سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(203) مصارف زکوٰة میں امام مسجد شامل نہیں

  • 14307
  • تاریخ اشاعت : 2016-01-02
  • مشاہدات : 720

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 زیر تعمیرجامع مسجد شہدائے اہل حدیث منڈی بہاؤ الدین میں مقامی بچوں کا مدرسہ ہے۔ قاری صاحب امامت کے ساتھ ساتھ بچوں کو تعلیم القرآن کا فریضہ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ مسجد کے قرب وجوار میں زیادہ تر حنفیوں کے گھر ہیں،جماعت قلیل ہے اور ہر ماہ مستقل طور پر تنخواہ ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ تو اس صورت میں قربانی کی کھالوں یا زکوٰۃ فنڈ میں سے قاری صاحب کی تنخواہ ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں کتاب وسنت کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں؟

(سائل: رانا عبدالغفار منڈی بہاؤالدین ضلع گجرات۔ بذریعہ مولوی عبدالرحمان میر راجو والوکی موڑ سمن آباد، لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عامۃ المفسرین کے نزدیک کے نزدیک تعمیر مسجد وغیرہ فی سبیل اللہ میں داخل نہیں۔ مگر امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

واعلم ان ظاھر اللفظ فی قوله تعالیٰ (فی سبیل اللہ) لأیوجب القصر علی کل الغزاة فلھذا المعنی نقل الققال فی تفسیرة عن بعض الفقھاء أنھم اجازوا صرف الصدقات الی جمیع وجوہ الخیر من تکفین الموتی وبناء الحصون وعمارۃ المساجد لان قوله (فی سبیل اللہ) عام فی الکل۔ انتھی عبارة الفجر۔

وَقَالَ انس والحَسنُ ما اعطبت فِی الجسُور والطرق فھی صدقة ماضیه۔ اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ زکوٰۃ مسجد کی تعمیر اور اس کی مصلحت پر خرچ کی جا سکتی ہے۔ بعض فقہاء اس کے جواز کے قائل ہیں۔

امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ صاحب کتاب الارض النفیر اور صاحب کتاب المرشدنی احکام الزکوۃ بھی ان فقہاء کی تائید کرتے ہیں کہ وہ وجوہ خیر جن میں تملیک نہیں پائی جاتی ان پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہے۔ مگر صورت مسئولہ اس سے مختلف ہے کیونکہ پیش امام کو جو زکوٰۃ اور قربانی کی کھالیں دی جائیں گی وہ بطور تنخواہ اور امامت کے عوض ہوں گی اور یہ صورت شبہ سے خالی نہیں کیونکہ زکوٰۃ دہندگان اپنی زکوۃ اپنے پیش امام پر کر کے گویا اپنے اوپر خرچ کر رہے ہیں۔ اور تعلیم بھی اپنے بچوں کو دلا رہے ہیں۔ گویا اپنی زکوۃ اپنے ہی بچوں پر صرف کر رہے ہیں جو کہ جائز نہیں، لہٰذا امام کی تنخواہ مال زکوٰۃ اور قربانی کی کھالوں کے علاوہ اپنے اصل مال سے ادا کریں کیونکہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال میں اللہ کا حق ہے جیسا کہ حدیث میں ہے فی المال حق سوی الزکوٰۃ کہ فرض زکوٰۃ کے علاوہ بھی مال میں اللہ کاحق ہے۔

لہٰذا حتیاط اس میں ہے کہ مال زکوٰۃ اور قربانی کی کھالوں سے امام کی تنخواہ ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص562

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ