سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(236) قربانی کے جانور کی اگر ٹانگ ٹوٹ جائے تو اس کی قربانی کا حکم

  • 14340
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-03
  • مشاہدات : 1758

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے قربانی کا جانور پہلے ہی خرید لیا، اس کی تقدیر ٹانگ ٹوٹ گئی، اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لنگڑے جانور کی قربانی سے حدیث میں ممانعت آئی ہے، اس لئے جائز نہیں۔ ہاں، قربانی کے وقت کو پہنچ کر لنگڑا ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔ قرآن مجید میں ہے:

﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ...١٩٦﴾...البقرة

یعنی اپنے سر نہ منڈاؤ یہاں تک کہ قربانی اپنے حلال ہونے کی جگہ یا حلال ہونے کے وقت کو پہنچ جائے۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی جب حلال ہونے کے وقت کو پہنچ جائے تو وہ ایسی ہو جاتی ہے کہ گویا وہ ہو ہی گئی، اگرچہ دیدہ ہو ہی گئی، اگرچہ دیدہ دانستہ قربانی ذبح ہونے سے پہلے سر منڈانا جائز نہیں، لیکن کوئی غلطی سے منڈا لے تو قربانی میں خلل نہیں آتا، چنانچہ مشکوۃ باب الھلق: ص ۲۳۴ میں صراحتاً آیا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ قربانی وقت کو پہنچ جائے تو کی ہوئی کے شمار میں ہے۔ پس ایسی حالت میں اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے تو اس کا کوئی حرج نہیں، مثلاً عید پڑھنے کے بعد سینگ یا ٹانگ ٹوٹ جائے یا آنکھ پھوٹ جائے تو یہ قربانی کو مضر نہیں ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ذبح کے وقت گرانے سے یا دبانے سے کوئی نقصان پہنچ جائے، بعض کا خیال ہےکہ جب جانور قربانی کے لئے نامزد ہوجائے تو پھر عیب پیدا ہونے میں کوئی حرج نہیں لیکن اول تو اس کا کوئی ثبوت نہیں، دوم لازم آتا ہے کہ زیادہ بیمار ہو کر ذبھ تک نوبت پہنچ جائے تو قربانی ہو جائے حالانکہ وقت سے پہلے قربانی کا کوئی بھی قائل نہیں۔ نیز جو لوگ حج کو قربانیاں ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگر کوئی قربانی راستے میں رہ جائے تو اس کو ذبح کر کے لوگوں کے لئے، یعنی مساکین کے لئے چھوڑ دے اور یہ (قاصد حج) اور اس کے رفقاء سے کوئی نہ کھائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وقت سے پہلےقربانی نہیں بلکہ صدقہ ہے۔ اگر قربانی ہوتی تو مساکین کے لئے کاص نہ ہوتی، اور نہہ اس کے رفقاء کو رکاوٹ ہوتی، یہی وجہ ے کہ اگر ضروری قربانی ہو تو اس کے عوض اس کو اور قربانی کرنی پڑتی ہے۔ اگر نفلی ہو تو وہی کافی ہے۔ چنانچہ ترمذی میں ہے کیونکہ نفلی محض زیادہ ثواب حاصل کرنے کی خاطر کی جاتی ہے سو ثواب خداتعالٰی دے دیتا ہے۔ جیسے رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب مل جاتا ہے۔ مگر حج کا فرض ادا نہیں ہوتا۔ اسی طرح وقت سے پہلے قربانی کا ثواب مل جاتا ہے قربانی نہیں ہوتی۔ نیز بہت لوگ چھوٹی عمر کا جانور لے کر قربانی کے لئے نامزد کر دیتے ہیں تو کی باوجود چھوٹی عمر کے وہ قربانی سمجھ لیا جائے گا؟ پس صحیح یہ ہے کہ وقت سے پہلے قربانی نہیں ہوتی، اور جب قربانی نہ ہوئی تو اس میں جو عیب پیدا ہوا وہ قربانی بننے سے پہلے پیدا ہوا۔ پس ہو ایسا ہو گیا جیسے قربانی خریدنے سے پہلے عیب ہو۔ اگر کہا جائے کہ جانور قربانی کے لئے نامزد کرنے سے اگر قربانی نہیں بنتا تو پھر نامزد کرنے کے بعد کسی اور مصرف میں اس کا استعمال جائز ہونا چاہیے۔ تواس کا جواب یہ ہے کہ نامزد کرنے کے بعد جانور معلق ہوجاتا ہے اگر قربانی تک پہنچ گیا تو قربانی بن گیا، اگر درے اس کے دن پورے ہو گئے تو صدقہ بن گیا۔ جیسے ابھی حدیث سے معلوم ہوا، اس لئے اس کو اپنے کسی اور مصرف میں لا سکتا۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص596

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ