سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(296) گیارہویں شریف مستحب ہے؟

  • 14054
  • تاریخ اشاعت : 2015-06-16
  • مشاہدات : 698

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لندن سے محمد عبداللہ پوچھتے ہیں کہ جنگ اخبار میں کسی صاحب نے گیارہویں شریف کو مستحب قرار دیا ہے ۔ آپ بھی اس پر روشنی ڈالیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حضرت محبوب سبحانی شیخ عبدالقادر جیلانی چھٹی ہجری کے وہ عظیم بزرگ گزرے ہیں جن کی ذات اقدس سےامت محمدیہ نے بہت فیض حاصل کیا اور انہوں نے سنت نبوی کی اشاعت کےلئے گراں قدر خدمات انجام دیں وہ خود بھی عمل بالحدیث ہی کو افضل سمجھتےتھے اور دوسروں کو عمل بالحدیث کی تلقین کرتےتھے جس پر ان کی معرکہ آراء کتاب غنیۃالطالبین بھی گواہ ہے۔ اللہ کی نیک بندوں کا احترام اور ان سےمحبت کو ہم ایمان جزو سمجھتے ہیں اور اولیاء اللہ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو ہم اللہ تعالیٰ کا دشمن سمجھتےہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک اولیاء اللہ کی محبت کا صحیح معیار یہی ہے کہ کتاب وسنت کی روشنی ان کی اتباع کی جائے اور جن چیزوں سے ان بزرگوں نےمنع کیا ہے’ان سے باز رہا جائے اس کے علاوہ محبت کا اور کوئی معیار مقرر نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ انبیاء میں سے ہیں مسلمان ان کو اللہ کا مقدس رسول مانتے ہیں مگر عیسائیوں  نے محبت میں اتنا غلو کیا کہ انہیں خدا کابیٹا بنا دیا اب جو مسلمان حضرت عیسیٰ کو عیسائیوں کی طرح نہیں مانتا یا ان کو خدا کا بیٹا نہیں مانتا تو عیسائی کہتے ہیں تم عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں مانتے اور ان کا رتبہ گھٹاتے ہو۔ اسی طرح آج کل مسلمانوں کا ایک گروہ ان لوگوں پر اولیا ء اللہ کی توہین کا الزام لگادیتاہے جو ان کے خود تراشیدہ عقیدے کو نہ مانے یا جو محبت کے اس معیار کو تسلیم نہ کرے جو انہوں نے خود قائم رکھا ہے۔

(۱)گیارہویں کے بارے میں جو دلائل دیئے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے وصال کا دن ہے اور یوم وضال منانا جائز ہے۔ ہمارے نزدیک اس کاکوئی ثبوت نہیں۔ اگر گیارہویں کی طرز کا کسی نیک آدمی کا یوم وصال منانا کوئی نیکی کا کام ہوتا تو ہمارے آقا حضرت محمدﷺ پہلے انبیاء کا یوم وصال اس اندازے سےمناتے جس طرح آج کل گیارہویں منائی جارہی ہے مگر اس چیز کا کسی کے ہاں کوئی ثبوت نہیں اور اگر یہ کہاجائے کہ آج کے دور میں ہمیں برزگوں کے یوم وصال منا کر ثواب حاصل کرنے کی بہت ضرورت ہے ان لوگوں کو اس کی حاجت نہ تھی تو پھر سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ سے پانچ  چھ  سو سال پہلے کیا کوئی ایسا بزرگ نہیں گزرا جن کا ہم یوم وصال مناسکیں؟ رسول اکرمﷺ پھر خلفاء راشدین اور پھر صحابہ کرام کی عظیم جماعت ان سب کو چھوڑ کر آخر ہم صرف شاہ جیلانی ؒ کا یوم وصال کیوں مناتےہیں؟ اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ گیارہویں تو ہر مہینے کو دی جاتی ہے جب کہ یوم وصال سال میں ایک بار گزرتا ہے اور اس کے علاوہ تاریخ میں شاہ صاحب کی تاریخ وصال پر بھی اتفاق نہیں۔ ۸’۹’۱۱’اور ۱۷ مختلف روایات ہیں۔

(۲)جہلا کا ایک گروہ تو اسے کھلم کھلا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام کی نذرونیاز قرار دیتا ہے اور وہ برملاکہتے ہیں کہ ہم نے شاہ جیلانی کے نام کی گیارہویں پکائی یعنی ان کےنام کی نذر کی۔ اس کے حرام ہونے میں تو کوئی شبہ نہیں کیونکہ یہ غیر اللہ کےنام کی ہے اور نذرونیاز یہ ایک مالی عبادت ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے جیسے التحیات کے الفاظ میں صراحت ہے کہ التحیات للہ والصلوات والطیبات تمام قولی بدنی اور مالی عبادتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔

(۳)جہلا کا ایک گروہ کہتا ہے کہ گیارہ تاریخ کو ہم اس لئے گیارہویں دیتےہیں کہ شاہ صاحب نے گیارہ سال کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو نکالاتھا۔ یہ محض ایک بے اصل اور بے سند حکایت ہے جسے کوئی بھی عالم بیان نہیں کرسکتا اور کوئی سمجھ دار آدمی ایسی گپ کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہےکہ یہ رسم ثواب کےلئے ہے تو پھر ثواب کسی کو  بھی پہنچانے کے لئے دن یا تاریخ کا مقرر کرلینا اپنی طرف سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور نہ ہی ایصال ثواب کےلئے کھیر یا کسی اچھے کھانے کی شرط ہے۔ معلوم یہی ہوتا ہے کہ یہ بھی رسم ہے جس کا تحفظ مذہبی بہروپیوں کے ایک گروہ نے اس لئے کیا کہ اس طرح ان کا کاروبار خوب چمک رہاہے۔ختم یا چہلم تو گاہے بگاہے ہوتے ہیں ’برسی یا سالگرہ کےلئے بھی سال بھر انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن کوئی مرے یا نہ مرے گیارہویں شریف تو ہر مہینے آہی جاتی ہے اس سے تو فرار نہیں لہٰذا سادہ لوح مسلمان اس رسم کی پابندی بڑے ڈور فکر سے کرتےہیں’ چاہے و فرائض و واجبات سے غافل ہوں۔اب ایک چیز جو پانچ  چھ سوسال بعد وجود میں آئی اسے مستحب کہناجہالت نہیں تو اور کیا ہے؟

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص450

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ