سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

طلاقوں کی تعداد میں خاوند اور گواہوں کا اختلاف

  • 14182
  • تاریخ اشاعت : 2015-08-25
  • مشاہدات : 245

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک آدمی کہتا ہے میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہے لیکن اس کے گواہ کہتے ہیں کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں اب کس کی بات کا اعتبار ہوگا آدمی کا یعنی زوج کا یا پھر گواہوں کا۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی کہتا ہے میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی ہے لیکن اس کے گواہ کہتے ہیں کہ اس نے تین طلاقیں دی ہیں اب کس کی بات کا اعتبار ہوگا آدمی کا یعنی زوج کا یا پھر گواہوں کا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اُصول یہ ہے کہ اگر طلاق میں اختلاف ہوجائےتوشوہر کی بات کا اعتبارہو گا۔ لیکن آج کل لوگوں میں دِین و دِیانت کی بڑی کمی آگئی ہے، لوگ طلاق دینے کے بعد مُکر جاتے ہیں، اس لئے اگر شوہر دِین دار قسم کا آدمی نہیں ہے اور عورت کو یقین ہے کہ اس نے تین بار طلاق دی ہے اور پھر اس پر عادل گواہ بھی موجود ہوں تو عورت کے لئے شوہر کے گھر آباد ہونا جائز نہیں ہے۔ شوہر کی قانونی کاروائی سے بچنے کے لئے اس کا حل یہ ہے کہ عدالت سے رُجوع کیا جائے اور عورت کی طرف سے خلع کا مطالبہ کیا جائے اور عدالت دونوں کے درمیان تفریق کرادے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC