سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(290) ایک دفعہ دودھ پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی

  • 14401
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-13
  • مشاہدات : 485

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گزارش  ہے کہ ہمارے ہاں یہ  ایک مسئلہ  پیش آیا ہے کہ ایک عورت ایک دوسرے بچے کو  اپنا  دودھ پلائے  صرف ایک دفعہ دودھ پلائے ۔ کیا اس عورت کی بچی کے ساتھ اس بچے کا نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت  سوال مسئولہ اس بچے کا اس عورت کی بچی کے ساتھ شرعاً  نکاح جائز ہے ،کیونکہ ایک  دفعہ دودھ  پلانے سے حرمت رضاعت شرعاً ثابت نہیں ہوتی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ  عنہ سے حدیث مروی ہے ۔

(أن النبى صلى الله عليه وسلم لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ، وَالْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ»اخرجه احمد و مسلم ج1 ص 429 و أهل السنن   وعنها أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ (۱: رواہ مسلم وابو داؤد والنسائی ،فقه السنة ج۲ ص ۱۸ و سبل السلام ج۳ص۲۱۶)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی پہلی حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی اور دوسری حدیث کا  خلاصہ یہ ہے کہ پہلے قرآن مجید میں دس رضعات سے حرمت رضا ثابت ہونے کا حکم نازل ہوا تھا ،پھر یہ حکم منسوخ ہو کر پانچ رضعات (یعنی پانچ دفعہ دودھ  پینا) سے  حرمت رضاعت   ثابت ہونے کا حکم نازل ہوا ۔و ھذامذہب  عبداللہ بن مسعود و عائشہ و عبداللہ  بن الزبیر و عطاض و طاؤس والشافعی و احمد فی ظاھر مذھبہ وابن حزم و اکثر اھل الحدیث ۔فقہ السنۃ ج۲ ص۶۷، ۶۸تاہم اکثر فقہاء کے نزدیک مطلق  رضاع سے  حرمت  رضاعت ثابت ہوچکی ہے  خواہ قلیل ہو یا کثیر ۔

 (قال فى المسوى ذهب الشافعى  إلى أنه لا يثبت حكم الرضاع  فى أقل  من خمس رضعات متفرقات وذهب  أكثر الفقهاء  منهم مالك و أبو حنيقة  إبى أن  قليل الرضاع  وکثیرہ محرم و هذا مذهب  على وابن عباس  وسعيد بن المسيب  والحسن البصرى  والزهرى  وقتادة  وحماد الأوزاعى  وابن حنيفة  ومالك  و رواية عن أحمد )(فتاویٰ نزیریه  ج ۳ص۱۵۲ و فقه السنة ج۲ص ۶۶)

 اکثر فقہاء کا استدلال نصوص مطلقہ سے ہے  اور مطلق کا مقید پر محمول کرنا قاعدہ مسلمہ ہے بناءعلیہ مسلک امام شافعی  رحمتہ اللہ علیہ  کا راجح یعنی زیادہ صحیح ہے ۔

امام محمد بن علی اشوکانی رحمہ اللہ اس مسئلہ کو معَ مَالَھَا وَمَا عَلیھَا کے  تحریر  کر کے  آخر میں فیصلہ کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں فَظاھر ماَ ذَھَبَ اِ لَیہ  القائلون باعتبار الخمس یعنی ظاہر انہی لوگوں کا قو ل ہے جو لوگ خمس رضعات (پانچ دفعہ پستان منہ میں ڈال کر  دودھ پینا  میں) رضعات کے قائل ہیں ، ان کے نام  نامی یہ ہیں ۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  ،حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا ،حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ امام عطاء ،طاؤس ،سعید بن جبیر ، عروہ بن زبیر لیث بن سعد شافعی ،احمد ، اسحاق ، ابن حزم  رحمہم الاوطار و سبل السلام وتحفہ الاحوذی  و فتح الباری ۔

فیصلہ اور  خلاصہ کلام یہ کہ صورت مسئولہ میں حکم رضاعت ثابت نہیں ہوتا۔لہٰذا

صورت مسئولہ میں  اس لڑکے کا اس لڑکی کے ساتھ نکاح جائز ہے  امام محمد بن اسماعیل   الکحلانی  ،حضرت مولانا  محمد علی  پنجابی ، حافظ عبدالرحمان مبارک پوری ، شیخ الکل  السید نزیر حسین محدث دہلوی اور نواب  سید  صدیق  حسن خاں نے بھی اس قول کو اختیا ر کیا ہے ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص740

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ