سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(74) اقامت کے جواب میں أَقَامَھَا اللہ وَأَدَامَھَا کہنا کیسا ہے؟

  • 14147
  • تاریخ اشاعت : 2024-03-03
  • مشاہدات : 1413

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم لوگ تکبیر میں قد قامت الصلوۃ کے جواب میں أَقامَھَا اللہ وَاَدامَھَا کہتے چلے آئے ہیں۔مگر اب سننے میں آ رہا ہے کہ یہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ کیا یہ بات صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو پھر قَد قَامَتِ الصلوۃ کے جواب میں کیا کہا جائے؟ (سائل: عبدالرشید برف خانہ چوک فلیمنگ روڈ لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

واقعی یہ حدیث ضعیف ہے۔ امام شوکانی فرماتے ہیں:

الحدیث فی اسنادہ رجل مجھول وشھر بن حوشب تکلم فیه غیر واحد ووثقه یحییٰ بن معین وأحمد بن حنبل۔

’’اس کا راوی ایک مجہول راوی ہے اور شہر بن حوشب کو بہت سے ائمہ جرح وتعدیل نے ضعیف راوی لکھا ہے، تاہم امام یحییٰ بن معین اور امام احمد بن حنبل نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔‘‘

لہٰذا قَدْ قَامَتِ الصلوة میں أَقَامَھَا اللہ وَأَدَامَھَا کہا جا سکتا ہے۔ تاہم بہتر یہی ہے کہ قَد قَامِتِ الصَّلوة کے جواب قد قامت الصلوة ہی کہا جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص319

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ