سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(172) ریا کاری سے تلاوت کرنا شرک ہے؟

  • 13930
  • تاریخ اشاعت : 2015-03-09
  • مشاہدات : 494

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
گلاسکو سے الطاف حسین لکھتے ہیں
نبی اکرمﷺ کا جو یہ فرمان ہے کہ کوئی دوسرے آدمی کو دکھانے کےلئے نماز لمبی کرتا ہے کہ وہ کہے وہ اچھی نماز پڑھتا ہے تو یہ شرک ہے ۔ کیا قرآن اس نیت سے پڑھا جائے تو وہ بھی مشرک ہے؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گلاسکو سے الطاف حسین لکھتے ہیں

نبی اکرمﷺ کا جو یہ فرمان ہے کہ کوئی دوسرے آدمی کو دکھانے کےلئے نماز لمبی کرتا ہے کہ وہ کہے وہ اچھی نماز پڑھتا ہے تو یہ شرک ہے ۔ کیا قرآن اس نیت سے پڑھا جائے تو وہ بھی مشرک ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیر اللہ کی رضا  اور خوشنودی کےلئے جو بھی کام کیا جائے گا وہ شرک ہو گا۔نماز یا قرآن کی تلاوت کا مقصود اگر کسی کو خوش کرنایا اس سے ڈر کر کرناہے تو شرک کی اقسام میں سے ہے کسی انسان کو دکھاوے کےلئے نما  ز لمبی کردینا یا قرآن اونچی آواز سے پڑھناشروع کردینا اسے ہم حقیقی شرک تو نہیں کہہ سکتے  بلکہ یہ ریا کاری ہے جو اعمال کو ضائع کردیتی ہے اور دکھلاوے کے طور پر کئے جانے والے اعمال کا اللہ کے ہاں کوئی اجروثواب نہیں ۔ ایسے آدمی کو ریا کار تو کہا جاسکتا  ہے مگر مشرک نہیں کہہ سکتے۔ شرک تو دراصل اللہ ذات اور صفات میں مخلوق میں سے کسی کو شریک کرنے کا  نام ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص329

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ