سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(280) طلاق بائنہ صغریٰ کے بعد دوبارہ نکاح کا جائز ہونا

  • 14391
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-12
  • مشاہدات : 1064

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ایک شخص مسمی محمد عباس کے بارے میں اس نے اپنی منکوحہ عائشہ صدیقہ کو قبل از رخصتی نوٹس طلاق  ثلاثہ (طلاق+طلاق+طلاق) بطرف  چیئرمین ثالثی کونسل پتوکی  بھیج دیا ۔عائشہ صدیقہ جس طرح نکاح سے پہلے اپنے والدین کے ہاں رہتی تھی ۔بعد ازاں طلاق بھی اپنے والدین کے گھر رہی ۔طلاق کے چودہ ماہ بعد فریقین صلح پر آمادہ ہو گئے۔کیا عائشہ صدیقہ  تجدید نکاح سے  محمد عباس کے گھر آباد ہو سکتی ہے ؟(سائل: حافظ محمد صدیق اقبال ٹاؤن ملتان روڈ پتو کی  ضلع قصور)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ایک شخص مسمی محمد عباس کے بارے میں اس نے اپنی منکوحہ عائشہ صدیقہ کو قبل از رخصتی نوٹس طلاق  ثلاثہ (طلاق+طلاق+طلاق) بطرف  چیئرمین ثالثی کونسل پتوکی  بھیج دیا ۔عائشہ صدیقہ جس طرح نکاح سے پہلے اپنے والدین کے ہاں رہتی تھی ۔بعد ازاں طلاق بھی اپنے والدین کے گھر رہی ۔طلاق کے چودہ ماہ بعد فریقین صلح پر آمادہ ہو گئے۔کیا عائشہ صدیقہ  تجدید نکاح سے  محمد عباس کے گھر آباد ہو سکتی ہے ؟(سائل: حافظ محمد صدیق اقبال ٹاؤن ملتان روڈ پتو کی  ضلع قصور)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: بشرط صحت  سوا ل صورت  مسئولہ میں ایک بائن طلاق بینونہ صغریٰ واقع ہوئی ہے کہ قبل از رخصتی ہوتی ہے اور قبل از رخصتی طلاق کی بعد   مطلقہ پر کوئی عدت نہیں ہوتی چنانچہ فرمایا:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ... ٤٩﴾ ہ... الأحزاب

ہاں اب جدید نکاح شرعاً درست ہے۔ السید محمد سابق المصری  ارقام فرماتے ہیں:

(وللزوج أن يعيد المطلقة طلاقا بائنا بينونة صغرى إلى عصمته بعقد ومهر جديدين، دون أن تتزوج زوجا آخر،)(فقه اسنة ج۲ ص۲۳۷)
کہ طلاق دینے والے شوہر کو اپنی مطلقہ بائنہ صغریٰ بیوی کو نئے  نکاح اور نئے مہر کے ساتھ دوبارہ  آباد کر لینے کا شرعاً حق ہے ۔پہلےاس کے وہ مطلقہ بائنہ بی بی کسی اور شخص سے  نکاح کرے ،یعنی حلالہ کی بھی ضرورت نہیں۔پس صورت مسئولہ میں بغیر حلالہ کے نئے سرے نکاح شرعاً جائز ہے  ۔اور یہ نکاح بلا شبہ صحیح اور شرعی نکاح ہوگا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص725

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ