سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(178) طلاق کی صورت میں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری

  • 13936
  • تاریخ اشاعت : 2015-03-30
  • مشاہدات : 342

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
طلاق یا خلع کی صورت میں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کس کی ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

طلاق یا خلع کی صورت میں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کس کی ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شیخ صالح المنجد فرماتے ہیں:

مردوں کی بنسبت عورتوں کوبچوں کی پرورش کا زیادہ حق حاصل ہے ، اوراس مسئلہ میں اصل عورتیں ہی ہیں ، اس لیے کہ بچوں کے لیے عورتيں ہی زيادہ مشفق اوررحم کرنے والی اورچھوٹوں کی تربیت کے لحاظ سے بھی وہی صحیح اورلائق ہیں ، اوروہ پرورش اورتربیت کے معاملہ میں زيادہ صبرکرنے والی اورمشقت برداشت کرسکتی ہيں ۔

اوربالاتفاق بچہ یا بچی کی پرورش کازیادہ حق ماں کوہی حاصل ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں پرورش کرنے کی تمام شروط پائي جائيں ، اوراگرماں کہیں اورنکاح کرلے تواسے یہ حق حاصل نہيں رہے گا ۔

پرورش کرنے والے میں مندرجہ ذیل شروط کا ہونا ضروری ہے :

 تکلیف : یعنی مکلف ہو ۔

  حریۃ : یعنی وہ آزاد ہو غلام نہ ہو ۔

 عدالۃ : یعنی عادل ہو ۔

 اگربچہ مسلمان ہوتو پھر پرورش کرنے والا بھی مسلمان ہونا چاہیے ۔

 بچے کی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت وقدرت رکھے ۔

 عورت پرورش والے بچے سے کسی اجنبی مرد سے شادی شدہ نہ ہو ۔

اگر ان شروط میں کوئی شرط مفقود ہویا پھر کوئی مانع مثلا مجنون، یا پھر شادی وغیرہ پیدا ہوجاۓ توپرورش کا حق ساقط ہوجاۓ گا ۔

اورجب یہ مانع زائل ہوجاۓ توپرورش کا حق اسے دوبارہ مل جاۓ گا ، لیکن اولی اوربہتر یہ ہےکہ پرورش کیے جانے والے بچے کی مصلحت کومدنظر رکھا جاۓ اس لیے کہ بچے کا حق مقدم ہے ۔

پرورش کی مدت امتیاز اوراستغناء کی عمر تک ہے ، یعنی پرورش اس وقت تک رہے گی جب تک بچہ تمیز تک نہ پہنچ جاۓ اوردوسروں کا محتاج نہ رہے ، یعنی وہ اکیلا کھا پی سکے ، اوراسی طرح استنجا وغیرہ بھی اکیلا ہی کرسکے توپرورش کی مدت ختم ہوجاۓ گی ۔

اورجب وہ اس حد تک پہنچ جاۓ چاہے وہ بچہ ہویا بچی پرورش کی مدت ختم ہوجاۓ گی ، اوریہ تقریبا سات یا آٹھـ برس کی عمر ہے ۔

چھوٹے بچوں کی کفالت میں عورت کا حق :

فقھاء کے مذاہب سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کوبالجملہ بچے کی کفالت کا حق حاصل ہے ، اورخاص کر ماں اورنانی کو ، لیکن فقھاء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ جب والدین بچے کی کفالت میں اختلاف کریں اوردونوں کفالت کی اہلیت بھی رکھتے ہوں تواس صورت میں کفالت کا زیادہ حق کسے حاصل ہوگا ؟

مالکیہ اورظاہریہ کے ہاں توماں کوبچے کی کفالت کا زيادہ حق حاصل ہوگا چاہے وہ بچہ ہو یا بچی ۔

اورحنابلہ بچہ ہونے کی صورت میں اختیار دیتے ہیں ، لیکن اگر بچی ہوتوپھرباپ کوزيادہ حق ہے ۔

احناف کے ہاں بچہ ہوتو والدکواس کا زيادہ حق حاصل ہے ، اوراگربچی ہوتوماں کوحق کفالت زيادہ ہے ۔

ان میں سے راجح یہی لگتا ہے کہ جب وہ آپس میں تنازع کریں اورشروط کفالت بھی پائي جائيں تواس میں تخییر والا قول صحیح ہے ۔ .

دیکھیں کتاب " ولایۃ المراۃ فی الفقہ الاسلامی ص ( 692 ) ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ