سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(271) عدالتی نکاح وہ بھی جبری طور پر

  • 14371
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-12
  • مشاہدات : 936

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علمائے دین متین اس  مسئلے کے بارے میں کہ میری بچی جس کی عمر تقریباً ۱۸ سال ہے ۔ اس کو زمیندار نے اغوا کر لیا ہے جو کہ بڑا اثر رسوخ والا ہے اور اس نے عدالت میں جاکر میری بچی سے عدالتی نکاح کر لیا ہے جب کہ میں اس چیز کو بہت برا سمجھتا ہوں ۔ آپ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ یہ نکاح جائز ہے یا نہیں کیوں کہ میں بچی کا کسی اور جگہ نکاح کرناچاہتا ہوں ۔

(سائل چک نمبر ۱۰ بولہ گڑھی ڈاکخانہ حسین  خان والا تحصیل چونیاں ضلع قصور ) 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

! قرآن مجید میں ہے (قَد عَلِمناَ مَافَرَضنَا عَلَیھِم مِن اَزوَاجِھِم) ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے ان پر ان کی ازواج کے بارے میں کیا فرض کیا ہے ؟ (سورۃالاحزاب ۳۳آیت نمبر ۵۰)

اور اس سے پہلے یہ الفاظ ہیں کہ اگر مؤمنہ مومن عورت اپنا نفس نبی علیہ السلام پر ہبہ کرے تو یہ آپ کے لئے خاص حکم اور اجازت ہے دوسرے مومنین کو یہ اجازت نہ ہے ۔اس سیاق کی بناء پر اس آیت کی تفسیر میں ابن عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے اہل علم کا کہناہے کہ  زوجیت کے لئے ولی کا ہونا فرض ہے

(ملاحظہ ہو : تفسیر فتح القدیر آیت متعلقہ :ج۲ ص۲۹۰)

ا: حدیث شریف میں ہے  لانکاح الا بولی ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“یہ حدیث حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے وارد ہے جوکہ مسند احمد ، ابو داؤد ، ابن حبان اور حاکم نے روایت کی ہے اور آخری دونوں محدثین اسے صحیح بھی کہتے ہیں ۔

ب: دوسری حدیث  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہے جو کہ مسند احمد ، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، ترمذی مع التحسین ، ابن حبان ، حاکم اور ابو عوانہ سے ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے ، اس کا نکاح باطل ہے ۔ اس کا نکاح باطل ہے ۔ اگر دخول کر لے تو اسے حق مہر اس وجہ سے دینا ہوگا کہ اس نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا ہے ۔اگر جھگڑا ہو جائے تو سلطان اس کا ولی ہے جس کا  کوئی ولی نہیں ۔

(اس حدیث کو محدث زماں شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی صحیح  احادیث میں شمار کیاہے

امام حاکم کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات حضرت عائشہ ، ام سلمہ اور زینب بنت حجش رضی اللہ عنہم سے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہما سے روایات و اقوال ملتے ہیں جن کی تعداد مجموعی تیس ہے ۔

(ملاحظہ ہو (الروضۃالندیۃ : ج۲ص۱۱)

ان احادیث صحیحہ واقوال مرویہ اور تفسیر آیت صریحہ کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ نکاح میں حق اول ولی کا ہے اور ولایت میں باپ کو سب سے اولین حیثیت حاصل ہے۔

مصنف عبدالرزاق و مصنف ابن شیبہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا واقعہ ملتا ہے کہ کوئی لڑکی اپنے ولی سے اختلاف کر کے عدالت میں چلی گئی تو انہوں نے قاضی کو تاکید کی کہ باپ سے کہو کہ جہاں لڑکی چاہتی ہے وہاں نکاح کیا جائے اگر مان جائے تو ٹھیک ورنہ اس کا  حق ولایت ختم کرکے قاضی خود نکاح  کرادے یا اجازت دے دے ۔

(ملاحظہ ہو ابن ابی شیبہ :ج ۲، ۴ ص ۱۷۱ ) معلوم ہوا کہ عدالت بھی باپ کے حق کو اولین اہمیت دے گی اگر ثابت ہو جائے کہ باپ کی زیادتی تھی  تو پھر عدالت اپنا اختیار استعمال کرے گی رسول اللہﷺسے دو  واقعات احادیث میں ملتے ہیں ۔ جن میں  ایک بیوہ  کا ہے جس کے باپ نے شوہر کے شہید ہوجانے کے بعد لڑکی کا نکاح اپنے خاندان میں کر دیا اور یتیم بچوں کے چچا کو رد کر دیا وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہو گئی ۔آپ نے باپ کو بلایا اور استفسار فرمایا ، اس نے جواب دیا کہ میں نے اس کے لئے بہتری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا تو نے اس کو مجبور کیا تھا؟ کہنے لگا ہاں ۔فرمایا : تیرا نکاح ختم ہوا!

اسے کہا  جاؤ جس سے چاہو نکاح کر لو ۔یہ واقعہ مختلف کتابوں میں جمع کیا گیا ہے ۔ موطا امام مالک اور ابن ابی شیبہ میں ملاحظہ فرمائیں ۔ دوسراواقعہ ایک کنواری لڑکی کا ہے اس میں رسول اللہ ﷺ نے ولی کو بلایا اور لڑکی کو اختیار دے دیا تاہم لڑکی نے باپ کا فیصلی بحال رکھا ۔(۱:مصنف ابن ابی شیبہ،ج۲،۳،ص۱۳۷،۱۳۸)

حسن بصری رحمہ اللہ کا فیصلہ :

جب ولی اور عورت کا اختلاف ہو تو سلطان دیکھے کہ اگر ولی تنگ کر رہا ہو تو نکاح کر دے ،ورنہ اس کا معاملہ ولی کے سپرکردے ۔(۲:مصنف ابن ابی شیبہ ج۲،۳ ص۱۴۱)

قاضی شریح کا فیصلہ :ایک عورت قاضی کے پاس اپنی ماں اور چچا کے ساتھ آئی ،ماں کسی جگہ نکاح پڑھانے پر زور دے رہی تھی لیکن چچا کسی دوسری جگہ ۔ قاضی صاحب نے لڑکی کو اجازت دے دی کہ اختیار کر تو اس نے ماں کی رائے کو ترجیح دی تو قاضی صاحب نے چچا سے کہا کیا تو اجازت دیتا ہے ؟ چچا نے انکار کردیا قاضی صاحب نے کہا اس سے قبل کہ تیری اجازت ختم  کر دی جائے کہنے لگا کہ نہیں بخدا نہیں میں اجازت نہیں دیتا تو قاضی صاحب نے کہا کہ جا لڑکی چلی جا ؤ جس سے چاہو نکاح کر لو ۔(حوالہ مذکورہ ) تو معلوم  ہواکہ قاضی کے فیصلہ کی حیثیت باپ کے غلط اقدام کی بنا پر ہوتی ہے ۔

صورت مسئولہ میں باپ کے متعلق اگر تحقیق ہوچکی تھی کہ وہ  بلا وجہ لڑکی پر زور دے رہا ہے تو اس کا اختیار عدالت ختم کر سکتی ہے ،ورنہ اگر لڑکی بھی  باپ کی رضا کے مطابق تھی مگر حالات کے پیش نظر اس نے سمجھوتہ کر لیا ہو تو فی الواقعہ اس پر جبر ہوا ہے تو لڑکی کے باپ کا حق ولایت ختم نہیں ہو جاتا اور لڑکی پر بھی جبر نہیں ہو سکتا۔

دوسرا نقطہ یہاں اجنبی مرد و عورت کا شرعی اجازت نکاح کے بغیر گھر سے اور معاشرہ کی نظر وں سے اغوا کاہے ۔ہماری زبان میں اغوا اور غصب میں لوگ فرق نہیں کرتے ، اس لیے دونوں صورتوں میں مرد کو تعزیر ضروری ہے۔ہاں اگر قصہ غصب کا ہے تو لڑکی سزا سے بچ سکتی ہے ورنہ اسے بھی تعزیر لگےگی ۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص690

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ