سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

حج کے سلسلے میں ایک نئی بدعت

  • 14577
  • تاریخ اشاعت : 2016-02-23
  • مشاہدات : 631

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ جب کوئی شخص حج پرجاتاہے تو اس کے گھر والے اس کے لیے خصوصی نشست یا  یا پلنگ رکھتے ہیں ، اسے دھوتے ہیں اس پر بستر بچھاتے ہیں  اسے خوشبو لگاتے ہیں ، اس کے پاس عطرکی شیشیاں رکھتے ہیں اور کہتے ہیں: اس پر کوئی نہیں بیٹھے گا حتی کہ حاجی صاحب حج سے واپس آکر اس پر تشریف رکھیں، بعد میں چاہے کوئی بیٹھے ۔ گزارش ہے کہ اس رواج کے متعلق ارشاد فرمائیں۔ آپ کا انتہائی  شکر یہ۔ اللہ تعالیٰ آپ سے امت اسلامیہ کو فائدہ پہنچائے۔


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے ملک میں یہ رواج ہے کہ جب کوئی شخص حج پرجاتاہے تو اس کے گھر والے اس کے لیے خصوصی نشست یا  یا پلنگ رکھتے ہیں ، اسے دھوتے ہیں اس پر بستر بچھاتے ہیں  اسے خوشبو لگاتے ہیں ، اس کے پاس عطرکی شیشیاں رکھتے ہیں اور کہتے ہیں: اس پر کوئی نہیں بیٹھے گا حتی کہ حاجی صاحب حج سے واپس آکر اس پر تشریف رکھیں، بعد میں چاہے کوئی بیٹھے ۔ گزارش ہے کہ اس رواج کے متعلق ارشاد فرمائیں۔ آپ کا انتہائی  شکر یہ۔ اللہ تعالیٰ آپ سے امت اسلامیہ کو فائدہ پہنچائے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے حج کا ارادہ رکھنے والے کے گھر والوں کا جو عمل ذکر کیا ہے کہ وہ چارپائی وغیرہ رکھتے ہیں ۔ اسے دھوتے ، بچھاتے اور معطرکرتے ہیں پھر اس پر لوگوں کو بیٹھنے سے منع کرتے ہیں حتی کہ حاجی واپس آکر اس پر بیٹھے ، اس کے بعد جو چاہے اسے بیٹھنے کی اجازت ہوتی ہے، یہ نئی بدعت ہے اور ایسا قانون بنانا ہے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:

﴿أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ...﴿٢١﴾...الشورى

’’ کیا ان کے ایسے شریک ہیں جو ان کے لیے ایسا دین مشروع کرتے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی‘‘

اور نبیﷺ سے ثابت ہے کہ:

((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا هذا مَالَیْسَ مِنْه فَهوَ رَدٌّ))

’’ جس نے ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘

((مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَیْسْ عَلَیْه أَمْرُنَا فَھُوَرَدٌّ))

’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیاجو ہمارے دین کے مطابق نہیں وہ مردود ہے۔‘‘

اس لیے جو شخص وہ کام کرتا ہے جس کا آپ نے ذکر کیا اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے ترک کر دے کیونکہ یہ غلط کام ہے او رپہلے جو کر چکا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ