سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(322) مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی

  • 14433
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-18
  • مشاہدات : 780

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا بہنوئی فوج میں ملازم تھا۔ فوج والوں نےاس کو پاگل قرار دے کر بورڈ کردیا ۔ گھر میں اس کو باندھ کر رکھا گیا کہ اس  کا دماغی توازن درست نہیں تھا۔ اگر اس کا دماغی توازن درست ہوتا ہے گھر میں کوئی نقصان نہیں کرتا ۔ پھر اس کو فوج کےدفتر میں لے گئے ،پنشن کے کاغذات پر دستخط کرنے کے لئے کہا گیا تو ہمارے بہنوئی نے دستخط کرنے کی جگہ طلاق کرلفظ لکھ دیا  تھا اور کوئی نام نہیں لکھا ۔ فوج والوں نے  پھر اس سےدستخط نہیں کرائے ۔پھر ہماری بہن ہمارے گھر چلی آئی  اور ہماری بہن نےکہا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے ۔ گواہ پوچھے تو اس نے ایک آدمی کانام لیا ۔جس کانام اشرف ہے ہمارے بہنوئی کے پڑوس میں رہتا ہے ۔ تو محمد اشرف نے کہا کہ میں ہر وقت اور ہر جگہ یہ حلف دینے کو تیار ہوں کہ اس نے طلاق نہیں دی ۔ ہم اپنی بہن کو کہتے ہیں کہ جا کر اپنا گھر آباد کروتو وہ کہتی ہےکہ مجھے طلاق ہوچکی ہے ۔ اس بات  پر آٹھ ماہ گزر چکے ہیں ۔ اب ہمارے پڑوس میں تین آدمیوں نےایک مفتی کے پاس جاکر یہ بیان دیا ہے کہ ہمارے بہنوئی نےان کے سامنے طلاق دی ہے۔ ان تینوں آدمیوں نے پہلے اپنے گھر ویران کئے ہیں ۔ اس لئے ہم ان کی گواہی قبول نہیں کرتے ۔ادھر ہمارے بہنوئی نے بھی قسم اٹھائی کہ میں نے طلاق نہیں دی ۔ اور ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ جب میں بیمار تھا اس وقت کا مجھے پتہ نہیں ۔اب وہ تندرست ہے اور کہتا ہے کہ میں نےطلاق نہیں دی ۔ آپ کتاب وسنت کے مطابق بتلائیں کہ یہ نکاح دوبارہ ہو گا یا پہلے نکاح میں گھر جائے گی ،جب کہ ہمارے گاؤں کا مفتی کہتا ہےکہ یہ نکاح دوبارہ ہوگا ؟(سائل :محمد یوسف ولد میاں بھٹی ۔ بمقام گھنگوال ڈاکخانہ خاص براستہ جھاوریاں تحصیل شاہ پور ضلع سر گودھا ۔بذریعہ حضرت مولانا محمد شریف حصاروی بن محمد سلطان خطیب مسجد بیت الحمد ومدیر مدرسہ عمر بن  الخطاب 2/34 شاہ فیصل ٹاؤن کورنگی نمبر 3 کراچی نمبر 31)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال صورت مسؤلہ میں واضح ہو کہ اگر یہ بات درست ،سچ اور واقعہ کےمطابق ہے کہ فوج کے محکمہ نےطلاق دہندہ کو پاگل قرار دے کر بورڈ کر دیا ہےتو ظاہر ہے  کہ انہوں نےکوالیفائڈ ڈاکڑوں کے طبی معائنہ اور رپورٹ کے بعد ایسا  کیا ہے جوا س بات کاقوی اور مظبوط ترین قرینہ اور ثبوت ہے کہ یہ شخص واقعی پاگل ہے اور اس کا دماغی توازت  سچ مچ بگڑ چکا ہے اور پاگل اور دماغی مریض کا کوئی تصرف طلاق وغیرہ بالاتفاق علمائے شریعت شرعا معتبر نہیں کیونکہ وقوع طلاق کے لئے شوہر کا   عاقل ،با لع اور ہر لحاظ سے بااختیار ہونا شرعا ضروری ہے ۔ جب یہ تینوں شرطیں موجود ہوں گی ورنہ لغو اور باطل ہوگی ۔کیونکہ طلاق ان تصرفات میں سے ایک ایسا تصرف ہے جو زوجین کی زندگی پر گہرا اثر ڈالتا ہے اور گھمبیر نتائج پر مبنی ہوتاہے ۔ اس لئے طلاق کےوقت طلاق دہندہ کالحاظ  سے طلاق کا اہل ہونا ضروری ہے ۔تاکہ اس کا یہ تصرف شرعا صحیح قرار پائے اور اہلیت کا ملہ کے لئے عقل ،بلوغ اور اختیار کامل کا ہونا ضروری ہے اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہوگی تو طلاق شرعا لغو قرار پائے گی ۔

فاتفق العلماء على أن الزوج، العاقل، البالغ، المختار هو الذي يجوز له أن يطلق، وأن طلاقه يقع.فإذا كان مجنونا، أو صبيا أو مكرها، فإن طلاقه يعتبر لغوا لو صدر منه، لان الطلاق تصرف من التصرفات التي لها آثارها ونتائجها في حياة الزوجين، ولابد من أن يكون المطلق كامل الاهلية، حتى تصح تصرفاته.وإنما تكمل الاهلية بالعقل والبلوغ، والاختيار(فتاوی نذیریه ج 3 ص 73، فقه السنة : ج 2ص 211.)

علماء کا اتفاق ہے کہ وقوع طلاق کے لئے طلاق دہندہ کا عاقل ،بالغ مکمل بااختیار ہونا ضروری ہے ،وہ پاگل یانابالغ اور یا وہ سچ مچ مکرہ (مجبور محض ) ہوتو اس کی طلاق  لغو یعنی غیر معتبر ہوگی ۔کیونکہ طلاق نہج ہوتا ہے ،اس لئے ضروری ہے کہ طلاق دیتے وقت  طلاق دینے والا ہر لحاظ کی اہلیت رکھتا ہواور کامل اہلیت کے لئے عاقل ،بالغ اور مختار ہونا ضروری ہے ۔

چنانچہ حدیث میں ہے :

  عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍۃ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغیر حَتَّى یکبر، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ او یفیق. (رواہ احمد والاربعة الا الترمذی وصححہ الحاکم واخرجه ابن حبان ، سبل السلام :ج3ص181.)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۔ سوئے ہوئے سےجب تک وہ بیدار نہ ہو اور نابالغ بچے سے جب تک وہ بڑا نہ ہوجائے اور پاگل آدمی سے جب تک وہ تندرست نہ ہوجائے یا اسکو  افاقہ نہ ہوجائے ۔،،

امام محمد بن اسماعیل الامیر ایمانی اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں :

وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الثَّلَاثَةَ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِمْ تَكْلِيفٌ، وَهُوَ فِي النَّائِمِ الْمُسْتَغْرِقِ إجْمَاعٌ وَالصَّغِيرِ الَّذِي لَا تَمْيِيزَ لَه وَفِيهِ خِلَافٌ إذَا عَقَلَ وَمَيَّزَ وَأَمَّا الْمَجْنُونُ فَالْمُرَادُ بِهِ زَائِلُ الْعَقْلِ فَيَدْخُلُ فِيهِ السَّكْرَانُ وَالطِّفْلُ كَمَا يَدْخُلُ الْمَجْنُونُ لِانْعِقَادِ الْإِجْمَاعِ عَلَى أَنَّ مِنْ شَرْطِ التَّكْلِيفِ الْعَقْل َ وَمَنْ لَا يَعْقِلُ مَا يَقُولُ فَلَيْسَ بِمُكَلَّفٍ(سبل السلام :ج3 ص181)

’’اس حدیث میں دلیل ہے کہ ان تینوں پرشرعی احکام  لاگو نہیں ہوتے کیونکہ ان میں عقل مفقود ہوتی ہے ۔لہذا ان کےتصرفات طلاق وغیرہ بھی لغو ہوتے ہیں اور بالاجماع لغو ہوتےہیں ،تاہم بچے کےبارے میں اختلاف ہے ۔،،

امام محی السنۃ البغوی ارقام فرماتےہیں :

واتفق اھل العلم علیٰ ان الطلاق الصبی والمجنون لا یقع قال علی رضی اللہ عنہ الم تعلم  ان القلم رفع عن ثلاثۃ عن المجنون حتیٰ یفیق وعن الصبی حتی ٰ یدرک وعن النائم حتی ٰ یستقظ ویرویٰ ھذا عن علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم رفع القلم عن ثلاث واخرجه البخاری تعلیقا ۔.(شرح السنة ج5 ص161)

مگر حافظ ابن حجر نے کہا ہےکہ اس روایت کاموقوف ہونا راجح ہے کہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ بچے اور پاگل کی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ حدیث  رفع القلم عن ثلاثۃ اس کی دلیل ہے ۔

ابو ھریرہ رفعه کل طلاق جائز الا طلاق المعتوہ والمغلوب علیٰ عقله..( رواہ الترمذی : حدیث رقم 4397.)
 قال عثمان لیس لمجنون ولالسکران طلاق صحیح البخاری ج2 ص 793. رواہ البخاری تعلیقا ۔ حدیث رقم 4399۔جمع الفوائد ج1 ص 676۔ وفی حدیث بریدة فی قصة ماعز انه قال یارسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم طھرنی قال مما ؟ اطھرک قال من الزنا قال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ابه جنون ؟رواہ مسلم وفی لفظ البخاری ابک جنون ؟ 

حضرت ماعز ﷜ نے عرض کیا کہ حضرت! مجھے پاک فرمائے فرمایا کس چیز سے پاک کروں؟ عرض کیا نازل کی نجاست سےتو آپ نےفرمایا یہ شخص میں لکھتے ہیں :

وفیه دلیل علی ان الاقرار من المجنون لا یصح وکذلک سائر التصرفات والانشات ولا احفظ فی ذلک خلافا. ( نیل الاوطار ج6 ص 265،266.)

اس حدیث میں دلیل ہے اس بات کی کہ پاگل کا اقرار شرعا صحیح نہیں اور یہی حکم ہے اس کے دوسرے تصرفات اور  انشائی معاملات کا ۔ اس مسئلہ میں مجھے کسی کا خلاف یاد نہیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاگل آدمی کی طلاق شرعا واقع نہیں تمام مذاہب اسلام کا یہ متفق علیہ مسئلہ ہے ۔ کسی نےاس میں کوئی اختلاف نہیں کیا ۔رہا آپ کی ہمشیرہ کا یہ اصرار کہ مجھے طلاق دے دی گئی ہے تو بظاہر اس کا یہ اصرار جذبات پر مبنی ہے اس کی کوئی شرعی حثیت نہیں اور رہی تیں آدمیوں کی مفتی کے پاس طلاق کےثبوت میں شہادت ۔ تو بلاشبہ اثبات کےگو اہ نفی کے گواہوں پر مقدم ہوتےہیں ۔ یعنی ان تینوں گواہوں کی گواہی طلا کے اثبات میں کافی ہوتی  بشرطیکہ یہ گواہ عادل ہوتے ، مگرجیساکہ آپ نےان پر جرح کرتےہوئے اپنے سوال نامہ  میں لکھا ہےکہ یہ تینوں شخص اپنے گھر ویران کر چکےہیں ۔جیسا  کہ خط کشید ہ تصریح اس بات پر دلالت کر رہی ہے ۔ لہذا اگر  آپ کی یہ جرح حقیقت پر مبنی ہے تو ان کی یہ گواہی شرعا معتبر نہیں ۔ بلکہ کسی  مفاد پر مبنی ہے ۔بہرحال فوج کے افسران کا آپ کے بہنوئی کو بورڈ کر دینا بظاہر ایسا قوی قرینہ ہے کہ اس کے مقابلے میں آپ کی بہن کا جذباتی  اصرار اور ان تینوں گواہوں کی شہادت شرعا معتر نہیں  ۔ اور نکاخ سابق شرعا بحال او رقائم ہے لہذا  نئے نکاخ  کی ہرگز ضرورت نہیں ۔ یہ ساری بحث تواس صورت میں ہے کہ آپ کے بہنوئی نے جنون کی حالت میں لفظ طلاق  لکھ دیا او ر اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اس نے لفظ طلا ق سوچ سمجھ کر لکھا تھا اور اب مرض جنون کو بہانہ بنارہا ہےتو اگر اس نے  اس طلاق سے پہلے کبھی طلاق نہیں دی  تو یہ اس کی پہلی رجعی طلاق ہے اور چونکہ اس طلاق پر آٹھ مہینے کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ لہذا اب نیا نکاح پڑھنا نا گزیر اور شرعا ضرور ہے ۔ حلالہ وغیرہ کی قطعا ضرورت نہیں ۔

فیصلہ :

بشرط صحت سوال اگر واقعی افواج نےآپ کے بہنوئی کو طبی معائنہ کے بعد پاگل قرار دے کر بورڈ کر دیاتھا ۔ اور اس نے پنشن کے کاغذات پر بجائے دستخظ کے طلاق کا لفظ لکھ دیا تھا بلا شبہ اس کس یہ طلاق شرعا لغو او ر باطل ہے اور ہرگز معتبر نہیں ۔ ورنہ بصورت دیگر نکاح ثانی کرنا ضروری ہے ۔ مفتی کسی قانونی سقم او رعدالتی جھلمیوں کاہر گز ذمہ دار نہ ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص818

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ