سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(130) بغض اور كينہ کی وجہ سے امام کو معزول کرنا

  • 14233
  • تاریخ اشاعت : 2015-12-22
  • مشاہدات : 1022

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو چار آدمی اپنے ذاتی بغض اور کینہ کی وجہ سے کسی با شرع امام اور عالم دین کو امامت اور خطابت سے باز رکھنے کے لیے مسجد کی جماعت کے امیر کو پابند کریں۔ جب کہ جماعت کے تیس چالیس نمازی اس موصوف امام کی امامت اور خطابت پر متفق ہوں۔ ان کے علاوہ علاقہ کی جمعہ کی نماز پڑھنے والوں کی کثیر تعداد موصوف کو پسند کرتی ہو۔ امام موصوف جماعت کی  مجلس عاملہ کا ممبر بھی ہے۔ اور ایک باقاعدہ اور مقامی نمازی بھی ہے۔ کتاب وسنت کی روشنی میں جماعت کے امیر، اور ان چار آدمیوں کے متعلق کیا حکم ہے۔ جب کہ امام موصوف کی موجودگی میں ایک ان پڑھ اور کتاب وسنت سے نابلد نمازی امامت کرائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی عذر کے بغیر ذاتی عداوت اور اختلاف کی بنا پر اس امام کو منصب امامت سے الگ کرنا جائز نہیں۔ ہاں، اگر کوئی شرعی عذر ہو تو پھر اس کو امامت سے الگ کیاجا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کی علیحدگی کی صورت میں کسی فتنہ اور جماعتی اختلاف کا خطرہ نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص427

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ