سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(286) مسئلہ رضاعت

  • 14397
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-13
  • مشاہدات : 513

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محمد یونس ولد لال دین نے اپنے بیٹے سکندر ذوالقرنین کی شادی اپنی بہن کی بیٹی سے کرنے کاپروگرام طے کیا ہے جب کہ محمد یونس  کے بیٹے کی عمر جب چھ سات ماہ تھی ،والدہ  گھریلو کام   کاج میں مصروف تھی بچہ رو رہا تھا ۔ دادی نے بچے کو چپ کرانے کی نیت سے اپنا  دودھ ایک مرتبہ ایک دو منٹ تک پلادیا ۔جب کہ محمد یونس کی والدہ کے ہاں اس کا سب سے چھوٹا بیٹا بھی تھا ۔ آیا محمد یونس اپنے اس بیٹے سکندر ذوالقرنین کی شادی اپنی حقیقی ہمشیرہ کی بیٹی سے کر سکتا ہے؟

(سائل : محمد یونس ولد لال  دین سکنہ کامونکی  بذریعہ جاوید احمد مکان نمبر ۷ ب بلاک گوجرہ )

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 صورت  مسئولہ میں مسمی محمد یونس ولد لال دین اپنے بیٹے سکندر  ذوالقرنین کی شادی  اپنی ہمشیرہ کی بیٹی سے کر سکتا ہے  کیونکہ ایک دفعہ دودھ پلانے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے ،چنانچہ احادیث  صحیحہ مرفوعہ متصلہ  ملاحظہ فرمائیں:

(عن عائشة قالت أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تحرم المصة والمصتان) (۱: رواہ الجماعة الا البخاری (نیل الاوطار کتاب الرضاع باب عندالرضعات ج۶ ص ۳۴۷)

اس حدیث  صحیحہ کا  خلاصہ یہ ہے کہ ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ،یعنی ایک دفعہ اور  دو دفعہ دودھ  پینا حرمت رضاعت کے لئے کافی نہیں ۔

(وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ: «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَتُحَرِّمُ الْمَصَّةُ؟ فَقَالَ: لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ، وَالْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: «دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي بَيْتِي فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إنِّي كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْت عَلَيْهَا أُخْرَى فَزَعَمَتْ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتْ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ»)(۲: رواہ احمد و مسلم نیل الاوطار ج۶ ص ۲۴۷)

”حضرت  ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت  ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سوال کیا کہ کیا ایک دفعہ دودھ پینے سے حرمت  ثابت ہو جاتی ہے تو  آپ ﷺ نے جواب  میں فرمایا : ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ پینے  سے حرمت ثابت نہیں ہوتی دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے ۔

میری پہلی بیوی کا موقف  ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک دفعہ یا دو دفعہ دودھ پلایا  ہے ۔تو نبی ﷺ نے فرمایا  کہ ایک دفعہ اور دو دفعہ دودھ پی لینا حرمت کو ثابت نہیں کرتا۔

(عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ ")(۱: رواہ مسلم و ابو داؤد ،نیل الاوطار ج۶ ص ۳۴۸ و سبل السلام )

 

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے قرآن مجید میں دس  رضعات سے  حرمت ثابت ہونے کا حکم نازل ہو ا تھا ۔پھر یہ حکم منسوخ ہو کر پانچ رضعات سے حرمت ثابت ہونے کا حکم نازل ہوا:امام شوکانی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں :

(وقد استدل بأحاديث الباب  من قال أنه لا يقتضى التحريم  من الرضاع إلا خمس رضعات معلومات وإلى ذلك ذهب ابن مسعو د و عبد اللہ  بن زبیر  رضى الله عنهم وعطاء و طاؤس ..الخ) (۲: نیل الاوطار  ج۶ ص ۳۵۰ )

ان احادیث صحیحہ سے استدلال کیا ہے  ان اہل علم نے جو پانچ دفعہ سے کم دودھ پینے سے حرمت کےقائل نہیں ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ، امام عطاء طاؤس ، سعید بن جبیر ، عروہ بن زبیر ، لیث بن سعد ،امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ، امام احمد رحمتہ اللہ علیہ ،امام اسحاق رحمتہ اللہ علیہ ،ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ وجماعۃ من اھل العلم کا یہی مذہب ہے ۔تاہم جمہور کے نزدیک قلیل و کثیر  رضاعت سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے ۔مگر ان کا استدلال نصوص مطلقہ سے ہے اور حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا وغیرہ  یعنی پہلے گر وہ کا استدلال نصوص مقیدہ بخمس رضعات سے ہے اور اصول کا قاعدہ ہےکہ مطلق کو مقید پر محمول کرنا ضروری اور مسلمہ قانون ہے ۔لہٰذا قانون ہے ۔ لہٰذا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاابن مسعود رضی اللہ عنہ  وغیرہ اور امام شافعی وغیرہ رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک راجح ہے ۔

شیخ الکل سید نزیر حسین محدث دہلوی  رحمہ اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے ۔(فتاویٰ نزیریہ ج۳ ص۱۵۲)

فیصلہ :

صورت مسئولہ میں محمد یونس اپنے بیٹے   سکندر ذولقرنین کی شادی اپنی ہمشیرہ  کی لڑکی سے بلا شبہ کر سکتا ہے ۔ ھذا ما عندی  واعلم بالصواب۔

الاعتصام:

حضرت مفتی صاحب حفظہ اللہ کے فتوے میں ایک ابہام ہے جس کی وضاحت ضروری ہے اور وہ ہے مصۃ یا املاجۃ کا مفہوم ۔حدیث کے الفاظ ہیں ۔ایک مصۃ یا دو مصۃ یا ایک املاجۃ یا دو املاجۃ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی  جیسا کہ اصل الفاظ فتویٰ مذکور میں گزرے ہیں ۔حضرت مفتی صاحب نے اس کا ترجمہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پینا کیا ہے ۔لیکن اس امر کی وضاحت نہیں فرمائی کہ ایک مرتبہ دو مرتبہ پینے کا مطلب کیا ہے۔ہمارے خیال میں مصۃ (ایک مرتبہ پینا ) کا مطلب ہے کہ بچہ جب پستان منہ میں لے کر دودھ پینا شروع کرتا ہے اس  کے بعد جب وہ وقفہ کرتا ہے اور منہ ہٹا لیتا ہے تو یہ ایک مصتہ ہے پھر

چند سیکنڈ کے بعد دوبارہ شروع کرتا ہے  پھر کچھ دیر پی کر منہ ہٹا لیتا ہے یہ دوسرا مصۃ ہوا اس طرح وقفوں سے اگر پانچ مرتبہ دودھ پی لیتا ہے تو اس سے حرمت  رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔پانچ مرتبہ پینے کا مطلب پانچ مختلف مجلسوں میں پینا نہیں ہے بلکہ مذکور ہ طریقے سے پانچ رضا عتیں ہیں (ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب)

مجھے مدیر  الاعتصام حافظ صلاح الدیں یوسف حفظہ اللہ کی وضاحت سے مکمل اتفاق ہے لہٰذا اگر  سکندر  ذولقرنین نے اپنی دادی کا دودھ پانچ وقفوں میں پیا ہے تو وہ اپنی پھو پھی زاد لڑکی کا رضائی چچا بن گیاہے  اور بحکم  حدیث :

(يحرم من الرضاعة  ما يحرم من النسب) (۱:صحیح بخاری ،ج۲ ص۷۶۴)

اس لڑکی کے ساتھ شرعاً نکاح  نہیں کر سکتا ۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔

(محمد عفیف اللہ خان عفیف)

 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص735

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ