سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(329) سود والے مکان فروخت کریں

  • 14087
  • تاریخ اشاعت : 2015-06-17
  • مشاہدات : 332

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جن لوگوں نے مکانات خریدے ہوئے ہیں وہ سود دیتے ہیں لیتے نہیں۔ مگر سود تو حرام ہے۔ اب کچھ مسلمان وہ مکان فروخت کرکے کونسل کا مکان لینا چاہتے ہیں مگر انہیں مکان ایسی جگہ ملتے ہیں جو دور ہے یا خراب علاقہ میں ہے ایسے آدمی کو سود دیتے رہنا چاہئے یا کیا کرنا چاہئے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سود کی حرمت کے بارےمیں صراط مستقیم میں مفصل بیان ہوچکا ہے۔ مکان خریدنے یا تبدیل کرنے کے سلسلے میں بھی اگر سود دینا پڑتا ہے تو وہ بہرحال  ناجائز ہے۔ سود دینے اور لینے والے شریعت میں دونوں سخت گناہ گار ہیں جہاں تک مجبوری کا تعلق ہے تو اس بارےمیں ہر شخص خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ کس قدر مجبور ہے اگر اسے مکان نہ کرائے پر ملتا ہے نہ خریدنے کی طاقت ہے اور اسے سردی یا گرمی سے مرنے کاخطرہ ہے تو ایسی مجبوری میں تو حرام کا استعمال جائز ہے۔ لیکن مکان کونسل دور دیتی ہے یا نزدیک ’ یہ کوئی مجبوری نہیں۔ سود سے بچنا مقصود ہے تو مکان جہاں بھی ملے حاصل کرنا چاہئے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص515

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ