سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(07) امام بخاریؒ سے قبولیت دعا کی سفارش کی حقیقت؟

  • 13765
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-25
  • مشاہدات : 2982

سوال

(07) امام بخاریؒ سے قبولیت دعا کی سفارش کی حقیقت؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میڈسٹون جیل سے محمد اسلم صاحب لکھتے ہیں:

        ’’ میرے پاس بخاری شریف جلد اول ہے اس کتاب میں امام بخاریؒ کی زندگی کےحالات بعنوان’’حرف آغاز‘‘ میں بتائے گئے ہیں اور آخر میں مزار بخاری کی برکات کےبعد تحریر فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ کی نماز جنازہ کے بعد جب ان کی قبر پر مٹی ڈالی گئی تو مدت تک اس سے مشک کی مہک آتی رہی اور عرصہ دراز تک لوگ اس مٹی کو بطور تبرک لے جاتے رہے۔

ابو الفتح سمر قندی بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری کےانتقال کے دو سال بعد ثمرقند میں خشک سالی کی وجہ سے قحط نمودار ہوگیا۔لوگوں نے بارہا نماز استسقاء پڑھی دعائیں مانگیں مگر بارش نہ ہوئی۔ آخر ایک مرد صالح قاضی شہر کے پاس گیا اور اس کو مشورہ دیا کہ تم شہر کے لوگوں کو امام بخاری کی قبر پر لےجاؤ اور وہاں جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو’ شاید اللہ تعالیٰ قبول کرلے۔ قاضی نے مشورہ قبول کرلیا۔ شہر کے لوگوں نے قبر پر جا کر گریہ وزاری کی اور خشوع و خضوع سے دعا مانگی اور امام بخاری سے قبولیت دعا کی سفارش کی درخواست کی ۔ اسی وقت بادل امڈ آئے اور سات دن تک لگاتار بارش ہوتی رہی۔

اب اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر دعا قبول نہ ہو تو کسی ولی کی قبر پر دعا مانگی جاسکتی اور اس سے سفارش کی درخواست کی جاسکتی ہے۔ جب کہ آپ کےُُ’’صراط مستقیم ‘‘ میں اکثر پڑھا ہے کہ قبروں پر جانا ’ وہاں دعا کرنا اور وسیلہ بنانا ناجائز ہے۔ مجھ سے میرے دوست بحث کرتے ہیں کہ تم تو قبروں پر جانے کے خلاف ہو جب کہ حدیث کی کتاب میں یہ بات لکھی ہے کہ قبروں پر جاکر دعا مانگ سکتے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں کہ کتاب ضرور حدیث شریف کی ہے مگر مزار کا واقعہ کوئی حدیث نہیں ہے۔ اگر لوگوں نے مزار پر جانا شروع کردیا تو اس سے یہ بات کوئی جائز نہیں ہوجاتی۔ اس لئے براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام بخاری ؒ کے بارے میں اسلم صاحب نے جو واقعہ نقل کیا ہے۔ اس واقعے کے بارے میں یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ یہ واقعہ بخاری شریف کا نہیں اور نہ ہی اسے حدیث کہا جاسکتا ہے۔ بلکہ جن لوگوں نے امام بخاریؒ کی سیرت لکھی ہے اور ان کی زندگی سے متعلق مختلف واقعات بیان کئے ہیں۔ انہوں نے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے جس کا تعلق ان کی وفات کے بعد ان کی قبر سے ہے۔

دوسری یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ دین اور شریعت میں کسی مسئلے کے ثبوت کےلئے اصل دلیل اور حجت کے طور پر قرآن و حدیث ہی پیش کئے جاسکتے ہیں ۔ ان کے علاوہ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی وہ بات قابل قبول ہو گی جو قرآن و سنت کے مطابق ہوگی ان کی جو بات دین کے ان دو بنیادی سر چشموں یعنی قرآن و حدیث سے متصادم ہو گی وہ شرعی طور پر قابل قبول نہ ہوگی۔ چاہے اس بات کا تعلق کسی کی زندگی سے ہو یا ان کے مرنے کے بعد وہ واقعہ ظہور پذیر ہوا ہو۔

اب بخاری کی جلد اول کے مقدمے میں امام بخاری کی سیرت کےضمن میں جو واقعہ نقل کیا گیا ہے اور مراسلہ نگار نے بھی تحریر کیا ہے اس میں دو باتوں کا ذکر ہے

اول: امام بخاریؒ کی قبر کی مٹی سے خوشبو آنا۔

دوم:  امام بخاری کی قبر پر جاکر لوگوں کا دعا کرنا اور امام بخاری کی سفارش سے دعا کا قبول ہونا۔

(۱)پہلی بات تو یہ ہے کہ دونوں ہی تاریخی واقعات ہیں۔ ان کی صحت تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ قرآن و حدیث کی طرح ہمارے لئے دلیل نہیں بن سکتے۔ قبر کی مٹی سے خوشبو کا آنا ناممکنات میں سے بھی نہیں ہے لیکن  اس سے یہ بھی ہرگز ثابت نہیں ہوتا  کہ جس قبر کی مٹی سے خوشبو کی مہک آئے یا کوئی دوسری اچھی بات ظاہر ہو وہاں جا کر حاجتیں طلب کی جائیں۔ اگر کسی اچھی بات کا ظہور ہوتا ہے تو اس کا تعلق اس  شخصیت کے اعمال سے ہے جو اس قبر میں دفن ہے اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جس قبر سے خوشبو نہیں آتی اس میں دفن ہونے والا نیک نہیں یا اس کے اعمال اچھے نہیں ہوں گے۔ ایسے معاملات کی صحیح حکمتیں اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے۔ دنیا میں بے شمار نیکوکار اور صالحین کی قبریں اور مزارات ہیں جہاں سے خوشبو نہیں آتی یا وہاں جاکر دعا کرنے سے بارش نہیں ہوتی تو نعوذباللہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لوگ نیک نہیں تھے یا ان کے اعمال صالح نہیں تھے نیز مقصد یہ ہے کہ یہ باتیں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے بنیاد اور دلیل نہیں بن سکتیں۔

(۲)دوسری بات یہ ہے کہ قبر پر دعا کرنے سے جو بارش ہوئی اس واقعے کو اگر سچا بھی مان لیا جائے تو یہ ہمارے لئے شرعی دلیل نہیں۔ ایسے واقعات تو ہر مذہب کے ماننے والے اپنے بزرگوں ’’ مذہبی پیشواؤں‘‘ متبرک مقامات اور دوسری چیزوں کے حوالے سے سنائیں گے اور وہ آپ کو بتائیں گے کہ ہمارا فلاں کام فلاں جگہ جانے سے ہوا یا فلاں ضرورت  فلاں بزرگ کی سفارشی دعا سے پوری ہوئی۔  اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان جگہوں پر دوڑنا شروع کردیں۔ ہمارے دین کی اساس اس واقعات پر نہیں ہے بلکہ قرآن و سنت کے حقائق پر ہے مگر بد قسمتی سے آج سچے یا جھوٹے بعض واقعات کو بنیاد بنا کر مسلم معاشروں میں شرک پر ستی کی بے شمار شکلیں پیدا کر دی  گئی ہیں۔ مذکورہ واقعہ بھی ایسے واقعات میں سے ایک ہے۔ کسی قاضی شہر کے کہنے یا بادشاہ کے کرنے سے یا لوگوں کےامام بخاریؒ کے مزار پر جانے سے شریعت کا کوئی مسئلہ ثابت ہو جاتا اور بعض اوقات یہ لوگوں کے لئے آزمائش بھی ہوتی ہے اور اللہ کی طرف سے ان کے عقائد کاامتحان بھی ہوتا ہے کہ وہ ایک اللہ کے در پر دھونی مار کر بیٹھتے ہیں یا ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیں گے۔ ہمارے لئے دلیل تو تب بنتی جب نبی کریمﷺ کی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ بیان کیا جاتا یا کم ازکم صحابہ کرامؓ کے دور کے واقعات بتائے جاتے کہ وہ بارش کے لئے یا دوسری ضرورتوں کےلئے آنحضرتﷺ کی قبر مبارک پر جاکر دعائیں کیا کرتے تھے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ امام بیہقی نے اپنی سنن میں اور امام ابن تیمیہؒ نے ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ میں یہ واقعہ ذکر فرمایا ہے کہ:

’’ حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں جب تستر فتح ہوا تو ہرمز کے خزانے میں ایک نعش تھی (جو دانیال کی طرف منسوب تھی) اور اسے قحط کے ایام میں باہر نکالا جاتا تھا تو بارش ہوجاتی تھی ۔ حضرت عمرؓ کے حکم سے ایک دن میں تیرہ  قبریں نکالی گئیں۔ رات کے وقت انہیں دفن کے کے سب قبریں برابر کردیں گئیں تا کہ کوئی ان قبروں کو پہچان نہ سکے اور ان کی پرستش شروع نہ ہوجائے۔‘‘

جہاں تک اہل حق پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا تعلق ہے تو وہ زندوں پر بھی ہوتی ہے اور مردوں پر بھی۔ دانیال پر بھی ہوسکتی ہے اور آنحضرت ﷺ پر بھی۔ تمام انبیاء اور صلحاء اس رحمت سے فائدہ مند ہوتے ہیں بلکہ ہم جیسے گناہ گار بھی اسی رحمت کے سہارے جی رہے ہیں ۔ جہاں تک قبر پرستی کے لئے استدلال کا تعلق ہے دانیال سے نہ اس وقت کسی نے استغاثہ کیا اور نہ اب درست ہے۔ بلکہ حضرت عمر نے اس قبر کو اس قدر مخفی فرمادیا کہ نہ اس وقت کوئی اسے معلوم کرسکا اور نہ اج ہی کسی کو اس کا علم ہے۔

اسے گم کردینا دلیل ہےکہ صحابہ کرامؓ قبر کے ساتھ استعانت اور استغاثہ کے تعلق کو ناجائز سمجھتے تھے۔

حضرت عمرؓ کے حکم سے ایسا ہوا اور ایک صحابی نے بھی اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے مشرکانہ افعال کے خلاف صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے ورنہ وہ جب کسی چیز کو ناپسندیدہ فرماتے تھے تو حضرت عمر سے بھی کھلے طور پر کہہ دیتے تھے۔ (بحوالہ’’ زیارت قبور‘‘ از:مولانا سلفی)

اس لئے قبروں پر مدد طلب کرنے اور حاجتیں پوری کرنے کےلئے مشکلیں حل کروانے کے لئے جانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ حضور اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ نے جس قسم کی زیارتیں بتائی ہیں ان میں موت یاد کرنے کےلئے قبروں کی زیارت  قبر میں دفن شخص کے لئے بخشش کی دعا کرنا شامل ہیں۔

زیارت قبور کی جو شکلیں سنت سے ثابت نہیں’ انہیں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

 ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص59

محدث فتویٰ

تبصرے