سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

اس وظیفہ میں مشرکانہ بدعات پائی جاتی ہیں

  • 14501
  • تاریخ اشاعت : 2016-02-20
  • مشاہدات : 721

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا تیجانیہ کا وظیفہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا تیجانیہ کا وظیفہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

طریقہ تیجانیہ ایک غلط طریقہ ہے جو رسول اللہﷺ کے اسوئہ مبارکہ اور سنت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بلکہ اس میں ایسی مشرکانہ بدعتیں پائی جاتی ہیں جن کے مطابق عقیدہ رکھنے یا عمل کرنے سے انسان اسلام سے ہی نعوذ باللہ خارج ہوجاتا ہے۔ اس کے اور ادووظائف میں بھی بدعتیں موجود ہیں لہٰذا ثواب کے لئے انہیں پڑھنا جائز نہیں۔ کیونکہ اذکار عبادت کی ایک قسم ہیں اور عبادات سب توفیقی ہیں۔ ان میں قرآن مجید اور صحیح احادیث کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کریں اور رسول اللہﷺکے بیان کئے ہوئے ذکر اور جو ادعیہ کی کتابوں میں موجود ہیں‘ اسی طرح حدیث کی قابل اعتماد کتابوں سے انتخاب کرکے لکھی گئی ہیں ان کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ مثلاً ریاض الصالحین ازامام نوویl‘ الکلم الطیب ازامام ابن تیمیہ‘ الوابل الطیب ازامام ابن قیم اور الاذکار ازامام نوویوغیرہ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ