سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(302) خرچہ نہ دینے والے اور مفقود الخبر خاوند کی بیوی نکاح ثانی کی مجازہے

  • 14413
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-13
  • مشاہدات : 698

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج سے چھتیس سا ل پہلے ایک عورت کا نکاح ایک شخص سے ہوا جواب عرصہ تیرہ سے لاپتہ ہے ۔بہت تلاش کے باوجود نہیں ملی سکا۔نہ تو اس نےحق زوجیت ادا کیا اور نہ ہی نان ونفقہ کا کفیل ہوا ہے۔اب اس کے بچے بڑے ہوگئے ہیں خرچہ بڑھ گیا ہے اور گزرا وقات بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔بچوں کی تعلیم کا مسئلہ بھی الجھ گیا ہے تو کیا یہ عورت اپنی گزراوقات اور اپنے بچوں کی پرورش کے لیے نکاح ثانی کرسکتی ہے ۔کیا شرع محمدی اس کی اجازت دیتی ہے ؟(سائل :جان محمد اعوان مکان نمبر 240تھلہ وعظ والا ملتان شہر)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج سے چھتیس سا ل پہلے ایک عورت کا نکاح ایک شخص سے ہوا جواب عرصہ تیرہ سے لاپتہ ہے ۔بہت تلاش کے باوجود نہیں ملی سکا۔نہ تو اس نےحق زوجیت ادا کیا اور نہ ہی نان ونفقہ کا کفیل ہوا ہے۔اب اس کے بچے بڑے ہوگئے ہیں خرچہ بڑھ گیا ہے اور گزرا وقات بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔بچوں کی تعلیم کا مسئلہ بھی الجھ گیا ہے تو کیا یہ عورت اپنی گزراوقات اور اپنے بچوں کی پرورش کے لیے نکاح ثانی کرسکتی ہے ۔کیا شرع محمدی اس کی اجازت دیتی ہے ؟(سائل :جان محمد اعوان مکان نمبر 240تھلہ وعظ والا ملتان شہر)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال وتصدیق گواہان ثلاثہ واضح ہو کہ یہ عورت مجاز افسر یعنی جج فیملی کورٹ شہر ملتان سے اجازت حاصل کرکے ،چار ماہ دس دن کی عدت گزار کر حسب منشا نکاح ثانی کر سکتی ہے ۔اور یہ نکام دو طرح سے شریعت محمدی (علی صاحبها الصلوٰة والسلام )کے مطابق صحیح اور شرعی نکاح ہوگا۔

1۔حسب تحریر ،خاوند عرصہ تیرہ سال سے مفقود الخبر (یعنی لاپتہ )ہے ۔اور خاوند کے مفقود الخبر ہوجانے پر بیوی کا اس کا صرف چار سال تک انتظار کرنا ہوتا ہے۔اگر وہ اس عرصہ میں واپس گھر آجائے تو فبہا ورنہ بیوی کو 4 ماہ دس دن (بیوہ)کی عدت گزارنا پڑتی ہے ،جیسا کہ سید نا عمر فاروق ﷜ کافیصلہ ہے:عن مالک عن یحییٰ بن سعید بن المسیب ان عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنه قال ایما امراة فقدت زوجھا فلم تدر این ھو فانھا تنتظر اربع سنین ثم اربعة اشھر وعشرا ثم تحل. (1)موطا مام مالک باب عدةالتی تفقد زوجھاص209۔

کہ حضرت عمر فاروق ﷜ نے فرمایا کہ جس عورت کا خاوند مفقود (لاپتہ )ہوجائے اوراس کا کچھ پتہ نہ چلے کہ کہاں ہے ،زندہ یا فوت ہو چکا ہےتو وہ عورت اس کی واپسی کا 4سال انتظار کرے ۔اگر اس عرصہ میں اسکا کچھ پتہ نہ چلے تو وہ اس کی فوتگی کی 4 ماہ دس دن عدت گزار کر اس کے نکاح سے آزاد ہوجائے۔

یعنی اب اس کے مفقود خاوند کو مردہ تصور کیاجائے گا اوراسے فوتگی کی عدت گزارنی ہوگی ۔بعد ازاں وہ نکاح ثانی کر سکتی ہے ۔حنفیہ نےایسی بد نصیب عورت کے لئے انتظار کی مدت 90سال اور 4ماہ دس دن عدت رکھی ہے۔ملاحظہ ہو فتاویٰ عالمگیر ی ص300ج2 طوعی روڈ کو ئٹہ ۔

اور ظاہر ہے کہ نوے سال اور پھر 4ماہ دس دن کے انتظار کے بعد نہ تو وہ اس قابل ہوگی کہ اسے خاوند کی ضرورت ہو اور نہ کوئی اس بوڑھی فرتوت کو قبول کرے گا ۔ویسے بھی اتنی عمر شاذ ونادر ہی کوئی فرد پاتا ہے ،یعنی 90سال انتظار ،4 ماہ دس دن عدت ،شادی سے پہلے اور بعد کا عرصہ تقریبا سوا سو سال  یا کچھ کم وبیش ،لہذا احناف کا یہ فتویٰ حنسی معاشی ،اور معاشرتی تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔

پس حضرت عمر فاروق ﷜ کے اس صحیح اور محتاط فیصلہ کے مقابلہ میں حنفیہ کا فتویٰ نہ تو درخود اعتناء ہے اور نہ قابل التفات اس لئے ہمارے نزدیک حضرت عمر ﷜ کا فیصلہ ہی قول فیصل ہے۔

2۔خاوند پر بیوی کانان ونفقہ یعنی خوراک ،لباس ،رہائش اور علاج واجب ہے ۔اگر خاوند اپنی بیوی سےنان ونفقہ میں عمدا کوتاہی کرے یا نان ونفقہ دینے سے قاصر ہو اور بیوی اس حالت میں اپنے خاوند کے ساتھ نباہ کرنے کےلئے تیار نہ ہو تو اس بیوی کو عدالت مجاز سےاجازت حاصل کر کے نکاح ثانی کاحق حاصل ہوتاہے ۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ﷜ سے مروی ہے:

عن أَبی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا تَرَكَ غِنًى، وَاليَدُ العُلْيَا خَيْرٌ مِنَ اليَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» تَقُولُ المَرْأَةُ: إِمَّا أَنْ تُطْعِمَنِي، وَإِمَّا أَنْ تُطَلِّقَنِي، وَيَقُولُ العَبْدُ: أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي، وَيَقُولُ الِابْنُ: أَطْعِمْنِي، إِلَى مَنْ تَدَعُنِي "، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «لاَ، هَذَا مِنْ كِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ۔(1)صحیح بخاری باب وجوب النفقة علی الاھل والعیال ج2 ص 806.

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل صدقہ وہ ہے جس کے بعد صدقہ دینے والا خود محتاج نہ ہو ۔اور دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے افضل ہے ۔نیز پہلے زیر کفالت لوگوں پر خرچ کرنا چاہیے ۔بیوی کہتی ہے کہ یا تو مجھے کھلاؤ یا پھر طلاق دے دو۔ غلام کہتا ہے مجھے کھلاؤ پلاؤ اور کام پر لگاؤ ،بیٹا کہتا ہے ،مجھے کھلاؤ ،مجھے کس کے سپرد کرتے ہو؟ شاگردوں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے دریافت کیا کہ تقول المراۃ سے لے کر آخر تک آپ نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے؟ تو حضرت ابو ہریرہ نےجواب دیا :یہ جملے میرے ہیں

شیخ الاسلام حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :واستدل بقوله أما أن تطعمنی واما أن تطعمنی من قال یفرق بین الرجل وإمراته إذاعسر بالنفقة واختارت فراقة وہوقول جمہور العلماء وقال الکوفیون یلزمھا الصبر وتتعلق النفقۃ بذمته واستدل الجمہور بقوله تعالی ولا تمسکو ھن ضرارا لتعتذوا. (2)فتح الباری :ص416.

کہ حضرت ابو ہریرہ ﷜ کے قول اماان تطعنی سے جمہور علمائے امت نے استدلال کیا ہے کہ جب کوئی خاوند اپنی بیوی کے نان ونفقہ سے عاجز آجائے اور بیوی اس حالت میں اس کے  ساتھ نباہ کرنے کے لئے تیار نہ ہوتو ان دونوں کے درمیان تفریق کر ادینی چاہیے ۔تاہم اہل کو فہ کہتے ہیں کہ اس حالت میں بیوی پرصبر لازم ہے اور نفقہ بہر حال خاوند کے ذمہ ہے ۔اور جمہور علماء کے استدلال کی بنیاد یہ آیت ہے ۔( ولا تمسکو ھن ضرارا لتعتذوا.)

کہ بیویوں کو دکھ دینے کے لیے مت روک رکھوتاکہ تم حد سے تجاوز نہ کرو۔

2۔عن سعید بن یحی ٰ عن سعید بن المسیب رحمه اللہ فی الرجل لا یجد ما ینفق علی اھله قال یفرق بینھا.(أخرجه سعید بن منصور عن سفیان بن أبی الزناد عنه قال قلت ‎لسعید بن المسیب سنة قال سنة وھذا مرسل قوی ومرا سیل سعید بن المسیب معمول بھا لما عرف من أنه لا یرسل إلا عن ثقة قال الشافعی والذی یشبه أن یکون قول سعید سنة سنة رسول اللہ صلی علیہ وسلم. (1)سبل السلام ص 274ج3باب من لم یحد ماینفق علی امراتہ یفرق بینھما وتو ضیح الاحکام ج5ص146

یعنی جلیل القدر تابعی حضرت سعید بن مسیب کا فتویٰ ہے کہ جو خاوند اپنی بیوی کو خرچہ نہیں دیتا تواس جوڑے کے درمیان تفریق کرادی جائے ۔ابو الزناد کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ کیا یہ سنت ہے ؟تو انہوں نے فرمایا :ہاں یہ سنت ہے اور امام شافعی کہتے ہیں سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ویسے بھی سعید بن مسیب کے مراسیل معمول بہا ہیں ۔کیونکہ ون ثقہ راویوں سے ارسال کرتے ہیں ۔

3۔عن عمر رضی اللہ عنه إنه کتب إلی امراء الاجناد فی رجال غابوا عن نساء ھم أن یاخذوھم بأن ینفقوا أویطلقوا فإن طلقوا بعثوا ما جسوا ۔اخرجه الشافعی والبیھقی باسناد حسن. (2)سبل السلام ص 326ج3۔وتو ضیح الاحکام ج5ص 146.

’’حضرت عمر فاروق ﷜ نے مسلح افواج کے کمانڈر وں کو یہ فرمان بھیجا تھا کہ جو فوجی اپنی بیویوں سے غیر حاضر رہتے ہیں ،ان کو پابند کیا جائے کہ یاتو وہ اپنی جوروؤں کو نان ونفقہ بھیجیں یا پھر طلاق بھیج دیں ۔اگر طلاق دے دیں تو سابقہ مدت کاخرچ بھی بھیجیں ۔

مشہور محقق علامہ محمد بن اسماعیل  الامیر یمانی لکھتے ہیں :

وأنه دلیل علی أن النفقة عندہ لا تسقط بالمطل فی حق الزوجة وعلی أنه یجب أحد الأمرین علی الأزواج الانفاق او الطلاق. (3) سبل السلام :ص 226ح3.

کہ یہ اثر اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت عمر فاروق ﷜ کے نزدیک اگر خاوند بیوی کو خرچ دینے سے ٹال مٹول کرے تو پھر بھی بیوی کا واجبی خرچہ اس کے ذمہ واجب ہے ۔اور یہ اثراس بات کی دلیل بھی ہے کہ حضرت عمر فاروق کے نزدیک بیوی پر خرچ کرنا واجب ہے۔بصورت دیگر خاوند کو طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا۔

قد اختلف العلماء فی ھذالحکم وھو فسخ الزوجیة عند اعسار الزوج علی أقوال الأول ثبوت النسخ وھو مذھب علی وعمر وابی ھریرة وجماعة من التابعین ومن الفقہاء مالک والشافعی واحمد وبه قال أھل الظاہر مستدلیں بما ذکر وبحدیث لا ضرر ولا ضرار وبان النفقة فی مقابل الاستمتاع وبدلیل أن الناس لا نفقة لہا عندالجمہور فاذا لم بجب النفقة سقط الإستمتاع فوجب الخیار للزوجة وبأنه قد نقل ابن المنذر إجماع العلماء علی النسخ بالعنة الضرر الواقع من العجز من النفقة اعظم من الضرر الواقع من أن یکون الزوج عنینا وبانه تعالیٰ قال لا تضارو ھن وقال فامساک بعروف او تسریح باحسان وای امساک بعروف وأی ضرر أشد من ترکھا بغیر نفقة. (1)سبل السلام ،شرح بلوغ المرام ص3ص224.

کہ خاوند جب اپنی بیوی کو نان ونفقہ دینےسے عاجز آجائے تو اس کی بیوی کو فسخ  نکاح کا حق ملنے نہ ملنے میں علمائے امت کے مختلف اقوال ہیں ۔پہلا قول یہ ہے کہ اس صورت میں بیوی کو فسخ نکاح کاحق حاصل ہو جاتاہے ۔حضرت علی ﷜ ،حضرت عمر فاروق﷜ ،حضرت ابوہریرہ﷜،اور تابعین  ﷫ کی ایک جماعت اور فقہاء میں امام مالک ،امام شافعی ،امام احمد بن خنبل  اور اہل ظاہر کا یہی قول ہے اور مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ حدیث لا ضررولا ضرار سے بھی استدلال کرتے ہیں اس بات سے بھی استدلال لاتے ہیں کہ بیوی کانفقہ اس سے استمتاع کے عوض ہے ،جب نفقہ نہ ہوگا استمتاع نہ ہوگا: لہذا اس صورت میں بیوی کے لئے خیار فسخ کا حق بالاولی ٰ حاصل ہونا چاہیے ۔

علاوہ ازیں یہ گروہ آیت ولا تضارو ھن اور آیت فامساک بمعروق او تسریح باحسان سے بھی استدلال کرتا  اور کہتاہے کہ نان ونفقہ نہ ہونے میں امساک بالمعروف کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔اور بیوی کےلئے نان ونفقہ کی بندش سب سے بڑا ضرر ہے۔

پھر باقی اقوال پر محاکمہ کرتے ہوئے رقمطراز  ہیں :

وإذا عرفت ھذہ الأقوال عرفت أن  اقوالھا دلیلا وأکثرھا قائلا ھو القول الأول،(2)سبل السلام :ج5ص 226.

کہ ان اقوال کو بغور پڑھنے سے آپ کو پتہ چل گیا ہے کہ دلیل کی مضبوطی کے لحاظ سے اوپر پھر قائلین کی کثرت کے لحاظ سے زیادہ قوی پہلا قول ہی ہے کہ بیوی کہ نفقہ سے عاجز خاوند کی بیوی کی خیار فسخ کا حق حاصل ہو جاتاہے ۔

فیصلہ:

مذکورہ بالا احادیث ،صحابہ کرامؓ کی تصریحات ،تابعین کی تشریحات اور فقہاء ثلاثہ کی توقیعات ،الغرض !جمہور علمائےامت کےمطابق بشرط صحت سوال وبشرط صحت تصدیق گواہان ثلاثہ مسمات کنیز فاطمہ کو بہ دو وجہ نکاح ثانی کاحق پہنچتاہے ۔اول یہ  کہ اس کا خاوند عرصہ تیرہ سال سے مفقود ہے اور مدت انتظار صرف چار سال ہے جب کہ نو سال سے زیادہ ہو چکے ہیں ۔

دوسری یہ کہ عرصہ تیرہ سال سے نان ونفقہ نہیں دیا جو کہ واجب تھا۔لہذا کنیز فاطمہ کو چاہیے کہ وہ اس فتویٰ کی روشنی میں ملتان کی عائلی عدالت ،یعنی جج فیملی کورٹ سے باصابطہ اجازت حاصل کرے اور پھر 4ماہ دس دن عدت گزار کر نکاح ثانی کرے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص759

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ