سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(111) بغیر ولی کے نکاح

  • 14716
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-12
  • مشاہدات : 1422

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کسی عورت کا نکاح بغیر ولی کے ہو سکتا ہے ایک عورت کی ولیہ اس کی ماں ہے لیکن وہ نکاح کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتی تو کیا اس کی ولایت بہن کر سکتی ہے قرآن و سنت سے وضاحت کریں۔  (سہیل ، مری)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح درست نہیں اگر عورتوں کے درمیان مردوں کا واسطہ نہ ہو تو یہ بات عیان ہے کہ ہر کام میں بے راہ روی اور عریانی و فحاشی کا خطرہ ہے۔ مغرب زدہ افراد کی حالت یہ ہے کہ ان کے ہاں مرد و زند کا اختلاط ، کھلے عام ملاقاتیں اور دیگر کئی برائیاں پائی جاتی ہیں اور اسی اختلاط وغیرہ کے باعث لڑکی اور لڑکا گھر سے فرار اختیار کر جاتے ہیں جبکہ لڑکی والوں کے گھر خبر بھی نہیں ہوتی اور وہ عدالت کی طرف رجوع کر کے نکاح کر لیتے ہیں اور جو عورت اس طرح کھلے عام اپنا نکاھ خود جا کر کرتی ہے اور اس میں ولی کی اجازت شامل نہیں ہوتی تو اس کا نکاح درست نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کے زانیہ ہونے کی علامت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ...َ ٢٣٢﴾...البقرة

''اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو تم ان کو اپنے خاوندوں کے ساتھ نکاح کرنے سے نہ روکو، جب وہ آپس میں اچھی طرح راضی ہوں۔''(بقرہ : ۲۳۲)

اسی آیت کا شان نزول ہے کہ سیدنا معقل بن یسار کی بہن کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی حتیٰ کہ عدت گزرنے گئی رجوع کا موقع نہ رہا اور وہ عدت کے گزرنے کے بعد آپس میں راضی ہو گئے اور دوبارہ نکاح کرنا چاہتے تھے تو معقل بن یسار جو اپنی بہن کے ولی تھے انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کر دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان کو نکاح سے نہ روکو۔  بخاری۱۱/۱۹،۹۰۸، ترمذی۴/۷۶، ابو دائود۲/۱۹۲، طیالسی۱/۳۵ ، دار قطنی۳/۲۲۳، حاکم۲/۱۷۴، ابنِ جریر۲/۴۴۸۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا نکاح ولی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے فرمایا (فلا تعضلوھن) امام ابوبکر ابنِ العربی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

" فنهى الله تعالى أولياء المرأة من منعها  عن  نكاح من ترضاه  دليل قاطع  على أن المرأة لا حق  لها فى مباشرة النكاح و إنما هو حق الولى خلافا لأبى حنفية ولولا  ذالك لما نها الله عن منعها "

''اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ولیوں کو اس بات سے روکا ہے کہ جس کے ساتھ وہ برضا و رغبت نکاح کرنا چاہتی ہیں ، انہیں منع نہ کرو، یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ عورت کے کھلے بندوں نکاح کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ حق صرف ولی کا ہے امام ابو حنیفہ کا مذہب اس کے خلاف ہے اگر یہ حق ولی کا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ انہیں منع کر نے سے نہ روکتا۔''  (احکام القرآن۱/۲۰۱)

﴿وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ... ٢٢١﴾...البقرۃ

    ''اور اپنی عورتوں کو مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں''

 مولانا عبدالماجد دریا بادی رحمة اللہ علیہ تفسیر ماجدی ص۸۹ حاشیہ۸۱۸ پر رقمطراز ہیں: (لا تنکحو) خطاب مردوں سے ہے کہ تم اپنی عورتوں کو کافروں کے نکاح میں نہ دو۔ حکم خود عورتوں کو براہِ راست نہیں مل رہا کہ تم کافروں کے نکاح میں نہ جائو۔ یہ طرزِ خطاب بہت پُر معنی ہے ۔ صاف اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ مسلمان عورتوں کا نکاح مردوں کے واسطہ سے ہونا چاہیے۔

  امام ابو بکر ابنِ العربی (احکام القرآن۱/۱۵۸) پر رقمطراز ہیں:

" قال محمد بن على بن حسين : النكاح بولى فى كتاب الله تعالى  ثم قرأ  (ولا تنکحو المشرکین) وهى مسءلة بديعة  و دلالة صحيحة"

     ''امام محمد بن علی بن حسین نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب کی رو سے نکاح بذریعہ ولی ہے پھر (ولا تنکحو المشرکین)والی آیت تلاوت کی''۔

  سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ''نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ''۔

(ابو داؤد مع عون۲/۱۰۱، ترمذی۴/۲۲۶، ابنِ ماجہ۱/۵۸۰، دارمی۲/۶۱، احمد۴/۳۹۴،۴۱۳ ، دار قطنی۲۱۸/۳، بیھقی۷/۱۰۷ ، شرح السنة المنتقٰی لا بن جارود (۷۰۱،۷۰۲،۷۰۳،۷۰۴)

   اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( أيما إمراة تزوجت بغير إذن وليها فنكاحها  باطل فإن دخل بها فلها المهر بم استحل من فرجها  و إن  اشتجروا فالسلطان ولى  من لا ولى له .))

''جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا، اس کا نکاح باطل ہے ، اگر اس مرد نے اس عورت کے ساتھ دخول کیا تو اس عورت کے لئے حق مہر ہے، اس وجہ سے جو اس مرد نے اس کی فرج کو حلال سمجھا اور اگر عورت کی ولایت میں اختلاف کریں تو حاکم اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں''۔

   یہ حدیث المنتقٰی لابن جارود (۷۰۰)۱/۳۸، ابو دائو مع عون۶/۹۸ ، ترمذی۴/۹۸، ابنِ ماجہ ۱/۵۸۰،۲/۲۶، مسند احمد۲/۲۶،۱۶۵، حمیدی۱/۱۲،۱۱۳، ابنِ حبان (۱۲۴۸) دار قطنی۳/۲۲۱، حاکم۲/۱۶۸، بیہقی۷/۱۰۵، شرح السنہ۲/۳۹، شافعی۲/۱۱، طیالسی (۱۴۶۳) میں موجود ہے۔

   علاوہ ازیں یہ روایت اور اس کی ہم معنی روایات بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں جن کی تعداد تیس (۳۰) تک پہنچ گئی ہے۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی تلخیص الحبیرص ۲۹۵ اور امام شو کانی نیل الاوطار ۳۶ پر رقمطراز ہیں:

(( فال الحاكم وقد صحت  الرواية فيه عن أزواج النبى صلى الله عليه وسلم عائشة  و ام سلمة  و زينب ينت جحش  ثم سرد ثلاثين صحابيا و قد جمع الدمياطى طرقه من المتأخرين .))

  ''امام حاکم فرماتے ہیں ازواجِ مطہرات سیدہ عائشہ ، سیدہ اُم سلیم ، سیدہ زینب رضٰ اللہ عنہن سے روایت صحیح ثابت ہے یہاں تک کہ۳۰ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام ذکر کئے اور متاخرین میں سے امام دمیاطی نے اس حدیث کے تمام طرق ذکر کئے ہیں۔

 امام قاضی شوکانی ایک اور مقام پر رقمطراز ہیں کہ سیدنا علی ، سیدنا عمر، سیدنا ابنِ عباس، سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا ، حسن بصری، سعید بن مسیب ، ابن شبرمہ، ابن ابی لیلیٰ، امام احمد، امام اسحق بن راہویہ ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم اور جمہور اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں۔

 امام ابنِ منذر نے فرمایا کسی صحابہ سے اس کا خلاف ثابت نہیں(نیل الاوطار ١٣٦٦)۔ ان دلائل سے معلوم ہوا کہ عورت کے نکاح کے لئے ولی کا ہونا لازمی ہے اور ولایت کا حق صرف مردوں کو ہے۔

   مذکورہ سوال میں ماں کے علاوہ ولی بنانے کے لئے بہن کا ذکر کیا گیا ہے وہ اخراجات برداشت کر سکتی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ بہن بھی عورت ہے اس لئے ولایت کا حق وہ بھی نہیں رکھتی۔ رہا اخراجات کا معاملہ تو یہ دور حاضر کی رسومات ہیں وگرنہ اسلام کے اندر جہیز وغیرہ کے لئے لڑکی والوں پر کوئی پابندی نہیں، اسلامی طریقہ کی رو سے نکاھ کے لئے اخراجات مرد کے ذمہ آتے ہیں جیسا کہ حق مہر اور ولیمہ وغیرہ کے اخراجات اور نکاح کے بعد عورت کے اخراجات کی ذمہ داری اس مر د پر ہوتی ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا جاتا ہے۔ والدین کو اس معاملہ میں کسی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لئے دورِ حاضر کی رسومات اور ہندو وانہ طرزِ عمل سے ہٹ کر اگر اسلامی طریقہ کے مطابق نکاح کریں تو کسی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ بہر صورت عورت کا نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ