سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(253) قبرستان اور مسجد

  • 1451
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-07
  • مشاہدات : 577

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گاؤں کے قبرستان میں کسی زمانہ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔ اس میں چند افراد اہل حدیث نے نماز پڑھنی شرو ع کردی ۔ کچھ زمانہ یا عرصہ کے بعد اسی مسجد کی توسیع (فراخی) کردی گئی حالانکہ مقابر کے نشان دیوار قبلہ کے سامنے موجود ہیں بلکہ ہرسہ جانب دکن پہاڑ مغرب برابر بدستور قبریں موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت مسئولہ میں ایسی مسجد جس کانقشہ درج ذیل ہے نماز پڑھنا جائز ہے یامنع  ہے؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک گاؤں کے قبرستان میں کسی زمانہ میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی۔ اس میں چند افراد اہل حدیث نے نماز پڑھنی شرو ع کردی ۔ کچھ زمانہ یا عرصہ کے بعد اسی مسجد کی توسیع (فراخی) کردی گئی حالانکہ مقابر کے نشان دیوار قبلہ کے سامنے موجود ہیں بلکہ ہرسہ جانب دکن پہاڑ مغرب برابر بدستور قبریں موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت مسئولہ میں ایسی مسجد جس کانقشہ درج ذیل ہے نماز پڑھنا جائز ہے یامنع  ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اگر معلوم ہو کہ مسجد پہلے ہے اور قبرستان بعد بنا ہے تواس  کے سامنے سے قبروں کے نشانات مٹا دیئے جائیں بلکہ ہوسکے تو دیگر اطراف سے بھی مٹا دیئے جائیں او رنمازبدستور پڑھی جائے اگر قبریں پہلے ہیں اور مسجد بعد میں بنی ہے تو یہ قبرستان میں مسجد ہے اس میں نماز نہ پڑھنی چاہیے اور اگر قبل بعد کا علم نہیں تو پھر معاملہ مشتبہ ہے احتیاط نہ پڑھنے میں ہے کیونکہ نماز کامعاملہ نازک ہے۔ ہاں اگر مسجد قبرستان کے احاطہ سے باہر ہوتی تو اس صورت میں نماز میں کوئی شبہ نہیں تھا خواہ قبرستان پہلے ہوتا یا مسجد۔ مگر نقشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد قبرستان کے احاطہ میں ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

مساجد کا بیان، ج1ص344 

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ