سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(196) جریج راہب کا قصہ

  • 13717
  • تاریخ اشاعت : 2015-02-01
  • مشاہدات : 1446

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(۱)میں نے ایک قصہ اپنے شہر کی مسجد میں سنا تھا، عبداللہ بن مبارک اور عورت کا جو ہر بات کا جواب قرآنی آیت سے دیتی ہے اللہ کا شکر ہے آپ کی کتاب سے مجھے اس قصے کی حقیقت کا پتا چلا اب ایک بار پھر ایک قصہ سننے کو ملا میں نے کہا: چلو آپ سے معلوم کیا جائے اس بہانے آپ سے رابطہ شروع ہوجائے گا، قصہ یوں ہے کہ ایک شخص ’’حضرت جریج‘‘ نامی ایک بار نماز پڑھ رہا تھا، ماں نے اسے آواز دی لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا باربار آواز دینے پر جواب نہ آیا تو ماں نے بددعا دی کہ تو بدنامی کا منہ دیکھے کچھ عرصے بعد ایک عورت نے الزام لگایا اس کا بچہ ان سے ہے، آپ پریشان ہوئے اور اللہ سے توبہ کی اور بچے کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا تو کس کا بچہ ہے کچھ دنوں کے بچے نے ایک آدمی جو چرواہا تھا کی طرف اشارہ کیا یہ میرا باپ ہے۔ اب مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ قصہ سچا ہے یا جھوٹا اسلام کے بعد کا ہے یا قبل کااور اس کے راویوں کا کیا معاملہ ہے؟

(۲)اور ایک بات کہ میرے چچا کے بیٹے نے اپنی بیٹی کا نام ’’مشائم‘‘ رکھا ہے وہ کہتا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کی دوبیٹیاں تھیں ایک (کا) نام مشائم اور ایک (کانام) عمرائم تھا، آپ سے یہ پوچھنا ہے کیا واقعی ان کی دو بیٹیاں تھیں اور کیا یہ نام عربی کے ہیں یا عبرانی کے کیونکہ مجھے کسی نے کہا ہے کہ ان کے دو بیٹے تھے۔‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱)بنی اسرائیل کے راہب جریج اور ان کی ماں والا قصہ صحیح سند سے ثابت ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جریج اپنی کوٹھڑی نما عبادت خانے میں عبادت کررہے تھے کہ ان کی والدہ تشریف لائیں۔ حمید(بن ہلال، راویٔ حدیث) نے کہا کہ ابورافع (راویٔ حدیث) نے ابوہریرہ(رضی للہ عنہ) سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جریج کی والدہ کی حاجت بیان کی کہ کس طرح اس نے اپنی پلکوں پر ہتھیلی رکھ کر، پھر سر اٹھا کر اپنے بچے کو آواز دی تھی۔ اس نے کہا: اے جریج! میں تیری ماں ہوں، مجھ سے بات کر۔ جریج نماز پڑھ رہے تھے۔ جریج نے (اپنے دل میں) کہا: اے میرے اللہ! ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے؟!

پس جریج نے نماز پڑھنی جاری رکھی تو ان کی والدہ واپس لوٹ گئیں۔ پھر وہ دوسری دفعہ آئیں اور کہا: اے جریج! میں تیری ماں ہوں مجھ سے بات کر۔ جریج نے کہا: اے میرے اللہ! ایک طرف میری ماں ہے اور دوسری طرف میری نماز ہے؟ ! پھر وہ نماز پڑھتے رہے تو ان کی ماں نے کہا: اے میرے اللہ! یہ جریج میرا بیٹا ہے، میں اس سے بات کرتی ہوں مگر یہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا۔ اے اللہ! اس کو اس کے مرنے سے پہلے بدکار عورتوں کا چہرہ دکھا دے۔ (راوی نے) کہا: اگر وہ جریج کے فتنے میں مبتلا ہونے کی دعا کرتیں تو وہ فتنے میں مبتلا ہوجاتے۔ فرمایا کہ : بھیڑوں کا ایک چرواہا، جریج کے عبادت خانے کے قریب رہتا تھا، اس نے (ایک دن) اس گاؤں کی ایک عورت کے ساتھ زنا کرلیا جس سے اسے حمل ہوگیا۔ پھر جب اس کا بچہ پیدا ہوا تو لوگوں نے پوچھا: یہ کس کا بچہ ہے؟ اس عورت نے کہا: اس عبادت خانے والے (جریج) کا بچہ ہے۔

لوگ کدالیں اور پھاوڑے لے آئے اور جریج کو آواز دی۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ جریج نے لوگوں سے کوئی بات نہیں کی تو لوگ اس کے عبادت خانے کو گرانے لگے۔ جب جریج نے یہ معاملہ دیکھا تو اتر کر لوگوں سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اس عورت سے پوچھو۔

جریج مسکرائے پھر اس عورت کے (دوتین دن کے) چھوٹے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا: تیرا باپ کون ہے؟ اس نے جواب دیا: بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ جب لوگوں نے (باتیں نہ کرسکنے والے بچے سے) یہ سن لیا تو (جریج سے) کہا: ہم آپ کے لیے سونے چاندی کا عبادت خانہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا: نہیں، جس طرح پہلے یہ مٹی کا تھا اسی طرح بنادو۔ پھر وہ اپنے عبادت خانے پر چڑھ گئے۔ (صحیح بخاری: ۳۴۳۶ و صحیح مسلم: ۲۵۵۰ وترقیم دارالسلام:۶۵۰۸ واللفظ لہ)

یہ قصہ بالکل سچا ہے اور زمانۂ اسلام سے پہلے، بنی اسرائیل کے دور کا ہے، اس کے سارے راوی اعلیٰ درجے کے ثقہ اور قابل اعتماد ہیں۔

(۲)سیدنا یوسف علیہ السلام کے دو بیٹوں (۱)افراہیم اور (۲)منشا کا ذکر بغیر کسی سند کے تاریخ ابن جریر الطبری (ج۱ص۳۶۴) میں موجود ہے۔

عمرائیم اور مشائم (بیٹیوں) کے نام مجھے کہیں نہیں ملے اور نہ سیدنا یوسف علیہ السلام کی دو بیٹیوں کا کہیں ثبوت ملا ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں دلیل نہ ہونے کی وجہ سے مکمل سکوت میں ہی فائدہ ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص458

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ