سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(118) مروجہ فاتحہ بدعت ہے؟

  • 13900
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-26
  • مشاہدات : 1220

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک صاحب پوچھتے ہیں

           آپ نے شمارہ فروری مارچ میں فاتحہ خوانی  کو بدعت کہا ہے جب کہ اسی شمارے میں ڈاکٹر عبدالرؤف مرحوم کی وفات کےپیغام کےسلسلہ میں کہا ہے کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں مقام عطاکرے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے ‘ یہ بھی تو فاتحہ خوانی ہی ہوئی نا۔ وضاحت فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(مولانا عبدالہادی جواب دیتےہیں)

        فروری اور مارچ کےشمارے میں جس فاتحہ کےمتعلق کہا گیا ہے کہ وہ بدعت ہے وہ دراصل مروجہ  فاتحہ خوانی ہے جو خاص موقعوں پر اور خاص طریقے کے ساتھ ادا کی جاتی ہے اور جس میں مقرر چیزیں ہی پڑھی جاتی ہیں۔ چونکہ کتاب وسنت میں کہیں بھی اس قسم کی فاتحہ خوانی کا تذکرہ نہیں ملتا‘ لہٰذا جو چیز کتاب و سنت میں نہ ہو اور اسے کوئی دین یا کار ثواب سمجھ کروہ کرتا ہے تو اسی کا نام بدعت ہے۔

لیکن جہاں تک مرنے والوں کےلئے یا کسی انسان کےلئے دعا کرنے کا تعلق ہے یہ ایک عام سی چیز ہے اور مشکلات و پریشانیوں کے وقت یا حاجت اور ضرورت پر دعا کرنے کا قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر ذکر موجود ہے اس لئے دعاء مغفرت کو مروجہ فاتحہ خوانی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص273

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ