سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(94) زکوٰة کے احکام

  • 14703
  • تاریخ اشاعت : 2016-03-12
  • مشاہدات : 1887

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زکوٰة کی شرعی حیثیت اور اس کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے ، کتنے مال پر زکوٰة فرض ہے اور مصارفِ زکوٰة کتنے ہیں؟ علاوہ ازیں صدقہ فطر کی وضاحت بھی کریں۔ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زکوٰة اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے جس کی فرضیت قرآن مجید اور احادیث صحیحہ صریحہ سے ثابت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ ﴿٤٣﴾...البقرة

            ''نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو''۔

            ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٥﴾...التوبة

            ''پس جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں پائو قتل کرو، ان کو پکڑ لو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر مقام پر ان کی گھات میں بیٹھے رہو پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں، زکوٰة ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو (یعنی جنگ بند کر دو ) بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے ۔

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ کفار و مشرکین اگر ایمان کا دعویٰ کریں ۔ اسلام قبول کریں تب بھی ان سے جنگ بند نہیں ہوگی تاوقتیہ کہ وہ نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں۔ زکوٰة کی ادائیگی کے بعد ہی وہ مسلم برادری میں شامل ہوسکتے ہیں اور رشتہ اخوت میں منسلک رہ سکتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص زکوٰة ادا نہیں کرتا تو وہ اس رشتہ سے محروم رہتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ ﴿١٠﴾ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿١١﴾...التوبة

            ''وہ کسی مومن کے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں، نہ عہد کا اور یہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔ پھر اگر یہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں ہم آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں''۔

            لفظ زکوٰة دو معنوں میں مستعمل ہے ۔ (۱)  بڑھنا   (۲)  پاک و صاف ہونا ۔

            سال گزارنے کے بعد جو حصہ بطور فرض ادا کیا جاتا ہے ان ہی دو معنوں کے پیش نظر اسے زکوٰة کہتے ہیں کیونکہ ادائیگی زکوٰة کرنے والے کی نیکیاں بڑھتی ہیں۔ درجات بلند ہوتے ہیں۔ مال کی طہارت ہوتی ہے اور اس میں اللہ کی طرف سے برکت پیدا ہوتی ہے اور زکوٰة دہندہ خود گناہ اور بخل سے بچ جاتا ہے اور اس کا مال غرباء فقراء و مساکین وغیرہ کا حق نکل جانے کی وجہ سے خبث و حرام سے پاک ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ... ١٠٣﴾...التوبة

            ''اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) زکوٰۃ لے کر ان کے جان و مال کا تذکیہ کرو اور ان کو پاک و صاف بنا دو''۔

            زکوٰة اللہ تعالیٰ کی حقیقتاً مالی عبادت ہے اور اسے اگر واقعاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کو اجتماعی زندگی میں معاشرے کے اندر ریڑھ کی حیثیت حاسل ہے ۔ یہ اسلام کے سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد ہے ۔ شریعت اسلامی نے چار قسم کے مال پر زکوٰة فرض کی ہے :

١۔    بہائم۔ چار پائے جانور اونٹ گائے بکری وغیرہ

٢۔   سونا چاندی نقود اور زیورات وغیرہ

٣۔   ہر قسم کا وہ تجارتی مال جس میں تجارت شرعاً جائز ہے ۔

٤۔   زمین کی پیداوار ، اجناس، خوردنی پھل وغیرہ

            چونکہ شریعت نے زکوٰة مالداروں پر فرض کی ہے تاکہ ان کے مال کا کچھ حصہ ہر سال غرباء و مساکین کی ضروریات پر صرف کیا جاسکے لہٰذا ہر قسم کے مال سے زکوٰة کا نصاب مقرر کیا گیا ۔ مذکورہ بالا چار قسم کے مال کا نصاب درج ذیل ہے :

١۱)   بہائم:  اونٹوں کا نصاب پانچ اونٹ ہے ۔ صحیح بخاری کتاب الزکوٰة میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ليس فى ما دون خمس ذود صدقة من الإبل.))

            ''پانچ سے کم اونٹوں پر زکوٰة نہیں ہے ۔ پانچ تانو اونٹ پر ایک بکری زکوٰة ہے ۔ ۱۰ تا۱۴ پر۲بکریاں،۱۵ تا۱۹ پر تین بکریاں،۲۰  تا۲۴ پر۴ بکریاں،۲۵  تا۳۵  پر ایک سالہا اونٹنی ۔

            گائیوں کا نصاب: گائیوں کا نصاب تیس گائیں ہیں جامع ترمذی۱/۱۹۵ اور مستدرک حاکم۱/۳۹۸ میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کویمن کی طرف بھیجا تو انہیں حکم دیا:

(( و أمره لأن يأخذه من البقر كل ثلاثين بقرة تبيعا.))

            ''کہ تیس گائیو ں پر ایک سال کا بچھڑا زکوٰة میں لے ''۔

            یعنی۳۰سے کم گائیوں پر زکوٰة نہیں اور جب۳۰ گائیں ہوں ان پر ایک سالہ بچھڑا زکوٰة ہے اور۴۰ پر ایک گائے جس کے دو دانت نکل آئے ہوں اسی طرح ہر ۳۰ پر ایک سالہ بچھڑا اور ہر۴۰  پر ایک گائے دو دانت والی۔

۲) چاندی اور سونے کا نصاب:

((عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَوَّلِ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: «فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ - يَعْنِي - فِي الذَّهَبِ حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا [ص:101] كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ، فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ.))

            ''سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو ان پر زکوٰة پانچ درہم ہوگی اور جب تمہارے پاس بیس دینار سونا ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں نصف دینار زکوٰة ادا کرنا ضروری ہے ''۔ (ابو دائو د ، کتاب الزکوٰة نیل الا وطار ۱۱۸)

            اس کے علاوہ کتب احادیث میں بے شمار ایسی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کے لئے ۲۰۰ درہم اور سونے کے لئے ٢٠ دینار نصاب متعین فرمایا ہے اور ان پر زکوٰة کے واجب ہونے کے لئے ایک سال کا عرصہ شر ط قرار دیا ہے ۔ اور اس بات پر عموماً اتفاق ہے کہ ہمارے ہاں رائج اوزان کے مطابق ۲۰۰ درہم چاندی کا وزن ساڑھے باون تولے ہے اور۲۰ دینار سونے کا وزن ساڑھے سات تولہ سونا ہے ۔

۳٣)   زیورات پر زکوٰة:  سونے اور چاندی کے زیورات پر بھی زکوٰة دینی چاہیے، جب وہ نصاب کو پہنچ جائیں، شریعت نے جب سونے اور چاندی پر زکوٰة فرض کی ہے اور سونے چاندی کے زیور بھی سونا چاندی ہیں ان کو کسی نص قطعی نے زکوٰةسے مستثنیٰ نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیورات پر زکوٰة نہ دینے پر بڑی وعید بیان کی ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی اور اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دوموٹے موٹے کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:

«أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟»، قَالَتْ: لَا، قَالَ: «أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟»

            ''کیا تم ان کی زکوٰة بھی دیتی ہو ؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں پسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ''۔

            اس عورت نے یہ بات سنتے ہی کنگن اتار کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے رکھ دئیے اور کہا میں نے یہ دونوں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں دے دئیے ۔

(صحيح نسائى 2324 , صحيح ابو داؤد 1563)

            سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور ہاتھ میں چاندی کی چوڑیاں دیکھیں اور پوچھا ، عائشہ  یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا یہ (زیور) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر حصولِ زینت کے لئے بنائے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

(( أتؤدين زكاتهن ؟ قلت لا أو ما شاء الله قال : حسبك من النار.))

            ''کیا ان کی زکوٰة ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا نہیں یا ماشاء اللہ کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:پھر آگ کی سزا تجھے یہ کافی ہے''۔ (صحیح ابو داؤد۱۵۶۵، دارقطنی)

            امام حاکم نے بھی اس حدیث کو مستدرک میں بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔

            ان احادیث سے معلوم ہوا کہ زیورات کی زکوٰة ادا کرنی چاہیے اور یہ ضروری ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ،عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب ، عطاء، سعید بن جبر، عبداللہ بن شداد، سیجون بن مہران، مجاہد، جابر بن زید، زہری، سفیان ثوری، ابن منذر، عبداللہ بن مبارک، ابو حنیفہ وغیرہ کا یہی موقف ہے اور امام شافعی سے بھی ایک قول اسی طرح مروی ہے ۔ اس کے برعکس امام مالک ، اسحٰق بن راہویہ، شعبی وغیرہ کا موقف ہے کہ ز یورات میں زکوٰة واجب نہیں۔ اور ان کا استدلال قیاس اور بعض آثار صحابہ رضی اللہ عنہ سے ہے لیکن صحیح اور راجع مسلک پہلا ہے اورصحیح و تصریح احادیث اس کی تائید کرتی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحیح حدیث کے مقابلے میں کسی کی بات حجت نہیں۔

            مال تجارت پر زکوٰة : ارشاد باری تعالیٰ ہے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ ... ٢٦٧﴾...البقرة

            ''اے ایمان والو! اپنی کمائی میں سے بہترین چیز خرچ کرو''۔

            امام مجاہد سے بسند صحیح تفسیر طبری۵/۵۵۶ میں مروی ہے کہ یہ آیت تجارت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور امام بخاری نے بھی اس آیت سے اموال تجارت میں زکوٰة کے وجوب پر استدلال کیا ہے ۔ ( الزكوة  وأحكامها للغاوجى ,ص 43)

(( عن أبى ذر رضى الله عنه أن النبى  صلى الله عليه قال : فى  الإبل صدقتها  وفى الغنم صدقتها  و فى الغنم صدقتها  وفى البقرة  صدقتها  وفى البر صدقته .))

            ''سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹوں پر زکوٰة، بکریوں پر زکوٰة، گائیوں پر زکوٰة اور تجارت کے کپڑے پر زکوٰة ہے ''۔

(دار قطنى 2/102, مستدرك حاكم , بيهقى ))

(( عن أبى عمرو بن حماس عن أبيه رضى الله عنه  قال كنت أبيع الأدم  و الحجاب فمر بى عمر بن الخطاب رضى الله عنه فقال أد صدقة  مالك  فقلت  يا أمير المؤمنين  إنما هو الأدم  قال قومه ثم  أخرج صدقته ))

            ''ابو عمرو بن حماس رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں چمڑا اور تیر کے ترکش فروخت کرتا تھا۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا اپنے مال کی زکوٰة ادا کرو ۔ میں نے عرض کیا اے امیر المومنین یہ تو فقط چمڑا ہے ۔ سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی قیمت لگائو اور اس کی زکوٰة ادا کرو ''۔ (الشافعی۱/۲۳۶، عبدالرزاق (۹۹۔۷۰)، دارقطنی۲۱۳، کتاب الا موال لابی عبید۴۲۵، بیہقی۴/۱۴۷، المجوع۶/۴۴)

            مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ مال تجارت سے بھی زکوٰة نکالنی چاہیے۔ مال تجارت کا نصاب شرح نقدی کا ہی نصاب ہے یعنی حاضر وقت میں ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت مال تجارت کا نصاب تصور کیا جائے گا جس آدمی کے پاس کاروبار کے لئے ساڑھے باون تولہ چاندی جس کی قیمت تقریباً۲۵۔۲۵۴۶ روپے تک مال تجارت موجود ہے وہ اپنے مال کی قیمت لگا کر اس پر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰة ادا کرے۔

۴٤)  زمین کی پیداوار پر زکوٰة:  زمین سے پیدا ہونے والے غلہ سے جو حصہ بطور زکوٰة ادا کیا جاتا ہے ۔ عشر کہلاتا ہے۔ عشرکا معنی ہے دسواں حصہ ، بعض حالات میں زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ واجب الادا ہوتا ہے اس لئے اسے عشر کا نام دیا گیا ہے ۔ جو کھیتی یا باغ، چشمہ، بارش، نہری پانی یا قدرتی ذرائع سے سیراب ہو اور اسکوپانی دینے کے لئے کسی مصنوعی آلہ کی ضرورت نہیں پڑتی تو ایسی کھیتی یا باغات پر عشر واجب الادا ہوتا ہے اور جس کھیتی یا باغ کو پانی دینے کے لئے مصنوعی آلات مثلاً رہٹ، مشین وغیرہ کی ضرورت پڑے تو اس کی پیداوار پر نصف عشر یعنی بیسواں حصہ زکوٰة  ہے۔

(( عن عبد الله بن عمر عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : «فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا العُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ العُشْرِ»))

            ''عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کھیتی بارش اور چشموں سے سیراب ہوتی ہو یا وہ بارانی ہو اس میں عشر ہے اور جو زمین جانوروں یا کسی دوسرے ذریعہ سے پانی کھینچ کر لائے اس میں نصف عشر ہے ''۔ (صحیح بخاری ، کتاب الزکوٰة۲/۱۵۵٥)

            دونوں حالتوں میں کاشتکار کی محنت کا لحاظ رکھا گیا ہے ، چونکہ اول الذکر صورت میں محنت کم ہوتی ہے اس لئے اس پر زکوٰة زیادہ ہے اور موخر الذکر صورت میں محنت زیادہ ہے ، اس لئے اس پر زکوٰة کم ہے ۔ زمین کی پیداوار کے لئے نصابِ زکوٰة ٥وسق ہے ۔

((عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ فِي حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ.))

            ''ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک غلہ اور کھجور کی مقدار پانچ وسق تک نہ ہوجائے اس پر زکوٰة نہیں ''۔ (نسائی )

            اسی طرح صحیح بخاری کتاب الزکوٰة۲/۱۳۳ پر مروی ہے کہ:

(( ليس فيما دون خمسة أو سق صدقة .))

            ''پانچ وسق سے کم پر زکوٰة واجب نہیں''۔

            جب پیداوار پانچ وسق یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر زکوٰة واجب ہوجاتی ہے ۔ پانچ وسق کا وزن۲۰ من یا۷۲۵ کلو گرام تک ہوتا ہے ۔

مصارفِ زکوٰة

            مصارفِ زکوٰة کا مطلب ہے کہ وہ مدیں جہاں پر زکوٰة صرف کی جاتی ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:

﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٦٠﴾... التوبة

            یعنی زکوٰة کا مال فقراء اور مساکین، زکوٰة وصول کرنے والے عاملین، نو مسلموں کی تالیف قلب، غلاموں، قرضداروں اور اللہ راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کے لئے ہے ۔ یہ آٹھ مصارف زکوٰة ہیں۔ ان آٹھ مصارف کی مختصر وضاحت درج ذیل ہیے :

فقرہ و مساکین

            فقیر سے مراد وہ ہے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو اور مسکین جس کے پاس تھوڑا بہت خرچ موجود ہو یعنی اس کی آمدنی اس کی ضرورت سے بہت تھوڑی ہو۔

عاملین

            وہ لوگ جو خلیفہ اسلام یا مسلمانوں کے امی کی طرف سے زکوٰة جمع کرنے کے لئے مقرر ہوتے ہیں۔ ان کی تنخواہوں وغیرہ پر زکوٰة کا مال صرف ہوسکتا ہے ۔

مُؤْ لَّفَۃالْقُلُوْب

            اس سے وہ ضعیف الایمان مسلمان مراد ہیں جن کی دلجوئی یا مالی اعانت اگر نہ کی جائے تو ان کا اسلام سے منحرف ہونے کاخطرہ ہے ۔

غلام

            یعنی اگر کوئی مسلمان آدمی غلامی کی زندگی بسر کررہا ہو تو مالِ زکوٰة سے اسے غلامی سے آزادی دلا دی جائے ۔

غارمین

            ان سے مراد وہ مقروض ہیں جن پر اتنا قرض چڑھ گیا ہے کہ وہ اتارنے کی سکت نہیں رکھتے مگر یاد رہے کہ اگر کوئی آدمی خلاف شرع کاموں جیسے شراب جوا وغیرہ میں مال خرچ کرنے کی وجہ سے مقروض ہوگیا ہو تو اس پر زکوٰة کا مال صرف کرنے سے گریز کرنا چاہیے جب تک وہ توبہ نہ کرلے ۔

فی سبیل اللہ

            اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو محاذ جنگ پر دشمنان اسلام سے نبرد آزما ہیں۔ یہ لوگ غنی بھی ہوں تب بھی ان کی اعانت مال زکوٰة سے کرنا جائز ہے تاکہ وہ سامان حرب جیسا کہ دور حاضر میں کلاشنکوف ، گرینوف، زیکویک وغیرہ گنیں خرید کر دشمن اسلام کامقابلہ کرسکیں۔

ابن السبیل

            اس سے مراد وہ مسافر ہیں جو اپنے وطن سے دور ہیں اور ان کے پاس خرچ ختم ہوگیا ہے تو مالِ زکوٰة سے ان کی اعانت کرنا جائز ہے ۔

صدقة الفطر

            صدقة الفطر فرض ہے ۔ صدقہ اس لئے ادا کیاجاتا ہے کہ رمضان المبارک میں اگر کسی فرد سے روزہ میں کوتاہی یا لغو بات وغیرہ ہوگئی ہو تو اس سے پاکیزمگی حاصل کی جائے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

«فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ، وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ، مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ، وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ»

            ''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو روزہ دار کو بے ہودگی اور فحش کلامی سے پاک کرنے اور غرباء و مساکین کو خوراک مہیاکرنے کے لئے صدقہ فطر فرض کیا ہیے جو شخص عید کی نماز سے قبل یہ صدقہ ادا کرے تو اس کا صدقہ مقبول ہے اور جو شخص نماز کے بعد صدقہ ادا کرے تو یہ نفلی صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے ''۔ (صحیح ابو دائود )

            اس سے معلوم ہوا کہ صدقہ فطر کی ادائیگی عید کی نماز سے قبل ہونی چاہیے۔ اور یہ ہر مسلمان پر خواہ مرد یا عورت غلام ہو یا آزاد چھوٹا ہو یا بڑا، فرض ہے اور ہر فرد کی طرف سے ایک صاع طعام ادا کیا جاتا ہے ۔ صحیح بخاری الزکوٰة میں حدیث ہے کہ:

(( فرض رسول الله صلى الله عليه  زكوة  الفطر صاعا من تمر أو صاعا  من شعير على من شعير على العبد  والحر والذكر  والأنثى  والصغير و الكبير من المسلمين .))

            نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور سے ایک صاع جو سے غلام، آزاد، مذکر و مونث، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض کیا ہے ۔

            طعام سے مراد ہر وہ چیز ہے جو کسی گھر میں عموماً کھائی جاتی ہے جیسا کہ چاول، جو، گندم وغیرہ ایک صاع کا وزن ٢۲۵٥.۲ سیر ہے ۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ