سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(134) کیا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تدلیس کرتے تھے؟

  • 13655
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-25
  • مشاہدات : 673

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

درج ذیل کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ امام شعبہ فرماتے تھے:

’’کان ابو هریرة یدلس‘‘ یعنی ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) تدلیس کرتے تھے۔

سیر اعلام النبلاء (۶۰۸/۲ ت۱۲۶) البدایہ والنہایہ لابن کثیر (۱۱۲/۸ قال: ذکرہ ابن عساکر) دفاع عن ابی ہریرہ (ص۱۲۵ تصنیف: عبدالمنعم صالح العلی العزی) الانوار الکاشفہ (۱۶۳ تصنیف: عبدالرحمن بن یحییٰ المعلمی)

یہی قول ماہنامہ ’’دعوت اھل حدیث‘‘ ج۴ شمارہ:۳، رجب ۱۴۲۵ھ بمطابق ستمبر ۲۰۰۴ء میں ص۱۸ پر بغیر کسی قوی رد کے نقل کیا گیا ہے۔ کیا یہ قول امام شعبہ سے باسند صحیح ثابت ہے؟ تحقیق کرکے جواب دیں اور توضیح الاحکام میں بھی شائع کردیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ قول تاریخ دمشق لابن عساکر میں درج ذیل سند کے ساتھ موجود ہے:

’’اخبرنا ابو القاسم بنالسمرقندی: انا ابو القاسم بن مسعدة: انا حمزة بن یوسف: انا ابو احمد: انا الحسن بن عثمان التستری: ناسلمة بن حبیب قال: سمعت یزید بن هارون قال: سمعت شعبة یقول: ابو هریرة یدلس‘‘ (ج۷۱ ص۲۶۶)

اس روایت میں ابو احمد سے مراد امام عبداللہ بن عدی الجرجانی ہیں اور یہ روایت ان کی کتاب الکامل فی ضعفاء الرجال میں درج ذیل سند کے ساتھ موجود ہے:

’’اخبرنا الحسن بن عثمان التستری: ناسلمة بن شبیب قال: سمعت شعبة یقول: ابو هریرة کان یدلس‘‘ (ج۱ ص۸۱)

ان دونوں روایتوں کو ملانے سے دو باتیں معلوم ہوئیں:

۱)            تاریخ دمشق میں ’’سلمہ بن حبیب‘‘ کا نام غلط چھپ گیا ہے۔

اور صحیح ’’سلمۃ بن شبیب‘‘ ہی ہے جیسا کہ الکامل لابن عدی میں لکھا ہوا ہے۔ تہذیب الکمال للمزی میں سلمہ بن شبیب کے استادوں میں یزید بن ہارون، اور یزید بن ہارون کے شاگردوں میں سلمہ بن شبیب ہی مذکور ہے۔

۲)           کامل ابن عدی میں ناسخ یا ناشر کی غلطی سے سلمہ بن شبیب اور شعبہ کے درمیان یزید بن ہارون کا واسطہ گر گیا ہے۔ شعبہ کے شاگردوں میں سلمہ بن شبیب کا نام و نشان نہیں ہے اور نہ سلمہ کی شعبہ سے ملاقات کا کہیں ثبوت ہے۔ یہ دونوں سندیں حقیقت میں ایک ہی سند ہے اور اس کا بنیادی راوی الحسن بن عثمان التستری بڑا جھوٹا (کذاب) اور سارق (چور) ہے۔ امام ابن عدی نے اس التستری کے بارے میں فرمایا: ’’کان عندی یضع و یسرق حدیث الناس، سالت عبدان الاهوازی عنه فقال: هو کذاب‘‘

وہ میرے نزدیک حدیثیں گھڑتا تھا اور لوگوں کی احادیث چوری کرتا تھا۔ میں نے عبدان الاہوازی سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: وہ کذاب (جھوٹا) ہے۔ (الکامل ج۲ ص۷۵۶)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص342

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ