سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(168) جبری طلاق

  • 13689
  • تاریخ اشاعت : 2015-01-24
  • مشاہدات : 605

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے تین سال پہلے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ لیکن ڈیڑھ سال پہلے اپنے والدین کی ضد کی وجہ سے میں کچہری گیا جہاں وکیل نے ایک کاغذ تیار کیا ہوا تھا جس میں جھوٹ لکھا گیا کہ عورت کے خلع کے مطالبے پر یہ طلاق دی جارہی ہے۔ اور اس میں تین طلاقیں اکٹھی لکھ دی گئی تھیں۔ لیکن میری بیوی نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اور پھر میں اسلام اآباد میں اپنی نوکری پر آگیا اور میری بیوی بھی ایک ہفتے بعد میرے پاس آگئی اور ہم تب سے اب تک اکھٹے رہ رہے ہیں۔ اس دوران میرے والدین نے میری ایک اور جگہ شادی کردی اور نکاح کرنے کے بعد اکیلے میں بلا کر مجھ سے دوسرے نکاح فارم پر طلاق یافتہ لکھوا لیا۔کیا میری طلاق ہوچکی ہے یا نہیں۔میری پہلی بیوی نے کبھی طلاق وصول نہیں کی۔ اور ہم دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں۔برائے مہربانی راہنمائی کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کی بیوی نے خلع کا مطالبہ نہیں کیا تھا (بلکہ یہ آپ کے والدین کے کہنے پر وکیل کی کاروائی تھی) لہذا خلع تو نہیں ہوا ہے۔دوسری بات یہ ہےکہ اگر آپ سے زبر دستی یہ کام کروایا گیا ہے تو اس کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے ،اور کوئی ایک بھی طلاق نہیں ہوئی ہے،کیونکہ جبری طلاق واقع نہیں ہوتی ہے۔لیکن اگر آپ والدین کے کہنے پر تیار ہوگئے اور آپ نے وکیل کے تیار کردہ طلاق ثلاثہ کے اوراق پر دستخط کر دئیے تو اب آپ کی طرف سے ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے۔جس کے بعد رجوع کیا جا سکتا ہے۔اور آپ نے جو ایک ہفتے کے بعد اکٹھا رہنا شروع کردیا تھا وہ آپ کا رجوع درست تھا،اور اب آپ کا اکٹھے رہنا بھی درست ہے۔لیکن اب آپ کے پاس طلاق کے صرف دو اختیار باقی ہیں ۔کیونکہ ایک طلاق آپ کی واقع ہو چکی ہے۔باقی والدین کا آپ کو طلاق یافتہ لکھوانےیا آپ کی بیوی کی طرف سے وصول نہ کرنے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔مزید تفصیل کے لئے فتوی نمبرپر(5265)کلک کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ