سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(202) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دریائے نیل

  • 13723
  • تاریخ اشاعت : 2015-02-02
  • مشاہدات : 288

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ واقعہ صحیح ہے کہ دریائے نیل نے جب بہنا بند کردیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف خط لکھا تھا۔ جب دریائے نیل میں آپ کا خط ڈالا گیا تو دریا کا پانی دوبارہ جاری ہوگیا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ واقعہ ’’ابن لہیعۃ عن قیس بن حجاج عمن حدثہ‘‘ کی سند کے ساتھ درج ذیل کتابوں میں مذکور ہے: فتوح مصر لابن عبدالحکم (ص۱۵۰، ۱۵۱) کتاب العضمۃ لابی الشیخ (۴؍۱۴۲۴، ۱۴۲۵ ح۹۳۷) شرح اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ للالکائی (۲؍۴۰۱ ح۷۶ کرامات) وکرامات اولیاء اللہ (۶۶) [وتفسیر ابن کثیر (۳؍۴۶۴، السجدۃ: ۲۷) ومسند الفاروق (۱؍۲۲۳، ۲۲۴) البدایہ والنہایہ (۱؍۲۳)]

اس سند میں عبداللہ بن الہیعہ مدلس راوی ہے۔ (طبقات المدلسین۱۴۰؍۵)

اور رویات معنعن ہے۔ قیس بن الحجاج تبع تابعی ہے۔ اس کے استاد کا نام معلوم نہیں ہے لہٰذا یہ سند ظلمات (میں سے) ہے۔

خلاصۃ القصہ: اس قصے کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مصر فتح ہوا تو لوگوں نے سدینا عمروبن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ ہمارا (دریائے) نیل اس سال صرف اسی وقت پانی سے چلے گا جب اس مہینے کی گیارہویں رات کو ایک لڑکی اس میں پھینکی جائے گی۔ تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسلام  میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ پھر انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو امیرالمومنین نے جواب میں ایک رقعہ بھیجا جس پر لکھا ہوا تھا: ’’اللہ کے بندے عمر کی طرف سے دریائے نیل کی طرف! اگر تو خودبخود بہتا تھا تو نہ بہہ اور اگر تجھے بہانے والا اللہ ہے تو میں اللہ واحد قہار سے دعا کرتا ہوں کہ تجھے چلادے۔‘‘ جب رقعہ دریا میں ڈالا گیا تو وہ دس ہاتھ بلند ہوکر بہنے لگا۔

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت ضعیف و مردود ہے لہٰذا یہ سارا قصہ بے بنیاد و باطل ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص471

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ