سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(284) رضاعی بہن سے نکاح حرام

  • 14395
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-13
  • مشاہدات : 564

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے کہ ایک آدمی  نے اپنی تائی کا دودھ پیا  ہے آیا کہ وہ شخص اس کی  کسی بھی لڑکی سے شادی  کرنے کا شرعی نقطہ سے حق رکھتا ہے یا نہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں فتویٰ صادر فرمایا جائے ۔بینو ا تو جروا عنداللہ (سائل شیخ عبد العزیز توحید آباد لاہور )

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے کہ ایک آدمی  نے اپنی تائی کا دودھ پیا  ہے آیا کہ وہ شخص اس کی  کسی بھی لڑکی سے شادی  کرنے کا شرعی نقطہ سے حق رکھتا ہے یا نہیں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں فتویٰ صادر فرمایا جائے ۔بینو ا تو جروا عنداللہ (سائل شیخ عبد العزیز توحید آباد لاہور )

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں واضح ہو کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ ... ٢٣﴾...النساء

”(مسلمانو) حرام ہیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھو پھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں “ یعنی نسبی ماں اور بہن کی طرح رضا عی ماں اور بہن حرام ہے ۔صحیح  بخاری میں ہے :

(باب أمهاتكم اللاتى  أرضعنكم ويحر من الرضاعة  ما يحرم  من النسب) (۱بخاری ج۲ص۷۶۴)

”رضاعی  ماؤں کی  حرمت کا بیان اور آپ ﷺ کا یہ بیان کہ جو رشتہ خون سے حرام ہوتا ہےوہ دودھ سے بھی حرام ہے  پھر  حضرت امام بخاری یہ حدیث لائے ہیں :

(عَنْ عَمْرَةَ ابْنَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُرَاهُ فُلاَنًا - لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ - الرَّضَاعَةُ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الوِلاَدَةُ»(۲:صحیح بخاری :ج۲ ص۲۶۴)

”حضرت عائشہ  صدیقہ رضی  اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف فرما تھےاتنے  میں انہوں نے ایک مرد کی آواز سنی جو ام المومنین  حضرت  حفصہ بنت عمر  رضی  اللہ عنہ کے گھر  میں جانے کی اجازت مانگ رہا تھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے  کہہ دیا کہ ایک آدمی آپ ﷺ کے گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے آپ نے فرمایا میں سمجھتا ہوں یہ فلاں شخص ہے حفصہ  رضی اللہ عنہا کے دودھ  کے چچا  کا نام لیا ،اس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے اپنے دودھ کے چچا کا نام لے کر کہا کہ اگر وہ زندہ ہوتا تو وہ میرے گھر میں آسکتا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا بے شک آسکتا تھا۔کیونکہ  جیسے خون  ملنے سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے  ویسے ہی دودھ پینے سے بھی حرمت ثابت ہوجاتی ہے“

اس آیت شریفہ اور حدیث شریفہ   صحیح سے ثابت ہوا کہ جیسے نسبی ہمشیرہ کے ساتھ نکاح حرام  ایسے ہی دودھ کی ہمشیرہ سے بھی نکاح حرام ہے  بشر طیکہ یہ رضاعت دو برس کے اند ر اندر ہو اور پھر کم از کم پانچ دفعہ پستان چوسا ہو ۔یعنی اگر یہ رضاعت دو برس کی عمر کے بعد ہو یا  ایک آدھ بار دودھ  چوسا ہو تو پھر رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوگا اور نکاح حرام نہیں ہوگا۔

فیصلہ :اس آیت شریفہ اور  حدیث صحیح کے مطابق یہ آدمی اپنی تائی کا دودھ پینے کی وجہ سے  اس کا رضاعی بیٹا بن چکا ہے اور اس کی تائی کی بیٹیا ں اس کی رضاعی بہینیں بن چکی ہیں لہٰذا وہ اپنی تائی کی کسی بیٹی کے ساتھ شرعاً نکاح نہیں کر سکتا کہ وہ اس کی رضاعی بہنیں ہونے کی  وجہ سے اس پر حرام ہوچکی ہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص732

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ