سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(254) ولی کے بغیر نکاح

  • 14365
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-11
  • مشاہدات : 602

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایک لڑکی عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کے باپ کی اجازت کے بغیر چوری پڑھا گیا ، لڑکی کا بھائی اور لڑکی کی والدہ موجود تھے  کیا یہ نکاح صحیح ہے یا غلط ؟
(سائل محمد جاوید ولد محبوب علی قوم گل منڈی ڈھاباں سنگھ رہائش کیراں منڈی متصل مسجد اہل حدیث مکان  محمد اکرم صاحب ) 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایک لڑکی عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کے باپ کی اجازت کے بغیر چوری پڑھا گیا ، لڑکی کا بھائی اور لڑکی کی والدہ موجود تھے  کیا یہ نکاح صحیح ہے یا غلط ؟

(سائل محمد جاوید ولد محبوب علی قوم گل منڈی ڈھاباں سنگھ رہائش کیراں منڈی متصل مسجد اہل حدیث مکان  محمد اکرم صاحب ) 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بشرطیکہ صحت سوال مواقفۃ السوال بالواقعۃ واضح ہو صحت نکاح کے لئے ولی اقرب کی اجازت شرط ہے بغیر ولی اقرب پڑھا گیا نکاح قرآن و حدیث کی نصوص صریحہ کے مطابق منعقد ہی نہیں ہوتا ۔ چنانچہ قرآن مجید میں  ہے :

وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ ...﴿٣٢﴾...النور

”بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو ۔۔۔۔ الخ“

﴿وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّىٰ يُؤْمِنُوا ... ٢٢١﴾...البقرۃ

”نہ نکاح کرو تم  مشرک لوگوں کے ساتھ جب تک ایمان نہ لے آئیں۔“

فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ ...﴿٢٣٢﴾...البقرۃ

”نہ روکو تم بیوہ عورتوں کو اپنے سابقہ شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے سے “

 ان تینوں آیات سے معلوم ہوا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا ۔ اگر ولیوں کے پاس کوئی اختیار نہ ہو تو پھر ان آیات میں ان کو خطاب کرنا ہی بے معنی ہے کہ عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی ۔ حدیث میں ہے ۔

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»(رواه احمد والترمذي وابن حبان والحاكم وصححاه ,فقه السنة:ج2ص112)

حضرت ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔“

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ»(رواه احمد, وابو داؤد  وابن ماجة والترمذي  وقال حديث حسن صحيح كذا فى فقه السنة ج2ص112)

”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا   ، جس عورت نے اپنےولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا یہ نکاح باطل ہے ، باطل ہے “

ان آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ ولی اقرب کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور حق ولایت والد کے لئے ہے لہٰذا والد کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا آدمی ولی نہیں بن سکتا ۔ حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ علماء کا یہی فتویٰ ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام شافعی کے نزدیک عورت کے ولیوں کی ترتیب یہ ہے :

الاب، ثم الجد أبو الاب، ثم الاخ للاب والام، ثم الاخ للاب، ثم ابن الاخ للاب والام ثم ابن الاخ، ثم العم، ثم ابنه. على هذا الترتيب، ثم الحاكم.(فقه السنة ج2 ص117)

فتاویٰ روپڑیہ  (فتویٰ  اہل حدیث ) میں ہے :

بہر صورت عورت کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے او ل نمبر والد ہے بعض اول نمبر بیٹے کو کہتے ہیں (ج ۳ ص ۴۱۷) اس تصریح سے ثابت ہوا کہ والد کے ہوتے ہوئے کوئی دوسرا شخص  ولی نہیں بن سکتا ۔ لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق نکاح والد کی اجازت کے بغیر پڑھا گیا ہے اور چوری پڑھا گیا ہے ۔لہٰذا شرعاً  یہ نکاح  باطل ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں  ماں تو سرے سے ولی بن ہی نہیں سکتی اور والد کی موجودگی میں بیٹے کو حق ولایت اپنی ہمشیرہ پرحاصل نہیں ۔ لہٰذا یہ نکاح شریعت کی روسے باطل اور کالعدم ہے بشرطیکہ والد دانا اور خیر اندیش ہو ۔یہ جواب بشرط صحت سوال تحریر کیا گیا ہے ۔ مفتی کسی بھی قانونی سقم یا عدالتی کاروائی کا ذمہ دار نہ ہوگا
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص673

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ