سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(246) اونٹ میں دس حصہ دار اور گائے میں سات حصہ دار وں کی شراکت

  • 14356
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-05
  • مشاہدات : 860

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اونٹ اور گائے میں قربانی کے دس اور سات حصص مشروع ہیں  کیا ایک جانور میں دس یا سات عقیقے بھی جائز ہیں ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گائے میں سات اور اونٹ کی قربانی میں دس  حصے دار شریک ہو سکتے ہیں  مگر عقیقے میں اشتراک درست نہیں ۔ مشکوٰۃ میں ہے  :

عَن أُمِّ كُرْزٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:«عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ وَلَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا»

کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری نر ہو یا مادہ کوئی مضائقہ نہیں ۔ احادیث میں  دو یا  ایک مستقل جانور وں کا ذکر ہے حصوں کا نہیں ۔ حافظ ابن  قیم رحمتہ اللہ علیہ نے امام احمد سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے سوال کے جواب میں فرمایا ۔ انالم اسمع فی ذٰلک بسمی   کہ مجھے ایسی  حدیث کا علم نہیں ۔

(تحفۃالودود :۴۷ طبع مدینہ منورہ  ) 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص665

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ