سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(88) قبروں پر مساجد تعمیر کرنا اور انہیں پختہ بنانا

  • 14697
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 2456

سوال

(88) قبروں پر مساجد تعمیر کرنا اور انہیں پختہ بنانا
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبروں پر مساجد، قبے، گنبد بنانا اور انہیں پختہ کرنے کے متعلق وضاحت کریں کہ قرآن و سنت میں اس کا کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قبروں پر مساجد تعمیر کرنا اور انہیں گنبد بنانا اور انہیں پخہ کرنا ازروائے شرعیت ممنوع و حرام ہے۔ قبروں کو مسجد بنانے کا معنی یہ ہے کہ قبروں کو سجدہ کرنا یا قبروں کی طرف منہ کر کے عبادت کرنا انہیں قبلہ سمجھنا ہے امام ابن حجر ہیثمی اپنی کتاب الزواجر عن اقتراف الکبائر۱/۲۴۶ پر لکھا ہے کہ"و اتخاذ القبر مسجدا معناه  الصلاة عليه أو إليه " قبر کو مسجد بنانے کا معنی یہ ہے کہ اس پر نما ز پڑھنا یا اس کو قبلہ بنا کر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا ہے۔ اس معنی کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی کرتا ہے کہ(( لا تصلوا إلى قبر ولا تصلوا على قبر)) طبرانی کبیر۳/۱۴۵/۲'' نہ قبر کو قبلہ بنا کر نماز پڑھو اور نہ قبر پر نماز پڑھو ''۔ یہود و نصاریٰ میں سے اگر کوئی نیک آمدی مر جاتا ہے تو وہ لوگ ا س کی قبر پر عمارتیں تعمیر کر کے ایک اور مساجد بنا کر عبادت کرتے تھے اور اللہ کے ر سول صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری ایام میں فرمایا کہ :

(( لعن الله اليهود  والنصارى اتخذوه قبور أنبيائهم مساجد- قالت : فلولا ذلك لأبرز قبره و لكنه خشى ان يتحذ مسجدا))

            '' اللہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنایا۔ سیدہ عائشہ نے کہا کہ اس خطرہ سے کہیں آپ کی قبر کو مسجد کی شکل نہ دی جائے آپ کی قبر کھلی فضا میں نہ بنائی گئی ''۔                                                                   ( بخاری۳/۱۵۶،۱۹۸۔۸/۱۱۴، مسلم۲/۲۷، مسند احمد ،۶/۶۵۵،۱۲۱،۸۰)

اس طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ :

(( أولئك إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا غلى قبره مسجدا ثم صوره فيه تلك الصور أولائك شرار الخلق عند الله يوم القيامة ))

            '' جب ان ( یہودیوں اور عیسائیوں میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا ہے تویہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے تھے اس کے بعد نیک لوگوں کی تصویریں بنا کر اس میں لٹکا دیتے تھے یہی وہ لوگ ہیں جو قیامت کے دن اللہ کے ہاں بد ترین مخلوق سمجھے جائیں گے ۔''

(بخارى 1/416.مسلم 2/115, بيهقى 4/80 . مصنف ابن سيبه 4/140)

            اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علماء ، صلحا، شہداء اور نیک لوگوں کی قبروں پر مسجدیں تعمیر کرنا یہود و نصاریٰ کا کام ہے ۔

            اور جو لوگ بزرگوں کی قربوں پر مساجد تعمیر کر کے وہاں عبادت کرتے ہیں ان کے تقرب کے صحول کیلئے نذ رو نیاز تقسیم کرتے ہیں ۔ انہی مشکل کشا و حاجد روا سمجھتے ہیں یہ لوگ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بد ترین مخلوق ٹھریں گے۔

            قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر گنبد تعمیر کے کے بار ے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے جسے سیدنا جابر  روایت کرتے ہیں کہ:

(( نهى رسول الله صلىالله عليه وسلم أن يجصص القبر و أن يقعد عليه و أن يبنى عليه .))

            '' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ کرنے اور اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے ( مسلم۳/۶۲(۹۸۰) ترمذی۲/۱۵۵، مسند احمد ۳۳۹،۳/۳۳۹، شرح السنہ۵/۴۰۵، ابو دائود۳/۲۱۶)

            مذکورہ بالا احادیث میں صراحتاً قبروں کو مساجد بنانے اور انہیں پختہ کرنے کی نہی و ممانعت مذکور ہے اور نہی اصلاً تحریم پر دلالت کرتی ہے لہٰذا قبروں پر گبند بنانا انہیں پختہ کرنا اور سجدہ گا بناناا زروئے شرعیت حرام و ممنوع ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

تبصرے