سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(288) مسئلہ رضاعت خالہ کے دودھ کا

  • 14399
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-13
  • مشاہدات : 478

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہندہ اور فریدہ دو سگی بہنیں ہیں ہندہ کی گود میں ایک لڑکا دودھ پیتا ہے اور اسی طرح فریدہ کی گود میں ایک لڑکی دودھ پیتی ہے ۔ہندہ کسی کام سے بازار چلی جاتی ہے اور اس کی عدم موجودگی میں فریدہ ہندہ کے لڑکے کو دودھ پلاتی دیا کرتی ہے اس طرح  ہندہ کا  لڑکا اور  فریدہ کا لڑکی  دودھ کے رشتہ سے بہن بھائی ہیں ۔اتفاق سے فریدہ کی لڑکی کا انتقال ہو جاتا ہے جو ہندہ کے لڑکے کی دودھ کی بہن ہوتی ہے۔اس کے بعد پھر فریدہ کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے ،کیا ہندہ کے اس لڑکے کے ساتھ فریدہ کی دوسری لڑکی  کا نکاح ہو سکتا ہے ؟ قرآن و سنت  کی روشنی  کے مطابق فتویٰ عنایت فرمایا جائے ۔

(ایک سائل از لاہور)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ فریدہ ہندہ کے لڑکے کی رضاعی ماں ہے ، یعنی دودھ پلانےکی وجہ سے ماں ہے اور اس کی سب لڑکیاں اس کی رضاعی بہنیں ہیں ۔لہٰذا ہندہ کا  یہ لڑکا  جس نے فریدہ کا دودھ پیا ہے فریدہ  کی کسی بھی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا ۔ خواہ اس نے اس کے ساتھ  مل کر دودھ پیا ہو یا  آگے پیچھے ۔قرآن  حکیم میں ہے:

﴿وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ ... ٢٣﴾...النساء

”یعنی دودھ کی تمام بہنین اپنے رضاعی بھائی کےلئے حرام ہیں ۔ اس کا باہمی نکاح نہیں ہو سکتا“حدیث شریف میں ہے :

(یحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب )
(کتب حدیث ) یعنی دودھ پینے کی وجہ سے  وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو پیدائش کی وجہ سے  حرام ہوتے  ہیں ۔ہاں ہندہ کا  وہ لڑکا جس نے فریدہ کا  دودھ  نہیں پیا وہ فریدہ کی کسی بھی لڑکی  سے شادی کر سکتا ہے ۔کیونکہ ہندہ کے اس لڑکے او ر فریدہ کی لڑکیوں میں نسلی یا رضاعی کوئی ایسا تعلق  نہیں جس سے  رشتہ  حرام ہو 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص739

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ