سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(260) ایسی صورت میں ماں باپ کی اطاعت کے لئے کیا حکم ہے؟

  • 14110
  • تاریخ اشاعت : 2015-06-17
  • مشاہدات : 608

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ڈنمارک سے غلام حسین خاں لکھتے ہیں۔ تقریباً دس سال میں اور میرے بہن بھائیوں اور والدہ صاحبہ نے  ہمارے والد سے تعلق الگ کرلیا ہے۔ کیونکہ انگلینڈ آنے کے بعد وہ بدل گئے اور ایک ایسے ماحول میں پڑگئے جہاں اسلام سختی سےمنع کرتاہے یہاں تک کہ اب میں تو انہیں خط لکھنا توہین سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ ان میں نہ اب شرم ہے نہ ایمان اورنہ خدا کا ڈر۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کا اور آپ کے بہن بھائیوں کا اپنے والد سے اورآپ کی والدہ صاحبہ کا اپنے خاوند سے یہ قطع تعلق الحب للہ والبغض للہ کےمطابق ہے اور پھر رسول اکرم ﷺ کےفرمان کےمطابق ’’لاطاعة لمخلوق فی معصیة الخالق‘‘ (مشکوٰة الالبانی کتاب الامارة والقضاء ص ۱۰۹۲ رقم الحدیث ۳۶۹۶)

’’جہاں خالق کی نافرمانی ہوتی ہو وہاں مخلوق میں سے کسی کی اطاعت جائز نہیں۔‘‘

چونکہ ان کے ساتھ رہنے میں غلط ماحول کی وجہ سے آپ یا آپ کےبہن بھائیوں کےبگڑنے کا بھی خطرہ تھا اس لئے علیحدگی میں ہی خیروعافیت تھی۔

لیکن دوباتوں کا خیال آپ کو اب بھی رکھنا ہوگا۔ ایک تو یہ کہ آپ کو اپنے والد کو راہ راست پر لانے کی کوشش جاری رکھنی چاہئے اور سنت ابراہیمی پر عمل کرتےہوئے انہیں راہ حق پر لانے کےلئے  پورا زور صرف کرنا چاہئے۔

دوسرا یہ کہ والد ہونے کے ناطے آپ ان کا ادب واحترام ’یا اگر وہ معذور ہوجائیں تو ان کی خدمت کرنا یہ آپ کےلئے بہرحال ضروری ہے۔ الا یہ کہ وہ خود آپ کو اس چیز سےمنع کردیں  ۔ اس لئے جہاں تک آپ سےہوسکے ان کےساتھ حسن سلوک کابرتاؤ کیجئے۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص554

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ