سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(252) نکاح شغار (وٹہ سٹہ ) حرام ہے

  • 14363
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-06
  • مشاہدات : 794

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته


یہ کہ مسمی  عبدالغفور ولد محمد سرور قوم وٹو  چک نمبر  ۸۵ ڈی تحصیل نور پور ضلع پاکپتن  کا ہوں مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے جو ذیل میں درج کرتاہوں
یہ کہ میری ہمشیرہ مسمات انور دختر محمد سرور کا   نکاح وٹہ سٹہ کی شرط پر ایام نابالغی میں  ہوا  جب کہ اس  کی عمر تقریباً ۸ ۔ ۹ سال  تھی اس کا نکاح مسمی ظفر اقبال ولد محمد قوم وٹو کے ساتھ  کر دیا گیا تھا ۔ صرف رخصتی آج تک نہیں ہوئی ہے ۔ اور نہ ہی آباد ہوئی ہے مسمات کو خاوند سے سخت نفرت ہے اور اسے پسند نہیں کرتی  اب مسمات کی عمر تقریباً  ۲۳ سال کی ہے  نکاح بھائی کے وٹے سٹے  میں ہوا تھا اس لئے مذکو      رہ لڑکی   نے علامات بلوغت پاکر رو برو معززین اہل اسلام کے نکاح کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ میں وٹہ سٹہ کی شرط پر  کسی بھی صورت میں آباد ہونے کو تیار نہ ہوں ۔ مسمات کا حق مہر مساوی تھا کوئی فرق نہ تھا مسمات شروع ہی سے اپنے والدین کے ہاں رہ کر گزارہ کر رہی ہے ۔ آپ علمائے دین سے سوال ہے کہ شرعاً نکاح وٹہ سٹہ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں؟
جناب مفتی صاحب مندرجہ بالا سوال کا جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
(سائل : عبدالغفور حقیقی بھائی مسمات مذکور  انور بی بی )

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ کہ مسمی  عبدالغفور ولد محمد سرور قوم وٹو  چک نمبر  ۸۵ ڈی تحصیل نور پور ضلع پاکپتن  کا ہوں مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا مقصود ہے جو ذیل میں درج کرتاہوں

یہ کہ میری ہمشیرہ مسمات انور دختر محمد سرور کا   نکاح وٹہ سٹہ کی شرط پر ایام نابالغی میں  ہوا  جب کہ اس  کی عمر تقریباً ۸ ۔ ۹ سال  تھی اس کا نکاح مسمی ظفر اقبال ولد محمد قوم وٹو کے ساتھ  کر دیا گیا تھا ۔ صرف رخصتی آج تک نہیں ہوئی ہے ۔ اور نہ ہی آباد ہوئی ہے مسمات کو خاوند سے سخت نفرت ہے اور اسے پسند نہیں کرتی  اب مسمات کی عمر تقریباً  ۲۳ سال کی ہے  نکاح بھائی کے وٹے سٹے  میں ہوا تھا اس لئے مذکو      رہ لڑکی   نے علامات بلوغت پاکر رو برو معززین اہل اسلام کے نکاح کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ میں وٹہ سٹہ کی شرط پر  کسی بھی صورت میں آباد ہونے کو تیار نہ ہوں ۔ مسمات کا حق مہر مساوی تھا کوئی فرق نہ تھا مسمات شروع ہی سے اپنے والدین کے ہاں رہ کر گزارہ کر رہی ہے ۔ آپ علمائے دین سے سوال ہے کہ شرعاً نکاح وٹہ سٹہ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں؟

جناب مفتی صاحب مندرجہ بالا سوال کا جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں ۔

(سائل : عبدالغفور حقیقی بھائی مسمات مذکور  انور بی بی )

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بشرط صحت سوال صورت  مسئولہ میں واضح ہو کہ ازروئے حدیث صحیح  صحت نکاح کے لئے لڑکی کی اجازت  بنیادی شرط ہے اور چونکہ نابالغہ لڑکی اذان کی اہل نہیں ہوتی ، اس لئے بالغہ ہونے کے بعد اسے شرعاً اس نابالغی کے نکاح کو بحال رکھنے یا مسترد کرنے کا حق ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے :

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ» قَالُوا: كَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: «أَنْ تَسْكُتَ»(۱: متفق علیه ،مشکوة باب الولی  ج ۲ ص ۲۷۱ )

” حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیوہ عورت کا نکاح نہ کیا جائے یہاں تک کہ اس سے مکمل مشورہ کیا جائے اور کنواری کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے اذن نہ لیا جائے ۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیاکہ حضرت اس کا اذن کیا ہے ؟ فرمایا اس کا خاموش رہنا اس کا اذن ہے “

حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  سے مرفوع  حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ» ( ۲ : اخرجه ابن ماجه ولدارقطنی والبیہقی و الحاکم عن ابی سعید مرفوعا وقال الحاکم صحیح الاسناد ولم بحر حاہ فتاوی نزیریه ج ۱ ص ۴۹۱ )

یعنی اسلام میں ضرر کا اختیار کرنا یا دوسرے کو ضرر دینا۔ ایسا کام ہے کہ باہمی نقصان ہرگز جائز نہیں ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ «أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» (رواہ ابوداؤد ، مشکوة باب الولی فی النکاح ج۲ ص ۲۸۱ )

ایک کنواری لڑکی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر  ہوئی اور عرض کیا کہ میرے ماں باپ نے (ایک شخص سے ) میرا   نکاح باندھ دیا  تو رسول اللہ ﷺ نے اس لڑکی کو اس  نکاح کے بحال رکھنے یا  فسخ کر لینے کا اختیار دے دیا ۔

ان احادیث سے معلوم ہو ا کہ نکاح شرعی کے لیے لڑکی کی رضا مندی اور  اجازت بلا جبر واکراہ ضروری ہے ۔ پس ان احادیث سے    ثابت ہوا کہ صحت نکاح کے لیے لڑکی کا اذن شرط ہے ،چونکہ نابالغہ لڑکی  اذن کی اہل نہیں ہوتی اس لئے بالغہ ہونے پر اس کو شرعاً حق حاصل ہے کہ نا بالغی کو بحال رکھے یا اس کو کالعدم قرار دے ۔ لہٰذا مسمات کے نکاح کو فسخ کرنے کا شرعاً حق ہے لہٰذا مسمات انور بی بی اس نکاح کو مسترد کردینے کی شرعاً حق دار ہے اور یہ اس کا شرعی حق ہے جو چھینا نہیں جا سکتا تاہم مجاز اتھارٹی کی توثیق ضروری اور لازمی ہے ۔ یہ جواب تو اس صورت میں ہے کہ جب اس نکاح کو صحیح تسلیم کیاجائے ۔دوسری صورت نکاح شغار ہونے کی وجہ سے یہ نکاح شرعاً باطل ہے ، کیونکہ اس میں مہر مساوی تحریر ہے،

جیساکہ مخلوط تصریح ۲ سے واضح ہے ۔ چنانچہ مشکوۃ المصابیح باب اعلان النکاح والخطبة  و الشرط الفصل الاول میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ: أَنْ يُزَوِّجَ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ، عَلَى أَنْ يُزَوِّجَهُ ابْنَتَهُ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ " (متفق علیه و فی رواہ المسلم لا شغار فی الاسلام۔)
” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار نکاح سے منع فرمایا ہے اور نکاح شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کردے اس شرط پر کہ اس سے نکاح کردے  دوسرا آدمی اپنی بیٹی کا اور آپس میں کچھ مہر نہ ہو اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام میں نکاح شغار جائز نہیں ۔ لہٰذا ان دونوں احادیث صحیحہ کے مطابق یہ نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا کہ اس میں مہر مساوی ہے کو کہ نہ ہونے کے حکم میں ہے  پس ان دونوں احادیث کےمطابق یہ نکاح باطل ہے تاہم مجاز عدالت سے اس فتویٰ کی روشنی میں توثیق ضروری ہے  مفتی کسی قانونی سقم کا ہرگز  ہرگز  مسئول نہ ہوگا ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص669

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ