سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(09) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں (رضی اللہ عنہُن ) کی تعداد

  • 14607
  • تاریخ اشاعت : 2016-02-25
  • مشاہدات : 984

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہما سے صرف ایک بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہما تھیں یا کہ زینب ، رقیہ ، اُم کلثوم رضی اللہ عنہا بھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے تھیں؟ قرآن و سنت اور شیعہ و سنی ہر دو مکتب فکر کی کتب سے وضاحت کردیں۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہما سے صرف ایک بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہما تھیں یا کہ زینب ، رقیہ ، اُم کلثوم رضی اللہ عنہا بھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے تھیں؟ قرآن و سنت اور شیعہ و سنی ہر دو مکتب فکر کی کتب سے وضاحت کردیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 : رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ۲۵ برس کی عمر میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہاسے شادی ہوئی اور بعثت سے قبل سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بطن سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تین بیٹیاں زینب، رُقیہ، اُم کلثوم رضی اللہ عنہُن پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا پیدا ہوئیں۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنھا کا نکاح آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہما سے کیا۔ رقیہ رضی اللہ عنھا اور اُم کلثوم رضٰ اللہ عنھا کا نکاح بالترتیب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا۔ تیسری صدی ہجری تک کسی بھی شخص نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مذکورہ بالا چاروں بیٹیوں میں سے کسی ایک کا بھی انکار نہیں کیا اور فریقین کی معتبر کتب میں اِن بنات کا تذکرہ موجود ہے۔
چوتھی صدی ہجری میں ایک غالی شیعہ ابو القاسم علی بن احمد بن موسیٰ المتوفی ۳۵۲ھ نے اپنی بدنامِ زمانہ کتاب ’’الا ستغا ثۃ فی بدع الثلاثۃ‘‘میں اس بات کا انکار کیا اور کہا کہ یہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حقیقی بیٹیاں نہیں تھیں بلکہ ربیبہ بیٹیاں تھیں۔ حالانکہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھاکا پہلا نکاح عتیق بن عائز مخزومی سے ہوا اور اس سے ایک لڑکی ہندہ پیدا ہوئی ۔ پھر اس کے بعد دوسرا نکاح ابو ھالہ تمیمی سے ہوا جس سے ایک لڑکا ہند اور ایک لڑکی ہالہ پیدا ہوئی اور اس کے بعد پھر آپ رضی تعالیٰ عنھا ، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے نکاح میں آئیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کی چار بیٹیاں زینب ، رُقیہ ، اُم کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ نسب کی یہ تفصیل کتاب نسب قریش ص ۳۳، ص۲۲۸کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ‘ عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب اور جمھرۃ الانساب وغیرہ میں موجود ہے۔اس سے معلوم ہوا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کی اپنے پہلے خاندوں سے زنیب ، رُقیہ اور اُم کلثوم (رضی اللہ عنہا ) نامی کوئی بیٹی نہیں ۔ یہ شیعہ کا دجل اور ان کی تلبیس ہے۔
لیکن شیعہ محدثین میں سے مشہور شیعہ عبداللہ مامقانی نے اپنی کتاب ’’تنقیح المقال‘‘ ص ۷۹ پر ابو القاسم کو فی کی اس بات کا رد کیا ہے۔ (تنقیح المقال شیعہ کے رجال پر بڑی معروف کتاب ہے)۔
چنانچہ عبداللہ مامقانی شیعہ نے ۷۹ پر لکھا ہے:
’’ابو القاسم کو فی کا ’’الاستغاثۃ فی بدع الثلاثۃ‘‘ میں یہ قول کہ زینب اور رقیہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹیاں نہیں تھیں بلکہ ربیبہ تھیں۔ قولِ بلا دلیل ہے۔ یہ ابو القاسم کی اپنے رائے محض ہے۔ جس کی حیثیت نصوص کے مقابلہ میں مکڑی کے جالے کے برابر بھی نہیں ۔ کتب فریقین میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی چار بیٹیوں پر نصوص موجود ہیں اور شیعوں کے پاس اپنے ائمہ کے اقوال موجود ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی چار بیٹیاں تھیں۔‘‘
یہ بات بھی یاد رہے کہ اکثر علمائے شیعہ نے ابو القاسم شیعہ کی ہفوات پر نقد کیا ہے بلکہ اسے بے دین قرار دیا ہے جیسا کہ معروف شیعہ عالم شیخ عباس قمی نے ’’تتمہ المنتھٰی ص ۲۹ پر لکھا ہے۔‘‘
’’ابو القاسم کو فی علی بن احمد بن موسی وفت یافت و اودر آخر عمر مذھبش فاسد شدہ بود و کتابھا بسیار تالیف کردہ انداز کتابھائے ابوالقاسم کو فی کتاب الاستغاثۃ است‘‘
ابو القام کوفی جب فوت ہوا تو آخری عمر میں اس کا مذہب فاسد ہو گیا تھااور اس نے کئی کتابیں تالیف کی ہیں۔ اس کی کتابوں میں سے ایک کتاب "استغاثہ" بھی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ ابو القاسم کوفی جو غالی شیعہ تھا اور کئی فساد پر مبنی کتابوں کا مصنف تھا اس نے سب سے پہلے بنات الرسول  صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا۔ پھر اس کی پیروی میں بعد والے شیعوں نے انکار کیا حالانکہ قرآن مجید ، کتب احادیث اور فریقین کی کتب سے یہ بات تواتر کی حد تک ثابت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے چار بیٹیاں تولد ہوئیں ۔ اب نصوص ملاحظہ کریں:
’’اے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم  )اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی بڑی چادریں لٹکا لیا کریں۔ یہ قریب تر ہے کہ وہ پہنچانی جائیں۔پس وہ ایذا نہ دی جائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘(الاحزاب : ۵۹)
اِس آیت کریمہ میں لفظ ازواج ، زوجہ کی ، بنات، بنت کی اور نساء ، امراۃ کی جمع ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم تین پر ہوتا ہے اور اس آیت سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹیاں تین سے زائد تھیں اور فریقین کی کتب سے اس بات کا تعین ہو جاتاہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹیوں کی تعداد چار ہے۔
قرآن کی اس آیت میں پردے کے احکام بیان کئے جا رہے ہیں اور احکام شرعیہ کا مُکلف بالغ ہوتا ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ نزول آیت کے وقت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تین سے زائد بالغ بیٹیاں موجود تھیں جنہیں پردے کا حکم دیا گیا ہے۔
اہل سنت کے ہاں تو یہ بات متفقہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی چار صاحبزادیاں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے بطن سے تھیں۔ اس لئے اہل سنت کے حوالے نقل کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جو لوگ اس بات کے منکر ہیں ، ہم اُن کی معتبر کتابوں کے حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔
۱) عبداللہ مامقانی شیعہ اپنی کتاب ’’تنقیح المقال فی احوال الرجال‘‘ ص ۷۷ طبع نجف میں رقمطراز ہے:
بے شک فریقین کی کتب اس بات سے بھری پڑی ہیں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے چار بیٹیاں زینب ، اُم کلثوم، فاطمہ اور رقیہ رضی اللہ عنہُن پیدا ہوئیں اور انہوں نے اسلام کو پایا اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ ہجرت کی اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیروی کی۔
۲) مشہور شیعہ محدث محمد بن یعقوب کلینی نے ’’اصول کافی‘‘ باب التاریخ ص ۲۷۸ پر لکھا ہے:
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ۲۵ برس کی عمر میں خدیجہ رضی اللہ عنھا سے شادی کی اور خدیجہ رضی اللہ عنھا سے بعثت سے پہلے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ایک بیٹا قاسم اور تین بیٹیاں رقیہ، زینب اور اُم کلثوم رضی اللہ عنہُن پیدا ہوئیں اور بعثت کے بعد طیب ، طاہر اور فاطمہ پیدا ہوئے۔
۳) شیخ صدوق نے اپنی کتاب ’’خصال ‘‘۲/۱۸۶ پر لکھا ہے:
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اے حمیرا (عائشہ رضی اللہ عنھا) بے شک اللہ تعالیٰ نے بچے دینے والی میں برکت رکھی ہے ۔ خدیجہ رضی اللہ عنھا نے مجھ سے طاہر کو جنم دیا اور وہ عبداللہ اور مہطر ہے اور اس نے مجھ سے قاسم ، فاطمہ، رقیہ اُمِ کلثوم اور زینب (رضی الہ عنہم) کو جنم دیا۔
اس حوالہ سے یہ بات معلوم ہوئی کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  خود اپنی چار بیٹیوں کا اقرار کر رہے ہیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے ہیں۔
۴) "مناقب" اِبن شہر آشوب ۱/۱۶۱ میں ہے:
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدیجہ سے اولاد قاسم اور عبداللہ (رضی اللہ عنہما) تھی اور وہ دونوں طاہر و طیب تھے اور چار بیٹیاں زینب ، رقیہ ، اُم کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
۵) "تذکرۃ المعصومین) ص ۶ میں ہے:
جب رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عمر ۲۰ برس سے کچھ زائد تھی تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خدیجہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کیا اور بعثت سے پہلے خدیجہ رضی اللہ عنھا سے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تین بیٹیاں رُقیہ، اُمِ کلثوم اور زینب رضی اللہ عنہُن تھیں۔
۶) شیعہ کی معروف ترین کتاب تحفۃ العوام ۱۱۶ پر ہے۔
اے اللہ اپنے نبی کی بیٹی رُقیہ رضی اللہ عنھا پر رحمت نازل فرما اور جس نے تیرے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس بارے میں تکلیف دی ، اُس کو لعنت کر۔ اے اللہ اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹی اُم کلثوم رضی اللہ عنھا پر رحمت نازل فرما اورجس نے تیرے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس کے بارے میں تکلیف دی اس پر لعنت کر۔

اس کے علاوہ شیعہ مذہب کی معتبر کتب حیاۃ القلوب ، جلاء العیون، تھذیب الاحکام ، الاستبصار، مراء ۃ العقول ، فروع کا فی، صافی شرح کافی، کشف الغمۃ، قرب الاسناد، مجالس المومنین ، اعلام الوری، منتخب التواریخ ، مناقب آل ابی طالب ، امالی شیخ طوسی، رجال کشی اور انوار نعمانیۃ وغیرہ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا سے چار بیٹیوں کا ذکر موجود ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ