سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(239) تجارتی پلاٹ پر زکوۃ

  • 13997
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-22
  • مشاہدات : 1519

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے تین سال پہلے ایک پلاٹ لیا تھا جس میں نیت یہ تھی کہ جب اس کا ریٹ بڑھے گا تو اسے بیچ کر اور لے لوں گا،اس پر میں الحمدللہ زکوۃ دیتا ہوں،اور اس کی مالیت اس وقت تقریبا ٨ لاکھ ہے،میں ابو ظہبی میں جاب کرتا ہوں میرے پاس اس پلاٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے،نہ ہی کوئی باپ دادا کی جائیداد اور نہ کچھ اور البتہ بینک میں ٥٤ ہزار ہیں،مجھے ہارٹ کی پرابلم ہے جسکی وجہ سے میری نیت یہ ہے کہ جب صحت زیادہ خراب ہو گی تو پاکستان جا کر یہ پلاٹ بیچ کر کوئی کام کروں گا، اب مجھے اسکی زکوۃ دینی چاہئے یا کہ نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ نے یہ پلاٹ چونکہ تجارت کی نیت سے لیا تھا ،لہذا آپ کو ہر سال اس کی زکوۃدینا پڑے گی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ