سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(293) مسئلہ رضاعت غلطی سے بھتیجی کو دودھ پلانا

  • 14404
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-13
  • مشاہدات : 577

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری والدہ صاحبہ نے غلطی سے اپنی  بھتیجی کو دودھ پلادیا تھا اب اس بھتیجی  کا رشتہ  مجھ سے طے پایا ہے ،جب کہ ہم دونوں میں دودھ پینے  کی مدت کا فرق  دو سال کا ہے۔ کیا  یہ نکاح  جائز ہوگا؟ اس مسئلے کو قرآن حدیث کے حوالے سے تحریر کریں نکاح کی تاریخ  ۳۰ نومبر مقرر ہو چکی ہے ۔(محمد شفیق پسرور ضلع سیالکوٹ)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ جس طرح حقیقی ہمشیرہ سے نکاح حرام ہے اسی طرح رضاعی ہمشیرہ سے بھی نکاح حرام ہے چونکہ آپ کی تصریح کے مطابق آپ کی منسوبہ  لڑکی کو آپ کی والدہ دودھ پلاچکی ہیں لہٰذا وہ آپ کی رضاعی ہمشیرہ بن چکی ہے یہ کوئی ضروری نہیں کہ رضاعت کے ثبوت کے لئے  ایک ساتھ ہی دودھ پیا جائے ۔

۱: قرآن مجید میں ہے :

﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ ... ٢٣﴾....النساء

” اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے  اور تمہاری دودھ کی بہنیں تم پر حرام کی گئی ہیں “

تفسی ابن کثیر میں ہے :

(وعن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : { يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة } (ج۱ص ۶۹) (۱:تفسیر ابن کثیر  ج۱ ص۴۶۹ صحیح  البخاری ج۲ص۷۶۴)

”حضرت عائشہ  ام المومنین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بے شک رضاعت بھی  ان رشتوں کو حرام کر دیتی ہے  جنہیں نسب حرام قرار دیتی ہے“

لہٰذا ان دونوں حوالہ جات سے معلوم ہوا کی رضاعی ہمشیرہ سے نکاح  حرام ہے ۔اس لئے  آپ کی پھو پھی زاد نے چونکہ آپ کی والدہ کا دودھ پیا ہے لہٰذا وہ آپ کی رضاعی ہمشیرہ  بن چکی ہے بشرطیکہ  اس نے تین بار دودھ پیا ہو یعنی تین  دفعہ پستان منہ میں ڈال کر  دودھ پیا ہو اگر اس سے کم مرتبہ دودھ پیا ہو توپھر رضاعت ثابت نہیں ہوگی اور نکاح جائز ہوگا  ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص743

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ