سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

غلط کار کو نرمی سے سمجھانا چاہئے

  • 14591
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 956

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم چند مسلمان کا رکن ہیں، جو اپنا اپنا وطن چھوڑ کر فرانس میں مقیم ہیں، ہم آپ میں خوف الہی اور اتباع سنت کی بنیا دپر جمع ہوئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم نے ایک ہال بھی حاصل کر لیا ہے جس میں ہم روزانہ کی پانچ نمازیں پڑھتے ہیں اور ہم نے اپنا ایک امام بھی مقرر کرلیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی کے اس نے اس ذمہ داری کا بھاری بوجھ اٹھایا جو اس کے کندھوں پرڈال دی گئی ہے۔ روزانہ کی پانچ نمازوں کے علاوہ یہاں وقتا وقتا وعظ و نصیحت پرمبنی درس بھی ہوتاق ہے۔ ہمار موجودہ مسئلہ یہ ہے کہ اس جماعت میں کچھ اختلاف پیدا ہوگیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جب ہم نماز سے فارغ ہوتے ہیں تو نماز سے فورا بعد ہر شخص تینتیس (۳۳) مرتبہ سبحان اللہ تینتیس (۳۳) مرتبہ الحمد اللہ اور تینتیس بار اللہ اکبر پڑھتا ہے یہ اس حدیث پر عمل کرنے کی نیت سے ہوتا ہے جو حضرت ابوہریرہ﷜ سے مروی ہے کہ :

(( جَائَ الْفُقَرَاء إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْه وَسَلَّمَ فَقَالُوا ذَهب أَهل الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَا وَالنَّعِیمِ الْمُقِیمِ یُصَلُّونَ کَمَا نُصَلِّی وَیَصُومُونَ کَمَا نَصُومُ وَلَهمْ فَضْلٌ مِنْ أَمْوَالٍ یَحُجُّونَ بها وَیَعْتَمِرُونَ وَیُجَاهدونَ وَیَتَصَدَّقُونَ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُکُمْ إِنْ أَخَذْتُمْ أَدْرَکْتُمْ مَنْ سَبَقَکُمْ وَلَمْ یُدْرِکْکُمْ أَحَدٌ بَعْدَکُمْ وَکُنْتُمْ خَیْرَ مَنْ أَنْتُمْ بَیْنَ ظهرانَیْه إِلَّا مَنْ عَمِلَ مِثْلَه تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُونَ وَتُکَبِّرُونَ خَلْفَ کُلِّ صَلَاة ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ فَاخْتَلَفْنَا بَیْنَنَا فَقَالَ بَعْضُنَا نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ وَنُکَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ فَرَجَعْتُ إِلَیْه فَقَالَ تَقُولُ سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَاللَّہُ أَکْبَرُ حَتَّی یَکُونَ مِنْہُنَّ کُلِّهنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ ))

غریب لوگ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ’’مالدار لوگ اونچے درجے اور ہمیشہ کی نعمتیں لے گئے۔ جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی نماز پڑھتے ہیں ، جس طرح ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور ان کے پاس ضرورت سے زائد مالہے جس سے وہ حج اور عمرہ ادا کرتے ہیں اور صدقہ دیتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں تم ایک بات نہ بتائوں اگر تم اس پر عمل کرو گے تو ان لوگوں کے مقام تک پہنچجائو گے جو تم سے آگے بڑھ گئے ہیں اور تمہارے بعد کوئی تمہارے درجے تک نہیں پہنچ سکے گا ابور تم ان لوگوں میں بہترین ہوگے جن کے درمیان تم رہتے ہو، مگر جس نے ایسا ہی عمل کیا۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سبحان اللہ، الحمد اللہ اور اللہ اکبر کہو۔‘‘

یہ طریقہ جو حدیث میں آتا ہے اس کے مطابق ہر نمازی خاموشی سے یہ اذکار پڑھتا ہے اس کے بعد ہم سب مل کر سورة فاتح اور درود ابراہیمی پڑھتے ہیں اور آخر میں یہ پڑھتے ہیں:

 ﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٨٠ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴿١٨١وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٨٢﴾...الصافات

’’ ہم میں سے کچھ بھائی کہنے لگے: ’’ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ تم نے باجماعت یہ چیزیں پڑھتنے کی بدعت ایجاد کی ہے تمہیں اس کا گناہ ہوگا اور قیامت تک جو بھی اس پر عمل کرے گا اس کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔‘‘

اب ہمیں اس بار میں فتوی دیجئے کہ کیا مل کر سورئہ فاتحہ ،درود ابراہیمی اور سورئہ صافات کی آخری تین آیتیں (آیت نمبر: ۱۸۰، ۱۸۱، ۱۸۲) پڑھنا سنت حسنہ ہے یا بدعت ہے؟ معاملہ یہیں تک نہیں رہا بلکہ ہمارے بھائی ہمارے ساتھ نما ز میں بھی شریک نہیں ہوتے کہتے ہیں : ’’ہم اس وقت تک تمہارے ساتھ نماز نہیں پڑھیں گے جب تک تم یہ بدعت نہ چھوڑ دو ۔ ہمیں ضرور فتوی دیجئے تاکہ ہمارا موجودہ اختلاف ختم ہوجائے۔ اگر ہم غلطی پر ہیں تو ہم یہ کام بالکل چھوڑ دیں گے اور جو ہوسکا اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں گے اور اگر ہم صحیح موقف پر ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ وہ ان بھائیوں کو ہدایت دے اور مسلمانوں کے اس اختلاف کو ختم کرے جس سے ان کا اتحاد پارہ پارہ ہوگیا ہے اور وہ بکھر کروہ گئے ہیں۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے جوبیان کیا ہے کہ آپ مل کر سورت فاتحہ اور دورد ابراہیمی پڑھتے ہیں اور آخر میں یہ آیات پڑھتے ہیں:

﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿١٨٠ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴿١٨١وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٨٢﴾...الصافات

’’ یہ کام جائز نہیں بلکہ نبی اکرمﷺ سے یہ عمل منقول نہیں‘‘

جن بھائیوں نے مذکورہ بالا بدعت کی وجہ سے آپ کے ساتھ نماز پڑھنا ترک کر دی ہے،ان کو ایسا نہیں کرنا چاہے تھا۔ بلکہ ان کا فرض تھا کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر اپنا فرض ادا کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ اچھے طریقے سے نصیحت بھی کرتے رہتے ۔ اللہ تعالیٰ سب کی حالت درست کرے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ