سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(186) وضو کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا

  • 1384
  • تاریخ اشاعت : 2012-07-02
  • مشاہدات : 804

سوال


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وضوء کے شروع میں بسم اللہ پوری پڑھی جائے یا صرف بسم اللہ پر کفایت کی جائے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

وضوء کے شروع میں بسم اللہ خواہ پوری پڑھے یا صرف بسم اللہ پر کفایت کرے دونوں طر ح جائز ہے۔ حدیث میں ہے:« لا وضوء لمن لم یذکر اسم اللہ علیہ» یعنی اس شخص کا وضوء نہیں جو اللہ کا نام نہیں لیتا۔ اس حدیث میں صرف اسم اللہ کا ذکر ہے ۔ مغنی ابن قدامہ میں ہے کہ اسم اللہ سے مراد بسم اللہ ہے اس کی تائید طبرانی کی حدیث سے ہوتی ہے جس میں ہے: «اذا توضئت فقل بسم اللہ والحمدللہ» یعنی وضو کرتے وقت بسم اللہ والحمدللہ پڑھ۔ تو بسم اللہ سے یا تو صرف بسم اللہ مراد ہے یا پوری بسم اللہ مراد ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

وضو کا بیان، ج1ص274 

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ