سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(53) قرآن پاک کھول کر درس سننا اور بوقت خطبہ خطیب کے سامنے اسٹینڈ کا حکم

  • 14126
  • تاریخ اشاعت : 2015-07-03
  • مشاہدات : 1923

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نمبر ۱: بعد نماز فجر جب علمائے کرام درس قرآن مجید ارشاد فرماتے ہیں تو اس وقت اگر کوئی شخص تفہیم وتعلیم کی غرض سے قرآن مجید کھو کر بیٹھ جائے تو اس کا یہ فعل بدعت کے زمرے میں تو نہیں آتا؟

نمبر۲: جمعہ کے دن خطیب جب منبر پر کھڑا ہوتا ہے تو بعض مساجد میں لکڑی کا ایک اسٹینڈ رکھ دیا جاتا ہے تاکہ خطیب صاحب اس پر قرآن مجید یا کوئی کتاب رکھ لیں اور بسا اوقات اس کا سہارا بھی لے لیتا ہے،  کیا یہ اسٹینڈ رکھنا جائز ہے؟(سائل: قاری محمد ایوب فیروز پوریؒ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

از مولانا عطاء اللہ حنیف

انتظامی قسم کی بات ہے، بدعت کے ذیل میں نہیں آتی۔ (۲) اس کی ممانعت کی بھی کوئی وجہ معقول معلوم نہیں ہوتی، نہ اس پر کوئی دلیل ہے۔ لہٰذا جائز ہے:

لقوله علیه السلام وما سکت عنه فھو عفو (مشکوٰة) ھذا مان عندی واللہ اعلم۔

۲۔ مولانا ابوالبرکات احمد صاحب گوجرانوالہ:

(۱) قرآن مجید سامنے رکھ کر درس سننے میں کوئی حرج نہیں ہے: کیونکہ اس طرح کرنے سے سامعین کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، یوں بھی قرآن کو دیکھنا اور اس پر غوروفکر کر کے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا بھی عبادت ہے: جیسا کہ اس کی تفصیل، امام سیوطیؒ وغیرہم علماء نے کی ہے، تفصیل کے لیے ’’الاتقان‘ اور ’’آداب الشرعیۃ‘‘ (لابن مفلح) وغیرہ کا مطالعہ کیجیے۔

(۲) کوئی اسٹینڈ رکھنے والا اس لیے نہیں رکھتا کہ اس سے ثواب حاصل ہوتا ہے یا کوئی دینی کام ہے بلکہ یہ اس لیے رکھتے ہیں کہ قرآن مجید دیکھنے میں سہولت ہو، جیسا کہ اسپیکر ہے، لوگ اسے اس لئے نہیں استعمال کرتے کہ یہ کوئی شرعی امر ہے بلکہ آواز دور تک پہنچانے کے لیے یہ ایک ذریعہ ہے جس سے بولنے والے کو سہولت حاصل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اسٹینڈ سے اس کے رکھنے سے مصحف شریف پکڑنے کی تکلیف نہیں کرنی پڑتی، اس سہولت کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کو بدعت کہنا ٹھیک نہیں ہے۔ ہاں اسٹینڈ کا سہارا لینے کے بجائے عصا کا سہارا لینا خطبہ میں سنت ہے۔ لہٰذا خطیبوں کو چاہیے کہ خطبہ کے وقت عصا استعمال کریں۔ لیکن آج کل ہو بھی فیشن ایبل مولویوں کی نذر ہو گیا ہے۔ کئی مولویوں کو دیکھتے ہیں کہ جمعہ کے وقت خطبہ میں عصا استعمال نہیں کرتے حالانکہ نبیﷺ عصا استعمال فرماتے تھے اور خلفائے راشدین ان کے بعد دیگر علماء و خطباء بھی استعمال کرتے آئے ہیں مگر آج کل بعض خطیب حضرات سستی کی بنا پر یا کسی اور وجہ سے استعمال نہیں کرتے، اسٹینڈ کو عصا نہیں کہ سکتے۔ لہٰذا اس کا سہارا لینا عصا کے قائم مقام نہیں ہے۔

۳۔ مولانا پیر محمد یعقوب صاحب قریشی ماموں کانجن:

(۱) قرآن مجید کا استماع ضروری ہے۔ مذکورہ صورت میں فہم وتعلم کی غرض سے قرآن کو کھول کر بیٹھنے میں کون سا حرج ہے؟ نیز استماع میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہٰذا بدعت کیسے؟

(۲) قرآن مجید لیٹ، بیٹھ اور کھڑے ہو کر پڑھا جا سکتا ہے، اگر بیٹھا ہوا انسان سامنے تختی پر قرآن مجید رکھ کر پڑھ سکتا ہے تو کھڑا انسان اسٹینڈ پر رکھ کر کیوں نہیں پڑھ سکتا؟ نیز عصا (لاٹھی) کا سہارا لیا جاسکتا ہے تو پھر اسٹینڈ کا کیوں نہیں لیا جا سکتا؟ کوئی حرج نہیں۔

۴۔ راقم الحروف:

(۱) تعلیم وتعلم میں ہر اس طریقہ اور سہولت سے استفادہ جائز ہے جو طریقہ اور سہولت شرعی حکم کے خلاف نہ ہو اور یہ استفادہ بدعت نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس سے غرض احداث فی الدین نہیں، بلکہ حصول دین اور اس کی تفہیم واخذ مراد ہے۔ لہٰذا بلا شبہ مدرس کے سامنے مصاحف کھول کر بیٹھنا جائز ہے۔ قرآن مجید میں لفظ لیتفقھوا کے عموم سے بھی اس کا جواز جھلک رہا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے غلام ذکوان کی اقتدا میں نماز پڑھ لیا کرتی تھیں اور حضرت ذکوان مصحف شریف سے دیکھ کر قرأت کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو صحیح بخاری:

وَکَانت عائشه یؤمھا عَبْدُھَا ذَکْرَانُ مِن المُصْحَفِ۔ (ص۹۶ ج۱ باب امامة العبد والمولی۔)

حضرت ابن ابی داؤد اس اثر کو اپنی کتاب ’’المصاحف‘‘ میں موصولا لائے ہیں۔ (فتح الباری: ج۲، ص۱۸۴، نیل الاوطار، ج۳ ص۱۸۴)

اس اثر کے علاوہ امام محمد نصر مروزی نے اور بھی آثار نقل کیے ہیں چند ایک یہ ہیں:

سئل ابن شھاب عن الرجل یوم الناس فی مصحف قال ما زالوا یفعلون ذلك منذ کان الاسلام کان خیارتا یقرؤن فی المصاحف (قیام اللیل مروزی)

’’امام ابن شہاب زہری تابعی سے سوال ہوا کہ قرآن مجید دیکھ کر امامت کا کیا حکم ہے؟ تو فرمایا: جب سے اسلام شروع ہوا ہمیشہ علماء کا قرآن مجید دیکھ کر امامت پر عمل رہا ہے۔ ہمارے بہتر لوگ امامت میں قرآن مجید دیکھ کر پڑھتے تھے۔‘‘

إبراھیم بن سعید عن ابیه انه کان یامرہ ان یقوم باھله فی رمضان ویامرہ ان یقرءلھم فی المصحف ویقول اسمعنی صوتك۔ (قیام اللیل مروزی)

’’ابراہیم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اس کو حکم دیتے کہ اپنے اہل کو لے کر ماہ رمضان میں قیام کرے اور حکم دیتے کہ قرآن مجید دیکھ کر پڑھے اور فرماتے کہ اتنا بلند آواز سے پڑھ کہ مجھے تیری آواز سنائی دے۔‘‘

ان آثار سے معلوم ہوا کہ نماز ایسی مہتم بالشان عبادت میں امامن بھی مصحف سے دیکھ کر، یعنی قرآن مجید سامنے رکھ کر قراءت کر سکتا ہے تو پھر خارج از نماز درس قرآن مجید میں مدرس کے سامنے قرآن کھول کر بیٹھنا کیوں جائز نہیں؟ اگرچہ ان آثار کو زیر نظر مسئلہ سے براہ راست تعلق نہ ہو، تاہم ادنیٰ مناسبت ضرور ہے۔ بہرحال میرے ناقص علم میں ایسی کوئی نقل موجود نہیں ہے کہ جس سے مدرس کے سامنے قرآن کھول کر بیٹھنا بدعت کے زمرے میں آتا ہو اور پھر علمائے سلف اور خلف کا اس پر تعامل مزیدک برآں ہے۔

 (۲) خطبہ جمعہ کا ہو یا عید کا، خطیب کے لیے اپنی جسمانی راحت کے لئے کسی چیز کا سہارا لینا جائز بلکہ سنت ہے۔ اور مندرجہ ذیل احادیث میں اس کا ثبوت ملاحظہ فرمائیں:

عَنِ الْبَرَاءِ أن النبیﷺ نُوول یَوْمَ العید قوسا فخطب علیه۔ (سنن ابی داؤد بحواله مشکوة، باب صلوة العیدین، ص۱۲۶)

’’حضرت براء سے مروی ہے کہ عید کے دن رسول اللہﷺ کوکمان پکڑائی گئی اور آپ نے اس کے سہارے خطبہ عید  ارشاد فرمایا۔‘‘

۲۔ عَنْ جابر قال شھدت الصلوة مع النبیﷺ فِیْ یَوْمِ عِیْدٍ فَبَدَاً بالصلوة قام متکئا علی بلال فحمداللہ واثنی علیه الخ۔ (رواہ النسائی، مشکوۃ: ص۱۲۶)

’’جناب رسول اللہﷺ نے بغیر اذان اور اقامت کے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی اور پھر بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر خطبہ عید ارشاد فرمایا۔‘‘

۳۔ عَن عطاء مرسلا ان النبیﷺ کَانَ إِذَا خَطَبَ یَعْتَمِدُ عَلیٰ عَنزته اعتمادا۔ (رواہ الشافعی، مشکوة ص۱۲۶)

’’جناب عطاء بن تابعی سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہﷺ خطبہ دیتے وقت اپنے برچھے پر اعتماد، ٹیک لگایا کرتے تھے۔‘‘

ان تینوں روایات سے معلوم ہوا کہ خطیب خطبہ پڑھتے وقت کسی چیز کا سہارا لے سکتا ہے اور اصل علت سہارا لینا ہے، کمان برچھی وغیرہ کی حیثیت ثانوی ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ خطبہ دیتے وقت اسٹینڈ پر ٹیک لگانا اور اس پر کتابیں رکھنا جائز ہے۔ بدعت ہونے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ بشرطیکہ اسٹینڈ پرتکلف، فریب نظر اور دلآویز نہ ہو کہ بجائے خطیب کی طرف توجہ دینے کے لوگوں کی نگاہیں اس اسٹینڈ پر لگی رہیں۔ تاہم کمان اور چھڑی پر ٹیک لگانا سنت اور افضل ہے، اسٹینڈ پر محض جواز ہے۔ واللہ اعلم۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص291

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ