سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

ایک نشست کی تین طلاق

  • 14175
  • تاریخ اشاعت : 2015-08-25
  • مشاہدات : 295

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے 2جولائی 2003 کواپنی بیوی کو تین مرتبہ ایک ہی نشت میں منہ سے اور لکھ کر طلاق دی۔ تب وہ پاک حالت میں تھی۔ اس کے بعدمیں نے اپنی بیوی کو اُس کے ماں باپ کے گھر بھیج دیا۔اس دوران میری بیوی سے فون پر بات ہوئی اُس نے کہا کے میں نے تیسری طلاق نہی سُنی۔ میں نے اُسے فون پر طلاق دی اس نیت سے کہ تین طلاق پوری ہو جائیں۔ فون پر یہ کام 2جولائی اور 15اگست کے درمیان دو مرتبہ ہوا۔اس دوران تحقیق کرنے پر یہ بات سامنے آ ئی کے ایک نشست میں تین طلاق ایک کے برابر ہوتی ہے۔اس کے بعد میں نے اپنی بیوی سے 28اگست کو اُس کی عدت کے دوران رجوع کر لیا۔

لیکن دوبارہ تحقیق کرنے سے یہ بات سامنے آئی کے تین طلاق تین ہی ہوتی ہیں۔ تب میں نے اپنی بیوی کو واپس اُس کے والدین کے گھر بھیج دیا۔ کیا یہ طلاق ہوئی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں آپ کی طرف سے دو طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔ایک طلاق وہ واقع ہو ئی ہے جو آپ نے ایک ہی مجلس میں تین دفعہ کہی تھی۔ کیونکہ رسول اللہﷺکے عہد مبارک میں یکبارگی تین طلاقیں ایک ہوا کرتی تھی ۔چنانچہ صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس سے روایت ہے۔:

«عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ الطَّلاَقُ عَلٰی عَهْدِ رَسُوْلِ اﷲِﷺوَأَبِیْ بَکْرٍ ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ طَلاَقُ الثَّلاَثِ وَاحِدَة»(مسلم:1472)

’’رسول اللہﷺکے زمانہ میں ابوبکر اور عمر کی خلافت کے پہلے دو سالوں تک تین مرتبہ طلاق کہنے سے ایک طلاق واقع ہوتی تھی‘‘

لہذاایک مجلس میں کہی جانے والی تینوں طلاقیں ایک طلاق شمار ہوگی ،جبکہ فون پے جو آپ نے ایک اور طلاق دے دی وہ دوسری شمار ہو گی۔اس اعتبار سے آپ کی طرف سے کل دو طلاقیں شمار کی جائیں گی۔اور دو طلاقوں کے بعد بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔آپ نے جو رجوع کیا ہے وہ بالکل درست اور صحیح ہے ،آپ اپنی بیوی کے ساتھ مل کر رہ سکتے ہیں۔لیکن یاد رہے کہ اب آپ کے پاس صرف ایک چانس باقی ہے،اگر آپ کسی موقع پر تیسرا چانس بھی ضائع کر دیتے ہیں تو پھر رجوع کا حق بھی ختم ہو جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ