتہ دونوں عدت کے ختم ہونے کے بعد نئے سرے سے پھر ملنا چاہیں تو نیانکاح کر کے مل سکتے ہیں لیکن اب دونوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہے۔ صرف خاوند کی رضا مندی سے نیا نکاح نہ ہو سکے گا۔''

            اوپر والے پیراگراف کے حق میں آپ نے دلیل کے طور پر نہ کوئی قرآن کی آیت لکھی ہے اور نہ ہی کوئی حدیث مبارکہ اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور کا کوئی واقعہ درج کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال کا جواب قرآن مجید میں سورة البقرة کے اندر موجود ہے۔ ملاحظہ کیجئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ... ٢٣٢﴾...البقرۃ

  ''اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر ان کی عدت پوری ہو جائے تو ان کو (اگلے) خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکو۔ اگر دستور کے موافق آپس میں رضا مندی ہو جائے۔''(البقرۃ 232)

  اس آیت کریمہ سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ طلاق رجعی جو دو مرتبہ ہے، اس پیریڈ میں اگر عورت کی عدت مکمل ہو چکی ہو اور وہ مرد و عورت دوبارہ آپس میں رضا مندی کے ساتھ بسنا چاہیں تو انہیں نکاح کرنے سے منع نہیں کرنا چاہیے۔ اب اس آیت کریمہ کا شان نزول بھی ملاحظہ فرما لیں تا کہ آپ کی مزید تشفی ہو جائے:

(( عن الحسن  ان معقل بن يسار زوج  اخته  رجلا فطلقها تطليقة فبانت  منه ثم  جاء يخطبها لا والله  لا أزوجكها  قال و كانت  المرأة  قد هويت  أن  تراجعه  فأنزل الله  عز و جل ---------------- إلى آخر الأية  فقال نغم أزوجكها.))

 ''سیدنا حسن بصری سے مروی ہے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی کے ساتھ کیا ۔ اس نے اسے ایک طلاق دے دی (عدت گزر گئی) تو معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن اس سے علیحدہ ہو گئی۔ پھر وہ پیغام نکاح لے کر آیا تو معقل نے انکار کیا اور کہا میں نے اپنی معزز بہن کا نکاح تجھے دیا تھا۔ تو نے اسے طلاق دے دی اب تو پھر پیغام نکاح لے کر آ گیا ہے۔ اللہ کی قسم اب میں تجھے نکاح کر کے نہیں دوں گا اور معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن لوٹنا چاہتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی یہ آیت اتار دی:  ''جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو ان کو اپنے (پہلے ) خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے مت روکو۔'' اس کے بعد معقل رضی اللہ عنہ نے کہا، ہا ں تجھے نکاح کر دیتا ہوں۔''  (بخاری۵۱۳۱، بیھقی ۱۳۸/۷، المعجم الکبیر للطبرانی۴۶۷/۲۰،الجزء الثالث والعشرین من حدیث ابی الطاسر القاضی محمد بن احمد الزسلی ص۲۹، رقم الحدیث۶۵واللفظ لہ)

  مذکورہ بالا حدیث صحیح کے واقعہ سے معلوم ہوا کہ جب عورت کو اس کا شوہر ایک طلاق دے دیتا ہے اور خاوند عدت کے اندررجوع نہیں کرتا تو اختتام عدت کے بعد اگر وہ مرد اور عورت باہم رضامندی سے رہنا چاہتے ہوں تو تجدید نکاح سے دوبارہ اپنا گھر آباد کر سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسری مرتبہ کبھی زندگی میں تعلقات کی کشیدگی ہو گئی اور مرد نے اپنی منکوحہ کو طلاق دے دی تو پھر اسی طرح عدت کے اندر رجوع کا حق ہے اور اختتام عدت کے بعد نئے نکاح سے جمع ہو سکرتفگطبتے ہیں۔ یہ دو حق رجعی اللہ تعالیٰ نے (الطّلاق مرّتٰن)میں ذکر کئے ہیں پھر (فان طللّقھا فلا تجل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجا غیرہ)میں تیسری مرتبہ طلاق کے بعد یہ حق ختم کر دیا گیا ہے۔ مفسرین نے اس سے اس بات کی توضیح کی کہ اکھٹی تین طلاقیں دینے سے تینوں واقعی نہیں ہوتیں بلکہ ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے۔ حنفی حضرات جو اکھٹی تین طلاقوں کو تین ہی نافذ کرتے ہیں اور پھر اگلی صورت میں جو حلالہ والی بتاتے ہیں ، یہ قابل غور ہے اور مطلوب ہے۔

تین طلاقوں کے بعد۔۔۔۔

  قرآن مجید نے تین طلاقیں (وقفہ بعد وقدہ)واقع ہونے کے بعد جو بتایا ہے کہ اب وہ عورت کسی دوسرے مرد سے جب تک نکاح نہ کر لے ، وہ پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوتی۔ اس کی تفسیر تمام مفسرین نے یہی لکھا ہے کہ جس طرح پہلے خاوند کے ساتھ مقصد نکاح کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقل بسنے اور گھر کی آبادی کی نیت سے نکاح کیا تھا، اسی طرح دوسرے مرد سے بھی مستقل بسنے کی نیت سے نکاح ہو نہ کہ نکاح سے پہلے ہی یہ طے کر لیا جائے کہ ایک دو راتوں بعد اس خاوند نے مجھے طلاق دے دینی ہے۔

 ہاں پھر وہ بھی اگر اپنی مرضی سے طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو وہ عورت اپنے پہلے خاوند کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہو تو کر سکتی ہے۔ اس صورت کو حلالہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اسی طرح نکاح صحیح کہلائے گا جس طرح پہلے خاوند کے ساتھ نکاح تھا۔ موجودہ حنفی حضرات آج کل اپنے دوسرے طریقے سے چشم پوشی کرتے ہوئے اسے حلالہ قرار دے رہے ہیں ۔ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لعن الله المحلل  والمحلل له .))

 ''حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے، دونوں پر اللہ کی لعنت ہو''۔

   (مسند احمد۲/۳۲۳، بیہقی۷/۲۰۸، نسائی۶/۱۴۹، ترمذی۱۱۲۰،دارمی۲/۱۹۸، ابودائود۲۰۷۶٠٧٦)

  اسی طرح فرمایا حلالہ کرنے والا اُدھار مانگے ہوئے سانڈھ کی طرح ہے۔ (ابنِ ماجہ۱۹۳۶، مستدرک حاکم۲/۱۹۸، بیہقی۷/۲۰۸)

   اس مُحلّل (حلالہ کرنے والے )کی تشریح ائمہ لغت اور شارحین حدیث رحمۃ اللہ علیہم کے حوالے سے ملاحظہ کیجئے اور اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ حلالہ کس آفت و مصیبت کا نام ہے۔ حدیث کی لغت کی معروف کتاب الھایہ فی غریب الحدیث والاثر ۱/۴۳۱ پر مرقوم ہے:

((  هو  أن  يطلق الرجل امرأته  ثلاثا  فيتزوجها  رجل  آخر على  شريطة  أن يطلقها  بعد  و طئها لتحل  لزوجها الأول.))

 ''حلالہ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے۔ پھر دوسرا آدمی اس عورت کے ساتھ اس شرط پر نکاح کرے کہ وہ اس کے ساتھ وطی کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے تا کہ پہلے کے لئے حلال ہو جائے۔''

احناف کی فقہی اصطلاحات پر شائع شدہ کتاب القاموس الفقھی ص۱۰۰٠مطبوعہ ادارہ القرآن کراچی میں مُحلّل  کی تعریف یہ لکھی ہے کہ:

(( المحلل : متزوج  المطلقة  ثلاثا  لتحل للزوج الأول  و فى  الحديث  الشريف لعن الله المحلل و المحلل له .))

 مُحلّل سے مراد حلالہ کرنے والا وہ شخص ہے جو مطلقہ ثلاثہ کے ساتھ اس لئے نکاح کرے تا کہ وہ پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جائے اور حدیث شریف میں وارد ہے حلالہ کرنے والا اور جس کے لئے حلالہ کیا جائے ان دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔''

 یہی معنی لغت کی مشہور کتب القامو س المحیط٣٧١٣ اور ا لمعجم الوسیط ص١٩٤ پر بھی موجود ہے۔

 حلالہ کی تشریح احناف کے مشہور امام اور امام ابو حنیفہ کے شاگرد محمد بن حسن الشیبانی کی زبانی ملاحظہ کیجئے۔ محمد بن حسن شیبانی اپنی کتاب الاثار رقم ٨٧٨ پر مُحلّل اورمُحلّل لہکی توضیح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

" فالرجل يطلق امرأته  ثلاثا  فيسئال  رجلا  أن  يتزوجها  ليحللها له ."

 ''مُحلّل (حلالہ کرنے والا) اور مُحلّل له(جس کے لئے حلالہ کیا جائے) کا بیان یہ ہے کہ ایک مرد اپنی عورت کو تین طلاقیں دے ۔ پھر چاہے کہ اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کر دے تا کہ وہ اس کو اس کے لئے حلال کر دے۔'' (ص۳۷۹،مترجم ابو الفتح عزیزی، مطبوعہ سعید اینڈ کمپنی کراچی)

یہی معنی اور مفہوم شارح حدیث امام بغوی شرح السنہ ۱۰۱/۹، حافظ ابنِ حجر عسقلانی التلخیص الحبیر ۳/۱۷۱٣، امام ابنِ حزم المحلی، امام عبدالرحمن مبارکپوری تحفہ الاحوذی ۲/۱۸۵  اور علامہ معلّی یمانی سبل السلام میں تحریر فرماتے ہیں۔ طوالت کے خوف سے عبارات درج نہیں کر رہے۔ یہ ہے وہ حلالہ جسے فقہ حنفی میں مختلف حیلوں اور بہانوں سے روا رکھا گیا۔

کیا پہلے سے طلاق لینے کی فاسد شرط کے ساتھ نکاح جائز ہو سکتا ہے؟

حلالہ کے متعلق۱۴ جنوری۱۹۹۶ء کے جنگ اخبار میں ایک حنفی مولوی محمد صدیق ہزاروی کا مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے امام ابو حنیفہ کا موقف یہ لکھا ہے کہ:

 ''اختلاف کی صورت میں یہ ہے کہ اگر اس شرط پر نکاح کیا جائے کہ دوسرا خاوند اسے طلاق دے دے گا تو کیا یہ نکاح ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ شرط بے کار ہو گی یا نکاح ہی نہیں ہو گا۔ اب اگر یہ نکاح صحیح قرار پائے تو طلاق کے بعد عورت کا پہلے خاوند سے نکاح جائز ہوگا اور اگر یہ نکاح صحیح قرار نہیں پاتا تو عورت پہلے خاوند کے لئے بدستور حرام رہے گی۔ سیدنا امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہو گا کیونکہ فاسد شرائط سے نکاح کے انعقاد میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔''

  یہ عبارت من و عن ہم نے نقل کر دی ہے ۔ اب اس کی وضاحت ملاحظہ کیجئے۔ مولوی صدیق ہزاروی نے اس عبارت میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلت (عورت کو حلال کروانے ) کی شرط پر نکاح صحیح ہو گا اور یہی بات فقہ حنفی کی معتبر کتب کنزالدقائق ص۱۲۶، مع فتح القدیر ۴/۳۴'۳۵ اور دیگر کتب فقہ میں موجود ہے۔ یہ تو آپ نے پیچھے پڑھ لیا کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرما ن کے مطابق حلالہ کرنے والا اور کروانے والا ملعون ہیں اور حلالہ کرنے والا اُدھار سانڈ کی مانند ہے۔ یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ نکاح حلالہ صحیح نہیں بلکہ نکاح فاسد ہے۔ صاحب سبل السلام راقم ہیں:

" ألحديث  يدل على تحريم  التحليل لأنه  لا يكون  اللعن  إلا على  فاعل المحرم  و كل محرم منهى  عنه  و النهى  يقتضى  الفساد"

مذکورہ حدیث حلالہ کی حرمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس لئے کہ لعنت کا اطلاق فعل حرام کے مرتکب پر ہی ہوتا ہے اور ہر حرام چیز پر شریعت میں نہی وارد ہے اور نہی فساد کا تقاضا ہے۔''

 لہٰذا جب حلالہ حرام اور منہی عنہ ہے ، اس لئے یہ نکاح فاسد قرار پاتا ہے ۔ یہی مفہوم دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح حلالہ نکاح فاسد ہے ، زنا اور بدکاری ہے، نکاح صحیح نہیں ہے۔

سیرتِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے

(( جاء  رجل إلى ابن عمر  رضى الله عنه  فسئاله  عن رجل  طلق امرأته  ثلاثا فتزوجها أخ  له عن غير  موامرة  منه  ليحلها  لأخيه  هل  تحل  للأول  قال لا إلا نكاح  رغبة  كنا نعد هذا سفاحا على  عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم .))           

''ایک آدمی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ۔پھر اس (طلاق دینے والے آدمی) کے بھائی نے اس کے مشورے کے بغیر اس سے اس لئے نکاح کر لیا تا کہ وہ اس عورت کو اپنے بھائی کے لئے حلال کر دے۔ کیا یہ پہلے کے لئے حلال ہو سکتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صحیح نکاح کے بغیر یہ حلال نہیں ہو سکتی ہم اس طریقے کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بدکاری (زنا ) شمار کرتے تھے۔''(مستدرک حاکم ۲۸۰۶،۲/۲۱۷ط، قدیم،۲/۱۹۹، بیہقی۷/۲۰۸، التلخیص الحبیر باب موانع النکاح۱۰۳۹،۳/۱۷۱۔ تحفہ الاحوذی۲/۱۷۵، امام حاکم نے فرمایا۔ یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرط پر ہے اور امام ذہبی نے تلخیص مستدرک میں امام حاکم کی موافقت کی ہے)۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

(( و الله لا أوتى  بمحلل إلا رجمتهما.))

            ''اللہ کی قسم میرے پاس حلالہ کرنے والا اور کروانے والا لایا گیا تو میں دونوں کو سنگسار کر دوں گا۔''

            (مصنف عبدالرزاق ۲/۲۶۵، سن سعید بن منصور ۲/۴۹'۵۰  بیہقی۷/۲۰۸) فتوے سے بھی ہوتی ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے حلالے کی غرض سے نکاح کیا تھا تو انہوں نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور فرمایا ''یہ عورت حلالہ کے ذریعے پہلے خاوند کی طرف نہیں لوٹ سکتی بلکہ ایسے نکاح کے ذریعے لوٹ سکتی ہے جو رغبت کے ساتھ ہو اور دھوکہ دہی کے علاوہ ہو۔'' (بیہقی۷/۲۰۸،۲۰۹)

            اسی طرح عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ:

(( لا يزالان  زاتين  و إن مكثا عشرين  سنة .))

            ''کہ حلالہ کرنے والا مرد و عورت اگرچہ بیس سال اکھٹے رہیں ، وہ زناہی کرتے رہیں گے۔''  (مغنی ابنِ قدامہ۱۰/۵۱)

            مذکورہ بالا احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ نکاح حلالہ صحیح نہیں بلکہ نکاح فاسد ، زنا اور بدکاری ہے ۔ امام ابو حنیفہ سے منسوب یہ موقف کہ ''شرط فاسد ہے لیکن نکاح صحیح ہے اور زوجِ اوّل کے لئے حلال ہو سکتی ہے'' حدیث کے خلاف ، غلط اور باطل ہے۔ اس کے لئے کوئی بھی شرعی دلیل موجود نہیں۔ امام ابو حنیفہ کے دونوں شاگردوں کا موقف بھی امام ابو حنیفہ کے خلاف ہے۔ صاحبین کے نزدیک حلالے والی عورت پہلے خاوند کی طرف نہیں لوٹ سکتی۔ مولوی صدیق ہزاروی نے امام ابو حنیفہ کا موقف صحیح ثابت کرنے کے لئے یہ دلیل پیش کی ہے کہ:

            ''آیت کریمہ میں دوسرے کو مُحلّل قراردیا گیا ہے۔ اب اگر اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور پھر طلاق کی صورت میں عورت پہلے خاوند کے لئے حلال قرار نہ پائے تو اس کو مُحلّل کہنے کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔ یہ نکاح صحیح ہو گا، البتہ یہ لوگ گنہگار ہوں گے۔''

            حقیقت یہ ہے کہ اندھی تقلید کی وجہ سے حنفی علماء جب حیلوں اور بہانوں کے دروازے کھولنے پر آتے ہیں تو پھر قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ کا حلیہ بگاڑتے ہوئے خوف خدا کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی جس آیت کریمہ کی طرف مولوی صدیق ہزاروی نے یہ بات منسوب کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ میں دوسرے آدمی کو مُحلّلکہاہے۔ اگر اس پر غور کرین تو اس صورت کا زیر بحث مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں اورا پنے مضمون میں کئی مفسرین کی تفسیروں کے حوالے سے یہ بات درج کی ہے، وہ اس صورت میں قطعاً مختلف ہے ۔ قرآن مجید کی آیت میں اگر ان کے بقول بشرط تحلیل نکاح کو جائز رکھا گیا ہے تو میرے بھائیو کیا جائز کام کرنے پر لعنت مرتب ہوتی ہے اور انسان گنہگار ہوتا ہے جبکہ مولوی صاحب اقراری ہیں کہ نکاح صحیح ہے البتہ لوگ گنہگار ہوں گے۔

            رہا حدیث میں اللہ کے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دوسرے شخص کو مُحلّل قراردیا تو یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس کے س غلط فعل کرنے سے وہ عوت کو پہلے خاوند کے لئے حلال کر سکتاہے بلکہ اس لئے مُحلّل کہاہے کہ اس نے عورت کو پہلے خاوند کے لئے حلال کرنے کا قصد کیا ہے اور یہی وجہ ہے اسے مُحلّل کہنے کی۔یہی معنی اوپر سیدنا عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بیان کردہ احادیث میں ہے۔ اس بات کو سمجھانے کے لئے میں قرآن کریم پیش کرتا ہوں۔ غور کیجئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

            ''مہینے کا آگے پیچھے کرنا کفر میں زیادتی ہے۔ کافر اس وجہ سے گمراہ ہوتے ہیں ایک سال تو اس مہینہ میں لڑنا حلال کر لیتے ہیں اور ایک سال اس میں لڑنا حرام کرتے ہیں۔''(توبہ : ۳۷)

            اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو (محلّون)اور(محرّمون)قرار دیا ہے تو کیا کفار کے یہ فعل کرنے سے واقعی حلت و حرمت ثابت ہو جاتی تھی یا کہ ان کے زعم باطل میں یہ حلال و حرام سمجھے جاتے تھے۔ جس طرح کفار کو حلال کرنے والے اور حرام کرنے والے کہنے سے کسی چیز کی حلت و حرمت ثابت نہیں ہوتی بلکہ کفر کا غلط مقصد و ارادہ ہی مراد ہوتا ہے، اسی طرح حلالہ کرنے والے کو مُحلّل کہہ دینے سے عورت پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوتی بلکہ اس بان پر اسے مُحلّل کہا کہ اس نے اسے حلال کرنے کا ارادہ قصد کیا ہے۔ یہی مفہوم ائمہ لغت اور شارحین حدیث نے بیان کیا ہے۔ النہایہ فی غریب الحدیث والاثر ص٤٣١١ پر ہے کہ :

" سمى محللا بقصده  إلى التحليل كما  يسمى مشتريا إذا  قصد الشراء"

''اس کو مُحلّل اس لئے کہا گیا کہ اس نے حلال کرنے کا قصد کیا ہے جیسا کہ سودا خریدنے والے کا ارادہ کرنے والے کو مشتری کہا جا تا ہے۔''

 یہی معنی امام بغوی نے شرح السنہ۹/۱۰۱ پر لکھا ہے ۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ما آمن  بالقرآن  من استحل محارمه.))

''جس شخص نے قرآن مجید کی حرام کردہ اشیاء کو حلال گردانا، وہ قرآن پر ایمان نہیں لایا۔''   (ترمذی باب فضائل قرآن)

اس حدیث میں اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی حرام کردہ اشیاء کو حلال کرنے والے کے لئے استحلّ کا لفظ استعمال کیا تو کیا اس کو مستحلّ کہہ دینے سے واقعی قرآن مجید کی حرام کردہ اشیاء حلال قرار پائیں گی۔

مندرجہ بالا توضیح سے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہ کا بیان کیا گیا استدلال لفظ مُحلّل سے باطل ہے۔ حنفی حضرات نے حلالہ کو جائز رکھنے کے لئے طرح طرح کے حیلے اور بہانے بنا رکھے ہیں۔ ملاحظہ کیجئے فقہ حنفی کی کتاب کبیر اور الکفایہ میں ہے:

" و لو خافت  المرأة  أن لا يطلقها  الزوج الثانى  فالحية  أن تقول  زوجت نفسى  على  أن يكون  أمرى  بيدى  كلما  شئت  فيقبل الرجل جاز  النكاح  و صار  الأمر بيدها .))

  ''تین طلاقوں کے بعد جب حلالہ کے لئے عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے کر دیا جائے اور عورت کو یہ ڈر ہو کہ دوسرا خاوند اسے طلاق نہیں دے گا تو اس کا حیلہ یہ ہے کہ عورت کہے میں نے اپنے آپ کو تیرے نکاح میں اس شرط پر دیا کہ طلاق کا معاملہ میرے ہاتھ میں ہو گا، جب بھی میں چاہوں گی تو مدر اس بات کو قبول کر لے تو جائز ہے اور معاملہ عورت کے ہاتھ میں ہوگا۔''

   مذکورہ بالا فقہی نکتہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حنفی حضرات کے ہاں جو مروجہ حلالہ ہے اسے یہ بالکل جائز سمجھتے ہیں اور اس بدکاری کو جاری رکھنے کے لئے طرح طرح کی تاویلیں ان کے ہاں فقہ حنفیہ میں موجود ہیں۔ حنفی حضرات کے ہاں تو حلالہ اگر اس غرض سے کیا جائے کہ حلالہ کرنے والا یہ قصد کر لے کہ یہ عورت میرے پہلے بھائی کے لئے حلال ہو جائے تو اس کی اس نیت پر اسے اجر ملے گا۔ ملاحظہ کیجئے فتح القدیر شرح ہدایہ۴/۳۴، البحر الرائق شرح کنز الدقائق۴/۵۸، فتاویٰ شامی۲/۵۴۰، چلپی حاشیہ شرح وقایہ۲/۵۴۰ اردو دان حضرات ملاحظہ کریں نور الہدایہ ترجمہ شرح وقایہ۲/۴۹ اور تقریری ترمذی اردو محمد تقی عثمانی۳/۳۹۹۔

حنفیوں کا حلالہ اور شیعوں کا متعہ

 حلالہ اور متعہ تقریباً دونوں ایک ہی ہیں جیسا کہ امام بغوی نے شرح السنہ ١٠١٩ پر لکھا ہے اور قاضی ابو یوسف جو فقہ حنفیہ کے سرتاج ہیں ان کے نزدیک حلالہ وقتی نکاح ہے اور فاسد ہے ملاحظہ کیجئے الجو ہرة النیرہ شرح قدوری ١٢٩٢، فتح القدیر ٣٤٤، فتاویٰ شامی ٥٤٠٢ وغیرہ۔ فقہ جعفریہ کے نزدیک متعہ بڑی با برکت چیز ہے اور اس کے بہت سے فضائل ہیں جیسا کہ شیعہ کی تفسیر منہج الصادقین اور برہان المتعہ میں مرقوم ہے کہ ایک بار متعہ کرنے والا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے درجہ پر ، دوبار کرنے والا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے درجہ پر ، تین بار متعہ کرنے والا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درجہ پر اور چار بار متعہ کرنے والا نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے اور حنفیہ کے نزدیک پہلے بھائی کے لئے حلال کرنے کی غرض سے یہ کام کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر پائے گا۔ متعہ اور حلالہ دونوں صورتوں مین طے شدہ مدت کے لئے نام نہاد نکاح کیا جاتا ہے اور دونوں صورتوں میں بدکاری کو خوب فروغ ملتا ہے۔

''لعنت سے مراد رحمت ہے''

اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ایک اور جھوٹی تاویل

 ان حضرات کے حیلے اور بہانوں کے لئے حلالہ کی تاویل فاسد پر مبنی یہ حوالہ بھی مد نظر رکھئے۔ حنفی فقہ کی مشہور کتاب کنزالدقائق کی شرح مستخلص الحقائق صفحہ ١٢٦ پر اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث(( لعن  الله  المحلل  والمحلل له ))  ''حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو''کی تاویل یہ لکھی ہے کہ (( و إن  كان  بشرط  التحليل فيحتمل  أن  أراد  باللعن  الرحمة .)) اگر یہ حدیث بشرط تحلیل کے متعلق ہے تو اس میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کا لفظ بول کر رحمت مراد لی ہو۔ حنفی حضرات کی اس دیدہ دلیری پر غور کیجئے کہ اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کو رحمت میں بدل دیا یعنی حلالہ کرنے والا اور کروانے والا دونوں رحمت کے مستحق ہیں۔ اس منطق کو مان لیا جائے تو پھر اور بھی بہت سے چور دروازے کھل سکتے ہیں۔ مثلاً حدیث میں آتا ہے:

(( لعن  رسول الله صلى الله  عليه  وسلم  أكل  الربا  و موكله  وكاتبه  وشاهد  و قال هم سواء.)) ( مسلم 1598)

   ''رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے ، سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کے گواہ بننے والوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا یہ سارے برابر ہیں۔''

  سود خور حضرات کہہ سکتے ہیں کہ فقہ حنفی ہمیں سود کھانے کی اجازت دیتی ہے۔ ممکن ہے اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ لعنت کا استعمال کیا ہو اور مراد رحمت لی ہو۔ اسی طرح ایک حدیث میں وارد ہے:

(( لعن  رسول الله صلى الله  عليه وسلم  فى  الخمر  عشرة  عاصرها  و معتبرها  و شاربها  و حاملها  والمحمولة  إليها  و ساقيها  و بائعها  و المشترى  لها  والمشترى له.))

''رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کے بارے مٰں دس افراد پر لعنت کی ہے نچوڑنے والا، نچڑوانے والا، پینے والال، اس کو اٹھانے والا، جس کی طرف اسے اٹھایا جائے، شراب پلانے والا، بیچنے والا، اس کو خریدنے والاجس کے لئے اس کو خریدا جائے۔'' (ترمذی)

شرابی حضرات کے لئے نادر موقع ہے کہ کہہ دیں ، ممکن ہے اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ لعنت ہی استعمال کیا ہو۔ مراد رحمت لی ہو اسی طرح دیگر امپور ملعونہ کے بارے میں بھی اس طرح کے احتمالات پیدا کرکے جواز کی گنجائش نکالنے والے نکال سکتے ہیں۔ فقہ حنفیہ میں اس طرح کے بے شمار حیلے موجود ہیں جو مختلف امور محرمہ سر انجام دینے کے لئے بڑے معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ انکے متعلق کسی دوسرے موقع پر گفتگو کریں گے انشاء اللہ ۔

آخر میں صرف اتنی عرض ہے کہ حنفی علماء کتاب وسنت سے کوئی دلیل نہ ہونے کے باوجود صرف اس لئے ایک حرام چیز کو بھی تاویلیں کر کے حلال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ یہ ان کی اندھی تقلید کا تقاضا ہے۔ مقلدوں نے اپنے اپنے اماموں کے ناموں پر فرقے کھڑے کر دیئے اور پھر اپنے امام کی ہر بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے کہ ان کی ہر بات کو صحیح سمجھا جائے۔ یہ مقام امتیوں کو دینے کا نتیجہ ہے کہ آج ہم خرافات میں ڈوب گئے ہیں اور انہی خرافات کی وجہ سے دشمنان اسلام کو مسلمانوں پر طعن کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سڑف کتاب و سنت کے راستے پر چلائے۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ