سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ایسی مجالس اختیار کرنے سے احتیاط کریں

  • 14494
  • تاریخ اشاعت : 2016-02-20
  • مشاہدات : 2138

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الحمدللہ میں جناب رسول اللہﷺ اور سلف صالحین کی پیروری کی کوشش کرتاہوں۔ صرف معلومات حاصل کرنے کی نیت سے صوفیہ کی بعض مجالس میں شریک ہوا اور یہ دیکھ کر ششدررہ گیا کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح رقص کرتے ہیں جو انسان کے وقار‘ حیا اور خودداری کے بالکل منافی ہیں۔ پھر وہ پختہ نصوص کی تاویل کرتے ہیں ان کے اکثر اعمال ایسے ہیں کہ جن میں مختلف انداز سے خود کو اذیت پہنچانے پر زور دیا جاتاہے۔ ان کے ہاں عبادات کا اکثر دارومدار صرف ذکر پر ہے۔ اسی طرح وہ اولیاء اور بزرگوں کا اتنا ذکر کرتے ہیں اور ان سے اتنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں کہ اس قدر عقیدت کا اظہار اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ سے بھی نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں وہ کچھ خاص خیالات کا اظہار کے حامل ہیں‘ جو اکثر ایسے خیالات ہیں جو سنت پر کماحقہ عمل کرنے والے سلف صالحین پر طعن پر مشتمل ہیں۔ البتہ ان کے ہاں بعض ایسے خیالات بھی پائے جاتے ہیں جو سف صالحین کے فہم کے مطابق سنت صحیحہ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ میں نے ان حضرات سے متعدد بار ملاقات کی ہے تاکہ اس دنیا کے خفیہ گوشوں سے واقفیت حاصل کرسکوں۔ ان میں سے اکثر افراد معاشرہ کے نمایاں طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں یونیورسٹیوں کے پروفیسر بھی ہیں‘ ڈاکٹر اور انجینئر بھی۔ ملازمت پیشہ افراد بھی ہیں اور عام لوگ بھی۔ ان میں نوجوان بکثرت موجود ہیں۔
میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ بالا اسباب کے باوجود میں ان کی مجلس میں بیٹھنے سے گناہ گار تو نہیں ہوا؟ اور یہ بھی گزارش کرتاہوں کہ ان صوفیانہ مذاہب اور عقائد کے متعلق وضاحت سے بیان فرمادیں۔ خصوصاً اس لئے بھی کہ ان سلسلوں نے باقاعدہ منظم صورت اختیار کرلی ہے جن کے باقاعدہ ادارے اور تنظیمیں ہیں جنہیں حکومت بھی تسلیم کرتی ہے۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

الحمدللہ میں جناب رسول اللہﷺ اور سلف صالحین کی پیروری کی کوشش کرتاہوں۔ صرف معلومات حاصل کرنے کی نیت سے صوفیہ کی بعض مجالس میں شریک ہوا اور یہ دیکھ کر ششدررہ گیا کہ وہ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح رقص کرتے ہیں جو انسان کے وقار‘ حیا اور خودداری کے بالکل منافی ہیں۔ پھر وہ پختہ نصوص کی تاویل کرتے ہیں ان کے اکثر اعمال ایسے ہیں کہ جن میں مختلف انداز سے خود کو اذیت پہنچانے پر زور دیا جاتاہے۔ ان کے ہاں عبادات کا اکثر دارومدار صرف ذکر پر ہے۔ اسی طرح وہ اولیاء اور بزرگوں کا اتنا ذکر کرتے ہیں اور ان سے اتنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں کہ اس قدر عقیدت کا اظہار اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ سے بھی نہیں کرتے۔ علاوہ ازیں وہ کچھ خاص خیالات کا اظہار کے حامل ہیں‘ جو اکثر ایسے خیالات ہیں جو سنت پر کماحقہ عمل کرنے والے سلف صالحین پر طعن پر مشتمل ہیں۔ البتہ ان کے ہاں بعض ایسے خیالات بھی پائے جاتے ہیں جو سف صالحین کے فہم کے مطابق سنت صحیحہ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ میں نے ان حضرات سے متعدد بار ملاقات کی ہے تاکہ اس دنیا کے خفیہ گوشوں سے واقفیت حاصل کرسکوں۔ ان میں سے اکثر افراد معاشرہ کے نمایاں طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں یونیورسٹیوں کے پروفیسر بھی ہیں‘ ڈاکٹر اور انجینئر بھی۔ ملازمت پیشہ افراد بھی ہیں اور عام لوگ بھی۔ ان میں نوجوان بکثرت موجود ہیں۔

میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ بالا اسباب کے باوجود میں ان کی مجلس میں بیٹھنے سے گناہ گار تو نہیں ہوا؟ اور یہ بھی گزارش کرتاہوں کہ ان صوفیانہ مذاہب اور عقائد کے متعلق وضاحت سے بیان فرمادیں۔ خصوصاً اس لئے بھی کہ ان سلسلوں نے باقاعدہ منظم صورت اختیار کرلی ہے جن کے باقاعدہ ادارے اور تنظیمیں ہیں جنہیں حکومت بھی تسلیم کرتی ہے۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صوفیہ کے تمام فرقوںا ور جماعتوں کے م تعلق یہ معلوم ہے کہ وہ غیر مسنون طریقے سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ نجاچتے اور جھومتے ہیں اور دائی بائیں اور نیچے حرکت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایسے نام لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے مقرر فرمائے ہیں نہ اللہ کے نبیa نے بتائے ہیں۔ مثلاً ھو ھو اور آہ آہ آہ اور صرف نام کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً اللہ اللہ اللہ اور ذکر قلبی کرتے ہیں جس طرح نقشبندی کرتے ہیں اور باجماعت ایک آواز سے کرتے ہیں اور اپنے اذکا روظائف میں غائب اور مردہ افراد سے فریاد کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں: ’’مدد یا ابا العباس!‘‘ ’’مدد یا دسوقی!‘‘ حالانکہ ایسا کرنا شرک ہے جو انسان کو اسلام سے خارج کردیتا ہے۔ اپنے بزرگوں کے متعلق ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ان ہیں علم لدنی حاصل ہوتاہے جس کی وجہ سے انہیں غیبی امور کا علم ہوجاتاہے اور یہ بھی عقیدہ ہے کہ بزرگوں کے پاس ایسے اسرار ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ماوراء الاسباب طریقے سے تصرف کر لیتے ہیں۔ (مزید معلومات کیلئے) آپ شیخ عبدالرحمان الوکیل کی کتاب ’’ھذہ ہی الصوفیہ‘‘ کا مطالعہ کیجئے آپ کو کو ان کی بہت سی بدعات کا علم ہوجائے گا۔ ہم آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ایسے افراد کی مجلس میںبیٹھیں جن کے متعلق آپ کو معلوم ہو کہ وہ قرآن وسنت پر عمل کرتے ہیں اور بدعت کی تردید کرتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ