سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(78) تکبیراکہری افضل ہے یا دوہری

  • 14151
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 1758

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تکبیر کہری افضل ہے یا دوہری؟ حدیث صحیح کے ساتھ جواب دیں۔ (سائل: عبدالرشید خرادیا۔ فلیمنگ روڈ لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگرچہ دوہری تکبیر جائز ہے اور اس کے جواز میں قطعاً کوئی شبہ نہیں، مگر زیادہ صحیح اور افضل یہ ہے کہ اکہری تکبیر کہی جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

((فَأمِرَ بِلَالٌ أَنْ یُّشْفِعة الاذانَ وَأَن یُّوْتِرَ الاقامة)) (صحیح البخاری)

’’حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر کے کلمات ایک ایک دفعہ کہیں سوائے قد قامت الصلوٰۃ۔‘‘ یعنی قد قامت الصلوۃ کو دو دفعہ کہا جائے۔

((عن انس أن رسول اللہﷺ أمر بلالا ان یشفع الاذان ویوتر الاقامة)) (رواہ البیھقی بالسند الصحیح، نیل الاوطار: ج۲ص۴۰)

’’حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اذان کے کلمات دودو مرتبہ کہیں اور تکبیر کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہیں۔‘‘

ان دونوں صحیح احادیث سے ثابت ہوا کہ دوہری اذان اور اکہری تکبیر ہی زیادہ صحیح اور افضل ہے۔ اس لحاظ سے تکبیر گیارہ کلمات پر مشتمل ہے۔ امام سلیمان خطابی رقم طراز ہیں:

((وَاَلَّذِي جَرَى بِهِ الْعَمَلُ فِي الْحَرَمَيْنِ وَالْحِجَازِ وَالشَّامِ وَالْيَمَنِ وَمِصْرَ وَالْمَغْرِبِ إلَى أَقْصَى بِلَادِ الْإِسْلَامِ أَنَّ الْإِقَامَةَ فُرَادَى)) (نیل الاوطار:ج۲ص۴۱)

’’جمہور علماء کا یہی مذہب ہے کہ تکبیر اکہری کہی جائے۔ حرمین شریفین، حجاز، شام یمن، مصر، مغرب اور دوردراز تک تمام ممالک اسلامیہ میں یہی معمول ہے کہ تکبیر کہری کہی جاتی ہے۔‘‘

((قَالَ ابْنُ سَيِّدِ النَّاسِ: وَقَدْ ذَهَبَ إلَى الْقَوْلِ بِأَنَّ الْإِقَامَةَ إحْدَى عَشْرَةَ كَلِمَةً عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَابْنُهُ وَأَنَسٌ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَالزُّهْرِيُّ وَالْأَوْزَاعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ وَأَبُو ثَوْرٍ وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَدَاوُد وَابْنُ الْمُنْذِرِ الخ)) (نیل الاوطار ج۲ص۴۰)

’’حضرت عمر فاروق، عبداللہ بن عمر، حضرت انس رضی اللہ عنہم، حسن بصری، زھری، اوزاعی، احمد، اسحاق، ابو ثور، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، محمد بن سیرین، عمر بنؒ اکہری تکبیر کے قائل ہیں اور اکثر علمائے اسلام کا بھی یہی قول ہے۔

اکہری تکبیر کے کلمات اس طرح مروی ہیں:

اللہ اَکْبَرْ، اَللہُ اَکْبَر            اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سےبڑا ہے،

اشھدان لا اله الا اللہ         میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں،

اشھد ان محمد رسول اللہ     میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔

حَیَّ عَلَی الصَّلوة                آؤ نماز کی طرف۔

حی علی الفلاح                آؤ نجات کی طرف

قد قامت الصلوة               تحقیق نماز کھڑی ہو گئی

قد قامت الصلوة              تحقیقی نماز کھڑی ہو گئی

اللہ اکبر                       اللہ سب سے بڑا ہے
اللہ اکبر                       اللہ سب سے بڑا ہے

لا اله الا اللہ                   اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص320

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ