سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(128) امام سفیان ثوری اور طبقۂ ثالثہ کی تحقیق

  • 13649
  • تاریخ اشاعت : 2014-12-22
  • مشاہدات : 512

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سفیان ثوری رحمہ اللہ کی تدلیس اور معنعن روایت کے بارے میں، آپ کے نزدیک راجح قول کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سفیان ثوری کے بارے میں راجح یہی ہے کہ وہ ثقہ امام اور امیر المومنین فی الحدیث ہونے کے ساتھ مدلس بھی ہیں اور آپ ضعفاء وغیرہم سے تدلیس کرتے تھے لہٰذا آپ کی غیر صحیحین  میں معنعن روایت، عدم متابعت و عدمِ تصریح سماع کی صورت میں ضعیف و مردود ہوتی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا انھیں طبقۂ ثانیہ میں شمار کرنا صحیح نہیں بلکہ وہ طبقۂ ثلاثہ کے فرد ہیں، جیسا کہ حاکم نیشاپوری نے انھیں طبقۂ ثالثہ میں ذکر کیا ہے۔ (معرفۃ علوم الحدیث ص۱۰۶، جامع التحصیل ص۹۹ و نور العینین طبع جدید ص۱۳۸)

حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’واما المدلسون الذین هم ثقات وعدول فانا لا نحتج باخبارهم الا ما بینوا السماع فیما رووا مثل الثوری و الاعمش و ابی اسحاق و اضرابهم………‘‘

اور ایسے مدلس راوی جو ثقہ و عادل تھے تو ہم ان کی احادیث سے حجت نہیں پکڑتے سوائے اس کے کہوہ تصریح سماع کریں جو انھوں نے روایت کیا ہے، مثلاً ثوری، اعمش، ابو اسحاق اور ان جیسے دوسرے……… (الاحسان ج۱ ص۹۰، دوسرا نسخہ ص۱۶۱، واللفظ لہ)

یہیہ تحقیق راجح اور صحیح ہے اور راقم الحروف نے اسےہی نور العینین اور التاسیس فی مسئلۃ التدلیس (مطبوعہ ماہنامہ الحدیث:۳۳) میں اختیار کیا ہے۔

یاد رہے کہ عبدالرشید انصاری صاحب کے نام میرے ایک خط (۱۴۰۸/۸/۱۹ھ) میں سفیان ثوری کے بارے میں یہ لکھا گیا تھا کہ

’’طبقہ ثانیہ کا مدلس ہے جس کی تدلیس مضر نہیں ہے۔‘‘ (جرابوں پر مسح ص۴۰)

میری یہ بات غلط ہے، میں اس سے رجوع کرتا ہوں لہٰذا اسے منسوخ و کالعدم سمجھا جائے، عینی حنفی لکھتے ہیں کہ ’’وسفیان من المدلسین و المدلس لا یحتج بعنعنته الا ان یثبت سماعه من طریق آخر‘‘ اور سفیان (ثوری) مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کی عن والی روایت سے حجت نہیں پکڑی جاتی الا یہ کہ دوسری سند سے سماع کی تصریح ثابت ہو جائے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص317

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ