سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(314) جگھڑے کے دران اکٹھی تین طلاقیں دینا

  • 14425
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-14
  • مشاہدات : 645

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں یہ کہ مسمی محمد انور ولد خوشی محمد قوم قریشی سکنہ چاہ آنہ تحصیل  بنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد کا رہائشی ہوں یہ کہ مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے جو ذیل عر ض کرتا ہوں ۔یہ کہ میری بیٹی مسماۃ نصرت بی بی کانکاح ہمراہ مسمی  غلام حسین ولد محمد صدیق قوم قریشی موضع چاہ آنہ  تحصیل بنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد سے عرصہ تقریبا 5 سال قبل کر دیا تھا۔ جب کہ مسمات مذکورہ اپنے خاوند کے ہاں ساڑھے تین سال  وقفہ وقفہ سے آباد رہی ۔دوران آبادگی خاوند مذکور کے نطفہ سے ایک بچہ بیدا ہوا جو حیات ہےاور اس کی عمر تقریبا 2سال ہےاور مسمات کے پاس ہے ۔دوران آبادگی خاوند مذکور نے مسمات پر الزام بد چلنی کا لگا نا شروع کر دیا  اور اپنے بچے کو ابنا نطفہ ماننے سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے گھر میں اکثر لڑائی جھگڑا رہتا اور خاوند مذکور مسمات کو معمولی معولی باتو  ں پر طعنے وغیرہ دیتا اور زدکوب کرتا ۔ آخر کار خاوند مذکور نے مسمای کو مارپیت کر گھر سے دھکے دے کر اور تین بار زبانی طلاق طلاق طلاق کہہ کہ ہمیشہ کے لئے گھر سے باہر نکال دیا ہے ۔ جس کو عرصہ تقریبا ڈیڑھ سال کا ہو چکاہے اور آج تک رجوع نہیں کیا ہے ،حالانکہ برادری والون نے کئی بار مصالحت کی بے حد کو شش کی جو ناکام  رہی ۔ اب علمائے دین سے سوال ہے کہ آیا شرعا سہ بار زبانی طلاق طلاق طلاق واقع  ہو چکی ہے یا نہیں ؟ ہمیں مدلل شرعا جواب دے کر عنداللہ ماجو ر ہوں،کذب بیانی ہوگی توسائل خود ذمہ دار ہوگا ،لہذا مجھے شرعی فتویٰ صادر فرمائیں ۔(سائل :محمد انور حقیقی باپ مسماۃ مذکورہ نصرت بی بی )

تصدیق : ہم اس سوال کی حرف بحرف حلفا خدا  تعالیٰ کو جان کر تصدیق کرتے ہین کہ سوال بالکل صداقت پر مبنی ہے اگر کسی بات غلط ثابت ہو گا تو ہم اسکے  ذمہ دار ہوں گے  ،لہذا شرعی فتویٰ صادر فرمائیں۔

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال صورت مسؤلہ میں واضح ہو کہ صورت مسؤلہ میں ایک رجعی طلاق واقع ہو چکی ہے ۔ کیو نکہ طلاق دینے کا تعلق خاوند کی نبت اور زبان سے ہوتا ہے ۔ لہذا خاوند عاقل بالغ اپنی مرضی سے بلا جبر واکراہ  جب چاہے اور جن الفاظ سے چاہے طلاق دے سکتا ہے ، یعنی الفا ظ صریح ہوں یا کنائی ،تحریر تو اس کو اثبات کے لئے ہوتی ہے ۔ چنا نچہ صحیح بخاری میں ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَتَكَلَّم. (1) باب الطلاق فی الاغلال ولکرہ والنیان ج 2 ص 793،794

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نےمیر ی امت کے لوگوں کے خیالات کو معاف کر رکھا ہے جب تک وہ اپنے ان دلی  خیالات کو عملی جامہ نہ پہنائین یا زبان سے بول کر لفظوں میں ادا نہ کر یں۔ اور یہ حدیث صحیح مسلم ج1 کتاب الایمان میں بھی مروی ہے ۔ اس حدیث صحیح کے آخر ی جملہ او تتکم  سے صاف طور بر ثابت ہوتا ہے کہ زبانی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے ۔ امام تر مذی اپنے دستور کے مطابق اس حدیث  کے آخر میں ارقام فرماتے ہیں :

وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ العِلْمِ: أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا حَدَّثَ نَفْسَهُ بِالطَّلاَقِ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ حَتَّى يَتَكَلَّمَ بِهِ. (2)تحفة لاحوذی ج2 ص 215۔باب ماجاء  فی من یحد ث نفسه بطلاق إمراتة-

کہ اہل علم کا اس حدیث پرعمل ہےکہ طلاق دہندہ کے دل کے خیال سے اس وقت تک طلاق نہیں پڑتی جب تک وہ زنان سے لفظ طلاق بول کر ادا نہ کرے ۔ لہذا ثابت ہواکہ زبانی طلاق بھی شرعا واقع ہوجاتی ہے ۔

امام ابن قدامہ حنبلی ارقام فرماتے ہیں :

وجملة ذلک أن الطلاق لا یقع الا بلفظ فلو نواہ بقلبه من غیر لفظ لم یقع فی قول عامة اھل العلم منھم عطاء وجابر ن زید وسعید بن جبیر ویحییٰ بن ابی کثیر امام شافعی ،امام اسحاق ،امام قاسم ،امام سالم ،امام حسن بصری ،امام عامر شعبی ۔.(3)مغنی ابن قدامہ ج7 ص 294

امام ابن رشد مالکی لکھتےہیں :

أجمع المسلمو ن علی أن الطلاق یقع إذا کان بنیه ولفظ صریح فمن اشترط فیه النیة والفظ الصریح فاتباعا لظاھر الشرع.(4) بدایة المجتھد : ج 2 ص 55

’’اس بات پر علمائے اسلام کا اجماع ہے جب بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے طلاق کا لفظ زبان سے  ادا کرےگا تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔،،

فالمشہور عن مالک ان  الطلاق لا یقع الا بلفظ ونیۃ . (1)بدایۃ المجتہد :ج 2 ص56

’’امام مالک کامشہور مذہب  یہ ہے کہ طلاق لفظ اور نیت سے ہی واقع ہو تی ہے ۔،،

شیخ الکل الامام السید نذیر حسین المحدث الدہلوی اور مفتی عبد الحق ملتانی فرماتے ہیں کہ جب شوہر شریعت کے مطابق اپنی بیوی کو طلاق دے گا تو زبانی دے یا تحریری طلاق   خواہ مخواہ پڑجائے گی .(2) فتاویٰ نذیریہ ج3 ص73

ابو الحسنات عبد الحی حنفی لکھنوی لکھتے ہیں :

فإن رکن الطلاق هو التلفظ بلفظ یدل علیه فلا یقع بمجر د العزم والنیة کذا فی  البنایة.(3) عمدة الرعایة ج 2 ص 77 حاشیه 7 658۔
مفتی محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں دیو بند ل کا بھی یہی فتوی ہے زبانی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔۔( فتاویٰ دارالعلوم دیو بند ج 2 ص) خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا احادیث صحیحہ صریحہ کی رو  سے جمہور علمائے امت کے نزدیک صورت مسؤلہ میں ایک رجعی طلاق واقع ہو چکی ہے ۔اور سوال نامہ کی خط کشیدہ تصریح کی مطابق اس طلاق پر عرصہ ڈیڑھ بر س کا گز چکا ہے ۔لہذا طلاق موثر ہو کرنکاح ٹوٹ گیا ہے اور مسمات نصرت دختر محمد انور اپنے شوہر کے حبالہ عقد سے آزاد ہوچکی ہے ۔ یہ جواب ایک شرعی مسئلہ کا شرعی جواب ہے جو بشرط صحت سوال وصداقت گواہان مذکور بالا تحریر میں لا گیا ہے ۔ مفتی کسی قانونی سقم کا ہرگز ذمہ درار نہ ہوگا نیز عدالت مجاز سے تو ثیق بھی ضروری ہے ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص797

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ