سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(278) رجعی طلاق کےبعد دوبارہ نکاح کرنا

  • 14389
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-12
  • مشاہدات : 781

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں یہ کہ سائل مسمی محمد ایوب ولد شامد قوم کھرل موضع ٹوری  قاسم تحصیل ننکانہ ضلع شیخو پورہ نے اپنی منکوحہ زوجہ مسمات زبیدہ  بی بی دختر محمد منشاء قوم کھرل موضع ٹوری قاسم تحصیل ننکانہ ضلع شیخو پورہ کو عرصہ قریب ڈیڑھ سال قبل بوجہ والدین کی رنجش اور دیگر تنازعات کی وجہ سے سہ بار طلاق دے دی ،غصہ میں آکر طلاق دے دی اور اب جب کہ میاں بیوی کی تمام مسائل پر صلح ہوچکی ہے  اور فریقین و متعلقین چاہتے ہیں کہ مسمی و مسمات کو دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک کیا جائے جب کہ طلاق صرف ایک مجلس میں سہ بار دی گئی جو تین دفعہ دی گئی وضاحت فرمائی کہ اب میاں بیوی دونوں پہلے کی طرح رشتہ ازدواج میں منسلک ہوتے یا پھر دوبارہ نکاح کرنا پڑتا ہے یا پہلا قائم رہتا ہے اس بات پر ہمیں فتویٰ صادر فرمائیں ۔کیا حلالہ وغیرہ بھی کرنا پڑتا ہے ۔کیا دوبارہ نکاح کرنا پڑتا ہے ۔کیا بغیر حلالہ اور نکاح کے پہلے نکاح پر گھر آباد ہوسکتا ہے۔ دیگر تعزیرات اسلامی و شرائط لگوائیں۔(سائل محمد ایوب بذریعہ قاضی احسان الحق چک نمبر۲۴۰ گ ب جڑانوالہ )

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بشرط صحت سوال صورت مسئولہ میں قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ صحیحہ مرفوعہ متصلہ کے مطابق ایک رجعی  طلاق واقع ہو کر موثر ہو چکی اور نکاح ٹوٹ چکا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ ... ٢٢٩﴾...البقرۃ کہ رجعی طلاق دو دفعہ دو ہے پھر اس کے  بعد یا تو بیوی کو روک رکھنا ہے یا پھر بھلے طریقہ کے ساتھ اس کو  رخصت کر دینا ہے ۔اور یاد رہے کہ  مرتان مرۃ کا تثنیہ  ہے جس کامعنی ایک دفعہ یاایک  وقت یا پھر ایک مجلس ہے ۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے :

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِّن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ ۚ ... ٥٨﴾...النور

کہ اے ایماندارو!  تمہارے غلام اور تمہارے نابالغ لڑکے  لڑکیاں تین اوقات میں (ضرور ہی ) تم سے اجازت لیا کریں وہ اوقات یہ ہیں صبح کی نماز سے پہلے اور جب تم دوپہر  کو کپڑے اتارتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد سوتے وقت ،غرض یہ تین اوقات تمہارے پردے کے ہیں ۔اور ظاہر ہے کہ اس آیت کریمہ میں ثلث مرات کا معنی تین وقت ہی ہے ۔لہٰذا معلوم ہوا کہ الطلاق مرتان کا معنی طلاق کی دو مجلسیں ہیں نہ کہ دو طلاقیں ورنہ  الطلاق طلقتان ہوتا حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔اب احادیث صحیحہ مرفوعہ  متصلہ ملاحظہ فرمائیے :

(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً،)(۱: صحیح مسلم :ج۱ص ۴۷۷ و مسند احمد بن حنبل ص۳۱۴)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد رسالت میں اور پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت سے لے کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کےابتدائی دو سالوں تک یکجائی تین طلاقیں ایک رجعی طلاق شمار ہوتی تھی۔

(عَنِ بن عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَّقْتَهَا قَالَ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَارْتَجِعْهَا) (۲: اخرجہ احمد و ابو یعلی و صححہ ۔ فتح الباری ج ۹ ص۳۱۰،۳۱۱و نیل الاوطار ج۲ ص ۲۶۱)

کہ حضرت رکانہ بن یزید رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کو ایک مجلس میں اکٹھی تین طلاقیں  دے کر بہت پچھتائے ، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمانے پر عرض کیا کہ حضرت ! اکٹھی تین طلاقیں دے بیٹھا ہوں تو آپ ﷺ نےفرمایا یہ تو ایک رجعی طلاق  واقع ہوئی ہے آپ رجوع کر لیں ۔یہ حدیث صحیح ہے ۔

۴: حضرت علی ، حضرت زبیر ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ،حضرت ابو موسیٰ  اشعری رضی اللہ عنہم اور ایک ہزار سے زیادہ صحابہ کرام کا  یہی مذہب اور فتویٰ تھا کہ یکجائی تین طلاق واقع ہوتی ہے۔

(وهذا حال كل صحابى من العهد الصديق إلى  ثلث سنتين من خلافة عمر وهم يزيدون على الألف قطعا) (۳: التعلیق المغنی : ج۴ص۴۷)

۵: امام بو حنیفہ کا  مذہب بھی ایک قول کے مطابق یہی تھا  جیسا کہ امام بن مقاتلی  رازی حنفی نے بیان کیا ہے ۔

(وحكاه محمدبن مقاتل  الرازى من أصحاب أبى حنيفة  وهو أحد قولين فى مذهب أبى حنيفة) (التعلیق المغنی ج۴ص۴۸)

۶: اسی طرح ایک قول کے مطابق امام مالک اور بعض حنابلہ کا بھی یہی فتویٰ تھا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اسی مذہب کو قوی اور صحیح قرار دیاہے ۔

۷: اور اسی طرح ہندوستان کے مشہور عالم مولانا سعید   احمد اکبر آبادی ،مولانا عبدلحلیم قاسمی ،نیلا گنبد لاہور اور علامہ کرم شاہ بریلوی کا بھی یہی فتویٰ ہے۔

امام  الوقت شیخ الکل سید محمد نزیر حسین محدث دہلوی ،شیخ الاسلام ثناءاللہ امر تسری اور مفتی جماعت حافظ عبد اللہ روپڑی کا بھی یہی فتویٰ ہے ۔تفصیل سے معلوم ہوا کہ یکجائی تین طلاقیں سے  رجعی طلاق شرعاً واقع نہیں ہوتی ہے۔مگر چونکہ خط کشیدہ  تصریح کے مطابق اس طلاق کو عرصہ ڈیڑھ سال کا ہو چکا ہے  لہٰذا بشرط صحت سوال عدت گزر چکی ہے اور نکاح ٹوٹ گیا ہے ہاں چونکہ یہ ایک رجعی طلاق ہے  ۔اس لئے ا ب نکاح ثانی کی شرعاً اجازت ہے  ، چنانچہ قرآن مجید میں ہے :

﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ... ٢٣٢﴾...البقرۃ

”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پھر وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم ان  کو اپنے طلاق دہندہ شوہروں کے ساتھ دوبارہ نکاح کر لینے سے نہ روکو۔جب وہ آپس میں معروف طریقہ سے راضی ہوجائیں ۔یہ حکم تم میں سے اس شخص کو ہے جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔

صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار کی ہمشیرہ  کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی ۔بعد ازاں عدت پوری ہونے  کے بعد نکاح راضی ہو گئے ۔جب حضرت معقل رضی  اللہ عنہ کو اس کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنی ہمشیرہ کو نکاح سے روک دیا ،تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرماکر  نکاح جدید کی اجازت دے دی تو حضرت معقل خاموش ہوگئے ۔

فیصلہ :

مذکورہ آیات و  احادیث صحیحہ اور ہزار سے زائد صحابہ کرام ، شیخ الا سلام ابن تیمیہ ،ابن قیم اور دوسرے اکابر علماء و محدثین کے مطابق صورت مسئولہ میں ایک رجعی طلاق واقع ہو کر نکاح ٹوٹ چکا ہے تاہم نکاح جدید کی شرعاً اجازت ہے ۔حلالہ کی قطعاً ضرورت نہیں ہے  یہ جواب اس صورت میں جب کہ طلاق دہندہ نے اپنی بیوی مسمات زبیدہ بی بی کو پہلی ہی دفعہ طلاق دی ہو ۔مفتی کسی قانونی سقم کا  ہرگز ذمہ دار نہ ہوگا
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص722

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ