سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(06) انبیاء و اولیاء کے عمل صالحہ اور حرمت کا وسیلہ

  • 1462
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-10
  • مشاہدات : 921

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا انبیاء علیہم السلام  صحابہ کرام ﷢اور اولیاء عظام رحمہم اللہ کے عمل صالحہ اور ان کی حرمت کا وسیلہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ قرآن وسنت اور اقوال صحابہ﷢ کی روشنی میں جواب دیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا انبیاء علیہم السلام  صحابہ کرام ﷢اور اولیاء عظام رحمہم اللہ کے عمل صالحہ اور ان کی حرمت کا وسیلہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟ قرآن وسنت اور اقوال صحابہ﷢ کی روشنی میں جواب دیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

دعاکرنے والا رب تعالیٰ کے سامنے اپنے لوجہ اللہ کئے ہوئے اعمال صالحہ ذکرکر سکتا ہے جیسا کہ بارش سے بچنے کے لیے غار میں داخل ہونے والے تین آدمیوں کی دعا والی حدیث سے ثابت ہوتا ہے ۔ (1)البتہ کسی اللہ کے بندے کی ذات یا بات یا صالحات یا حرمات کا اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے وقت وسیلہ کتاب وسنت سے ثابت نہیں۔

وباللہ التوفیق

حاشیہ

(1)یہ حدیث: بخاری کتاب الادب باب اِجَابَة دُعَاء مَنْ بَرَّ وَالِدَیْه میں ہے۔

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 49

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ