سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(246) قربانی کی قیمت کشمیر بھیجنا

  • 14351
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-04
  • مشاہدات : 483

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے اخبارات میں یہ اعلان  آرہا ہے کہ قربانی کے جانور کے  پیسے یہاں جمع کروائیں اور ان کی طرف سے کشمیر میں قربانی کرکے گوشت وہاں کے اہل علاقہ مہاجرین و مجاہدین میں تقسیم کیا جائے گا ۔ کیا قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا فعل جائز ہے ؟ ( سائل : محمد جابر حسین ، مدرس جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں لاہور)


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے اخبارات میں یہ اعلان  آرہا ہے کہ قربانی کے جانور کے  پیسے یہاں جمع کروائیں اور ان کی طرف سے کشمیر میں قربانی کرکے گوشت وہاں کے اہل علاقہ مہاجرین و مجاہدین میں تقسیم کیا جائے گا ۔ کیا قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا فعل جائز ہے ؟ ( سائل : محمد جابر حسین ، مدرس جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 بشرط صحت سوال قربانی محض گوشت کھانے اور کھلانے سے ہی عبارت نہیں کہ بس ضرورت مند علاقوں کے لوگوں کو قربانی کا گوشت کھلانے کے لیے وہاں پیسے بھیج دیے جائیں اور پھر یہ باور کرلیا جائے کہ میری قربانی ذبح ہو کر شرف قبولیت سے متشرف ہو چکی اور مجھے وہی ثواب و فضیلت بھی مل چکی  جو مباشرت بالعمل سے حاصل ہوتی ہے ، یہ خیال درست اور صحیح نہیں کیونکہ گوشت کھانے اور کھلانے کے علاوہ جب تک حسب ذیل سنن اور آداب کو بجا نہ لایا جائے گا ذبح شدہ چوپایہ مسنون قربانی نہیں ہو گا۔

1۔ قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل قربانی کے جانور کا خون بہانا ہے :

 (عن عَائِشَةُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ { : مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًا أَحَبَّ إلَى اللَّهِ مِنْ إرَاقَةِ دَمٍ الحدیث رواه ابن ماجه والترمذي وقال هذا حديث حسن غريب)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو کسی انسان کات کوئی عمل اتنا پسند نہیں جتنا قربانی کا خون بہانا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔‘‘ اور ظاہر ہے کہ قربانی کی قیمت بھیج دینے سے یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی۔

2۔ قربانی کا عید گاہ میں ذبح کرنا بھی درست ہے ، کیونکہ قربانی اسلام کا ایک علامتی نشان ( شعار دین ) ہے ۔

(عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى)

’’ نافع کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ رسول اللہ ﷺ قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے ۔‘‘ اور ظاہر ہے کہ دوسرے علاقے میں قربانی کی قیمت بھیجنے سے یہ سنت بھی چھوٹ جائے گی۔

3۔ قربانی کے جانور کو کھلا پلا کر موٹا تازہ کرنا بھی مستحب عمل ہے ، جیسا کہ حضرت ابو امامہ بن سعل رضی اللہ عنہ وضاحت فرماتے ہیں :

(كُنَّا نُسَمِّنُ الْأُضْحِيَّةَ بِالْمَدِينَةِ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ يُسَمِّنُونَ)

’’ ہم لوگ مدینہ منورہ میں قربانی کے چوپایوں کو موٹا تازہ کرتے تھے ‘‘ اور ظاہر ہے کہ جب قربانی کی قیمت دوسرے علاقے میں بھیجی جائے گی تو یہ نیکی بھی چھوٹ جائے گی ۔

4۔ قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا ست ہے :

(عَنْ أَنَسٍ قَالَ ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَرَأَيْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ)

’’ رسول اللہ ﷺ نے دو چت کبرے مینڈھوں کی قربانی دی ، میں نے آپ کو ان کی گردنوں پر پاؤں رکھے دیکھا ہے ۔‘‘

اور اس سنت پر عمل بھی تب ہو گا جب آدمی اپنی قربانی خود ذبح کرے گا ۔ جب تک قربانی نہیں خریدے گا عمل نہیں ہو گا ۔ لہذا ثابت ہوا کہ قربانی کی قیمت بھیجنے کا عمل خلاف سنت ہے جسے چھوڑ دینا چاہیے ۔ ورنہ سنت رسول اللہ ﷺ کا ترک لازم آئے گا جو کہ ایک مسلمان کے لیے دنیا و عقبیٰ میں بڑے خسارے کا موجب ہے ۔

5۔ قربانی کو قبلہ رخ لٹانا سنت ہے ۔

قربانی ذبح کرنے کے آداب و سنت میں ایک بہ بھی ہے کہ بوقت ذبح قربانی کا رخ قبلہ کی طرف ہو :

(عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : ذَبَحَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ الذَّبْحِ كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ فَلَمَّا وَجَّهَهُمَا قَالَ :« إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْض . الحدیث)

6۔ دعائے توجیہہ بوقت ذبح:

قربانی ذبح کرنے کے آداب میں بوقت ذبح دعائے توجیہہ کا پڑھنا بھی سنت ہے اور دعائے توجیہ یہ ہے :

(إِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِىَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ عَلَى مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا. الحدیث)

7۔ قربانی کا گوشت کھانا بھی سنت ہے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوع حدیث ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَتَصَدَّقُوا)

’’ اپنی قربانی کا گوشت خود کھاؤ ، ذخیرہ کر لو اور صدقہ بھی کرو۔‘‘

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مرفوع حدیث میں ہے :  (كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا)

’’کھاؤ اور کھلاؤ اور ذخیرہ کر لو۔‘‘

8۔ قرآن مجید نے قربانی کا جو تصور پیش کیا ہے وہ تو بھیمۃ الانعام کو اللہ کے نام پر  (بِسْمِ اللهِ ، اللَّهُ أَكْبَرُ) پڑھ کر ذبح کرنا ہے اس کی قیمت دوسرے علاقہ میں بھیج دینا نہیں جیسا کہ فرمایا:

﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ﴿٢٨﴾...الحج

’’ اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں ان چوپایوں پر جو پالتو ہیں ، پس تم آپ بھی کھاؤ اور بھوکے فقیروں کو بھی کھلاؤ ۔‘‘

نیز فرمایا:

(وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ عَلَىٰ مَا رَ‌زَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ)

’’ہر امّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اُس امّت کے لوگ) اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے اُن کو بخشے ہیں‘‘

نیز فرمایا:

(وَالبُدنَ جَعَلنـها لَكُم مِن شَعـئِرِ اللَّهِ لَكُم فيها خَيرٌ فَاذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلَيها صَوافَّ فَإِذا وَجَبَت جُنوبُها فَكُلوا مِنها وَأَطعِمُوا القانِعَ وَالمُعتَرَّ كَذلِكَ سَخَّرنـها لَكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿٣٦﴾... سورة الحج

اور (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے، تمہارے لیے اُن میں بھَلائی ہے، پس انہیں کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو، اور جب (قربانی کے بعد) ان کی پیٹھیں زمین پر ٹک جائیں تو اُن میں سے خود بھی کھاؤ اور اُن کو بھی کھلاؤ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لیے مسخّر کیا ہے تاکہ تم شکریہ ادا کرو۔‘‘

ان تینوں آیات مقدسہ پر سرسری نظر ڈالنے سے صاف نظر آتا ہے کہ ان آیات میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ قربانی کے ذبح کرنے کے ساتھ متعلق ہیں ۔ قیمت بھیج دینے سے یہ احکام اور ہدایات تشنہ تعمیل رہ جاتے ہیں ۔

9۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی ذہن میں مستحضر رہے  آج جن اقتصادی اور سیاسی ضرورتوں کے  پیش نظر قربانی کی قیمتوں کو جمع کرانے کی اپیلیں شائع کی جارہی ہیبں یہ اقتصادی اور معاشی ضرورتیں عہد رسالت اور دور خلافت میں آج کی نسبت کہیں زیادہ موجود تھیں اور عرب کے بدو فاقوں سے دو چار رہتے تھے اور آپ کو ان کی فاقہ  مستیوں کا علم بھی تھا ، لیکن بایں ہمہ آپ نے  اپنی دس سالہ مدنی زندگی میں ایسا ایک دفعہ بھی نہیں کیا کہ اہل مدینہ سے قربانیوں کی قیمتیں وصول فرما کر کسی دوسرے غریب علاقے کے لوگوں کو گوشت مہیا کرنے کے لیے وہاں جا کر قربانی کے جانور ذبح کئے ہوں ۔

لہذا  (عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين) اور مذکورہ بالا قربانی کے سنن اور آداب کا تقاضا صرف اور صرف یہ ہے کہ اہل علاقہ اپنی قربانیاں اپنے علاقوں اور دیہات میں ذبح کریں ، خو د کھائیں ، احباب اور دوسرے حاجت مندوں کو کھلائیں اور ممکن ہو تو دوسرے مستحق علاقوں کو کچھ حصہ بھیج دیں ورنہ قیمت ارسال کرنے کی صورت میں نہ صرف رسم قربانی ادا نہ ہوگی بلکہ سنت ابراہیمی کے بھی خلاف ہو گا ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص614

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ