سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

خطیب کے آنے سے قبل تلاوت یا تقریر کرنا

  • 14571
  • تاریخ اشاعت : 2016-02-23
  • مشاہدات : 780

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا یہ جائز ہے کہ جمعہ کے دن خطیب کی آمد سے پہلے ایک شخص کھڑا ہوکر تلاوت کرے۔ جب خطیب آجائے تو تلاوت کرنے والا بیٹھ جائے اور اس کے بعد خطیب خطبہ دے۔ کیا یہ جمعہ کے آداب میں سے ہے یا سنت  ہے یا بدعت ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 کیا یہ جائز ہے کہ جمعہ کے دن خطیب کی آمد سے پہلے ایک شخص کھڑا ہوکر تلاوت کرے۔ جب خطیب آجائے تو تلاوت کرنے والا بیٹھ جائے اور اس کے بعد خطیب خطبہ دے۔ کیا یہ جمعہ کے آداب میں سے ہے یا سنت  ہے یا بدعت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہماری معلومات کے مطابق اس عمل کی دلیل موجود نہیں کہ جمعہ کے دن امام کی آمد سے پہلے شخص کھڑا ہو کر تلاوت کرے اور دوسرے لوگ سنتے رہیں اور جب امام اجائے تو قاری خاموش ہوجائے۔ عبادات میں اصل توقیف ہے (یعنی ہر عمل کے لیے قرآن یا حدیث سے دلیل مطلوب ہے) اور نبیﷺ نے فرمایا: ’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جو ہمارے حکم کے مطابق نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔ ‘‘ یہ حدیث امام مسلم نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں روایت کی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ